- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- حدیث نمبر 75
لباس کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 75
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’عَنْ سَمُرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَسُوا الثِّیَابَ الْبِیضَ فَإِنَّہَا أَطْہَرُ وَأَطْیَبُ‘‘۔
حدیث 2:
’’ عن عُبَادَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیْکُمْ بِالْعَمَاءِمِ فَإِنَّھَا سِیْمَاءُ الْمَلَاءِکَۃِ وَارْخُوْھَا خَلْفَ ظُھُوْرِکُمْ‘‘۔
حدیث 3:
’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَال َکَانَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا لَبِسَ قَمِیصًا بَدَأَ بِمَیَامِنِہ‘‘۔
حدیث 4:
’’عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ إِزْرَۃُ الْمُؤْمِنِ إِلَی أَنْصَافِ سَاقَیْہِ لَا جُنَاحَ عَلَیْہِ فِیْمَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْکَعْبَیْنِ۔ مَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِکَ فَفِی النَّارِ قَالَ ذَلِکَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ وَلَا یَنْظُرُ اللّٰہ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلَی مَنْ جَرَّ إِزَارَہُ بَطَرًا‘‘۔
حدیث 5:
’’ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللّٰہ یُحِبُّ أَنْ یرَی أَثَر نِعْمَتِہِ عَلَی عَبْدِہِ‘‘۔
حدیث 6:
’’عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ أَسْمَاء بِنْتَ أَبِی بَکْرٍ دَخَلَتْ عَلَی رَسُولِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلَیْہَا ثِیَابٌ رِقَاقٌ فَأَعْرَضَ عَنْہَا وَقَالَ یَا أَسْمَاء إِنَّ الْمَرْأَۃَ إِذَا بَلَغَتْ الْمَحِیضَ لَنْ یَصْلحَ أَنْ یُرَی مِنْہَا إِلَّا ہَذَا وَہَذَا وَأَشَارَ إِلَی وَجْہِہِ وَکَفَّیْہِ‘‘۔
حدیث 7:
’’ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ أَبِی عَلْقَمَۃَ عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ دَخَلَتْ حَفْصَۃُ بِنْت عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَی عَائِشَۃَ وَعَلَیْھَا خِمَارٌ رَقِیقٌ فَشَقَّتْہُ عَاءِشَۃُ وَکَسَتْہَا خِمَارًا کَثِیفًا‘‘۔
حدیث 1:
’’عن سمرۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال البسوا الثیاب البیض فإنہا اطہر واطیب‘‘۔
حدیث 2:
’’ عن عبادۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علیکم بالعماءم فإنھا سیماء الملاءکۃ وارخوھا خلف ظھورکم‘‘۔
حدیث 3:
’’ عن ابی ہریرۃ قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا لبس قمیصا بدا بمیامنہ‘‘۔
حدیث 4:
’’عن ابی سعید الخدری قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول إزرۃ المؤمن إلی انصاف ساقیہ لا جناح علیہ فیما بینہ وبین الکعبین۔ ما اسفل من ذلک ففی النار قال ذلک ثلاث مرات ولا ینظر اللہ یوم القیامۃ إلی من جر إزارہ بطرا‘‘۔
حدیث 5:
’’ عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إن اللہ یحب ان یری اثر نعمتہ علی عبدہ‘‘۔
حدیث 6:
’’عن عائشۃ ان اسماء بنت ابی بکر دخلت علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعلیہا ثیاب رقاق فاعرض عنہا وقال یا اسماء إن المراۃ إذا بلغت المحیض لن یصلح ان یری منہا إلا ہذا وہذا واشار إلی وجہہ وکفیہ‘‘۔
حدیث 7:
’’ عن علقمۃ بن ابی علقمۃ عن امہ قالت دخلت حفصۃ بنت عبد الرحمن علی عائشۃ وعلیھا خمار رقیق فشقتہ عاءشۃ وکستہا خمارا کثیفا‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت سمرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورﷺنے فرمایا کہ سفید کپڑے پہنا کرو اس لیے کہ وہ بہت پاکیزہ اور پسندیدہ ہے ۔ (احمد، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 2:حضرت عبادہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ عمامہ ضرور باندھا کرو کہ یہ فرشتوں کا نشان ہے ۔ اور اس (کے شملہ) کو پیٹھ کے پیچھے لٹکالو۔ (بیہقی، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 3:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ حضورﷺجب کرتا پہنتے تو دا ہنی جانب سے شروع فرماتے ۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 4:حضرت ابو سعید خدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ میں نے حضورعلیہ الصلوۃو السلامکو فرماتے ہوئے سنا کہ مومن کا تہبند آدھی پنڈلیوں تک ہے اور آدھی پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہو جب بھی کوئی حرج نہیں ۔ جو(کپڑا)ٹخنے سے نیچے ہو وہ آگ میں ہے ۔ حضور نے اس جملہ کو تین بار فرمایا اوراللّٰہتعالی قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہیں فرمائے گاجو تہبند (یا پاجامہ) کو تکبر سے گھسیٹتا چلے ۔ (ابوداود)ترجمہ حدیث 5:حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے دادا نے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہاللّٰہتعالی کو یہ بات پسند ہے کہ اس کی نعمت کا اثر بندہ ( کے لباس اور وضع سے )ظاہر ہو۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 6:حضرت عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُا سے روایت ہے کہ اسماء بنت ابوبکر(رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما )باریک کپڑے پہن کر حضور کے سامنے آئیں ۔ حضور نے ان کی جانب سے منہ پھیر لیا اور فرمایا اے اسماء! عورت جب بالغ ہوجائے تو اس کے بدن کا کوئی حصہ ہر گز نہ دکھائی دینا چاہیے سوائے اس کے اور اس کے ۔ اور اشارہ فرمایا اپنے منہ اور ہتھیلیوں کی جانب۔ (ابوداود، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 7:حضرت علقمہ بن ابوعلقمہ اپنی ماں سے روایت کرتے ہیں کہ حفصہ بنت عبدالرحمن حضرت عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُا کے پاس باریک دوپٹہ اوڑھ کر آئیں تو حضرت عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہانے ان کا دوپٹہ پھاڑ دیا اور موٹا دوپٹہ اڑھا دیا۔ (مالک ، مشکوۃ)
شرح حدیث
شرح حدیث 5:حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ:
’’ازیں جا معلوم می شود کہ پوشیدن نعمت وکتمانِ آں روا نیست وگویا موجب کفرانِ نعمت ست‘‘۔ ([1])یعنی یہاں سے معلوم ہوا کہ نعمت کو پوشیدہ کرنا اور چھپانا جائز نہیں اور گویا نعمت کی ناشکری کا سبب ہے ۔ (اشعۃ اللمعات، جلد سوم ص ۵۴۸)
------------------
∞[1] ’’اشعۃاللمعات‘‘،کتاب اللباس،الفصل الثانی،ج۳،ص۵۸۶.انتباہ:
آج کل عورتیں بہت باریک اور چست کپڑا پہننے لگی ہیں جس سے بدن کے اکثر اعضاء ظاہر ہوتے ہیں عورتوں کو ایسا کپڑا پہننا حرام ہے ۔ آج کل مرد بھی اسٹبل وغیرہ کا ہلکا تہبند پہننے لگے ہیں جس سے بدن کی رنگت جھلکتی ہیں اور ستر نہیں ہوتا مردوں کو بھی ایسا تہبند حرام ہے ۔ بعض لوگ اسی کو پہن کر نماز بھی پڑھتے ہیں ان کی نماز نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ ستر عورت نماز میں فرض ہے اور بعض لوگ دھوتی باندھتے ہیں۔ دھوتی باندھنا ہندؤوں کا طریقہ ہے اور اس سے ستر بھی نہیں ہوتا کہ چلنے میں ران کا پچھلا حصہ کھل جاتا ہے مسلمانوں کوا س سے بچنا ضروری ہے اور نیکر جانگھیا پہننا کہ جس سے گھٹنا کھلا رہتا ہے حرام ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 75