Main Icon

حجامت کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 78

حدیث مبارکہ

حدیث 1:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْفِطْرَۃُ خَمْسٌ الْخِتَانُ وَالاسْتِحْدَادُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَتَقْلِیمُ الْأَظْفَارِ وَنَتْفُ الْإِبِطِ‘‘۔
حدیث 2:
’’عَنْ أَنَسٍ قَالَ وُقِّتَ لَنَا فِی قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِیمِ الْأَظْفَارِ وَنَتْفِ الْإِبِطِ وَحَلْقِ الْعَانَۃِ أَنْ لَا نَتْرُکَ أَکْثَرَ مِنْ أَرْبَعِینَ لَیْلَۃً‘‘۔
حدیث 3:
’’عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ نَہَی رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ تَحْلقَ الْمَرْأَۃُ رَأْسَہَا‘‘۔

حدیث 1:
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الفطرۃ خمس الختان والاستحداد وقص الشارب وتقلیم الاظفار ونتف الإبط‘‘۔
حدیث 2:
’’عن انس قال وقت لنا فی قص الشارب وتقلیم الاظفار ونتف الإبط وحلق العانۃ ان لا نترک اکثر من اربعین لیلۃ‘‘۔
حدیث 3:
’’عن علی رضی اللہ عنہ قال نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تحلق المراۃ راسہا‘‘۔

حدیث ترجمہ

ترجمہ حدیث 1:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورنے فرمایا کہ پانچ چیزیں فطرت سے ہیں۔ (یعنی انبیائے سابقینعلیہم السلامکی سنت ہیں) ختنہ کرنا، موئے زیر ناف مونڈنا ، مونچھیں کتروانا ، ناخن ترشوانا، اور بغل کے بال اکھیڑنا ۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 2:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ مونچھیں کاٹنے ، بال تراشنے ، بغل کے بال اکھیڑنے ، اور موئے زیر ناف مونڈنے میں ہمارے لیے یہ وقت مقرر کیا گیا ہے کہ ہم چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑیں یعنی چالیس دن کے اندر ہی اندر ان کاموں کو ضرور کرلیں۔ (مسلم شریف)ترجمہ حدیث 3:حضرت علیکرم اللّٰہتعالی وجہہنے فرمایا کہ حضورنے عورت کو سرمنڈانے سے منع فرمایا۔ (نسائی، مشکوۃ)

شرح حدیث

شرح حدیث 2:حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ:
’’
باید از چہل روز نہ گزردو اگر کمتر ازاں کنند افضل ست،وگفتہ اند کہ آنحضرت قص شارب وتقلیم اظفار در جمعہ می کرد،و حلق عانہ در بست روز ونتف الابط در چہل روز‘‘۔ ([1])(اشعۃ اللمعات،جلد سوم ص۵۶۹)
یعنی چالیس روز سے زیادہ نہیں گزرنا چاہیے اور اگر اس سے کم میں کرے تو افضل ہے ۔ اوربیان کیا گیا ہے کہ حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممونچھ اور ناخن ہر جمعہ کو کاٹتے تھے اور ہر بیس روز پر موئے زیر ناف مونڈتے تھے ۔ اور ہر چالیس روز بعد بغل کے بال اکھاڑتے تھے ۔
------------------
∞[1] ’’
اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب اللباس،باب الترجل،الفصل الأول،ج۳،ص۶۰۹.انتباہ :(۱)…ناخن تراشنے میں حضور سید عالمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے یہ ترتیب مروی ہے کہ داہنے ہاتھ کی کلمہ کی انگلی سے شروع کرے اور چھوٹی انگلی پر ختم کرے پھر بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے شروع کرکے انگوٹھے پر ختم کرے پھر داہنے ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن تراشے ۔ ([1])( بہار شریعت )
(۲)…آج کل عورتیں سر کے بال کٹا کر لونڈوں کی شکل اختیار کرنے لگی ہیں یہ سخت ناجائز و گناہ ہے ۔ حضور سرکارِ دوعالم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ۔العیاذ باللّٰہ تعالی۔
(۳)…سنت یہ ہے کہ مرد پورے سر کے بال منڈائے یا بڑھائے اور مانگ نکالے ۔ فتاوی عالمگیری مصری جلد ۵ ص:۳۱۲ میں ہے : ’’
فِی رَوْضِۃِ الزندویستی أَنَّ السُّنَّۃَ فِی شَعْرِ الرَّأْسِ إمَّا الْفَرْقُ وَإِمَّا الْحَلْقُ وَذَکَرَ الطَّحْطَاوِیُّ الْحَلْقُ سُنَّۃٌ وَنُسِبَ ذَلِکَ إلَی الْعُلَمَاء الثَّلَاثَۃِ کَذَا فِی التَّتَارْخَانِیَّۃ‘‘۔ ([2])
اور سید الفقہاء ملا جیون
رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے لکھا ہے کہحَلْقُ الرَّأَسِ وَقَصْرُہُ مَسْنُوْنٌ لِلرِّجَالِ عَلَی سَبِیْلِ التَّخْییْرِ‘‘۔ ([3])(تفسیرات احمدیہ ص ۳۱)
------------------
∞[1] ’’بہارِ شریعت‘‘، حصہ شانزدہم ، (۱۶) ص ۲۲۶، ’’
الدر المختار‘‘،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۶۷۰.[2] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الکراھیۃ،الباب التاسع عشر فی الختان إلخ،ج۵،ص۳۵۷.[3] ’’التفسیرات الأحمدیۃ‘‘،ص۳۱.

ماخذ و مراجع

کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 78