Main Icon

اچھے برے نام کا بیان - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 72

حدیث مبارکہ

حدیث 1:
’’عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَبَّ أَسْمَاءِکُمْ إِلَی اللّٰہ عَبْدُ اللّٰہ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ‘‘۔
حدیث 2:
’’ عَنْ أَبِی الدَّرْدَاء قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تُدْعَوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِأَسْمَاءِکُمْ وَأَسْمَاءِ آبَاءِکُمْ فَأَحْسِنُوا أَسْمَاءَکُمْ‘‘۔
حدیث 3:
’’ عَنْ أَبِی وَہْبِنِ الْجُشَمِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِأَسْمَاء الْأَنْبِیَاء ‘‘۔
حدیث 4:
’’عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَمُّوْا بِاِسْمِیْ‘‘۔
حدیث 5:
’’عَن عَبْدِ اللّٰہ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ وُلِدَ لَہُ ثَلاثَۃُ أَوْلَادٍ فَلَمْ یُسَمِّ أَحَدًا مِنْہُمْ مُحَمَّدًا فَقَدْ جَہلَ‘‘۔
حدیث 6:
’’ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ إِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُغَیِّرُ الاسْمَ الْقَبِیحَ‘‘۔
حدیث 7:
’’عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ بِنْتًا لِعُمَرَ یُقَالُ لَہُ عَاصِیَۃُ فَسَمَّاہَا رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَمِیلَۃَ‘‘۔

حدیث 1:
’’عن ابن عمر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إن احب اسماءکم إلی اللہ عبد اللہ وعبد الرحمن‘‘۔
حدیث 2:
’’ عن ابی الدرداء قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تدعون یوم القیامۃ باسماءکم واسماء آباءکم فاحسنوا اسماءکم‘‘۔
حدیث 3:
’’ عن ابی وہبن الجشمی قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تسموا باسماء الانبیاء ‘‘۔
حدیث 4:
’’عن جابر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سموا باسمی‘‘۔
حدیث 5:
’’عن عبد اللہ ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ولد لہ ثلاثۃ اولاد فلم یسم احدا منہم محمدا فقد جہل‘‘۔
حدیث 6:
’’ عن عائشۃ قالت إن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یغیر الاسم القبیح‘‘۔
حدیث 7:
’’عن ابن عمر ان بنتا لعمر یقال لہ عاصیۃ فسماہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمیلۃ‘‘۔

حدیث ترجمہ

ترجمہ حدیث 1:حضرت ابن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما نے کہا کہ رسولِ کریمنے فرمایا کہ خدائے تعالی کے نزدیک تمہارے ناموں میں بہترین نام عبداللّٰہاور عبدالرحمن ہے ۔ (مسلم)ترجمہ حدیث 2:حضرت ابودرداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورنے فرمایا کہ قیامت کے دن تم کو تمہارے نام اور تمہارے باپوں کے نام سے پکاراجائے گا۔ لہذا اپنے نام اچھے رکھو۔ (احمد، ابوداود)ترجمہ حدیث 3:حضرت ابووہبجشمیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے فرمایا کہ انبیاء کے ناموں پر نام رکھو۔ (ابوداود)ترجمہ حدیث 4:حضرت جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ سرکار ِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 5:حضرت عبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما نے کہا کہ رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے فرمایا کہ جس شخص کے تین بیٹے پیدا ہوں اور وہ ان میں سے کسی کا نام بھی محمد نہ رکھے تو وہ بالیقین ( ایمان و عشق) کے تقاضے سے جاہل ہے ۔ (طبرانی کبیر)ترجمہ حدیث 6:حضرت عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُانے فرمایا کہ نبی کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمبرے نام کو ( اچھے نام سے ) بدل دیا کرتے تھے ۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 7:حضرت ابن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ حضرت فاروق اعظم کی ایک صاحبز ادی تھیں جن کا نام عاصیہ تھا رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے ان کا نام بدل کر جمیلہ رکھ دیا۔ (مسلم)

شرح حدیث

اِنتباہ :(۱)…جس کا نام عبدالرحمن ، عبدالخالق ، عبدالمعبود ، عبدالقدوس ، یا عبدالقیوم ہو اسے رحمن ، خالق ، معبود، قدوس، قیوم کہنا حرام ہے اس لیے کہ ان کا اطلاق غیراللّٰہپر ناجائز ہے ۔ ہاں اگر عبدالرحیم ، عبدالکریم ، عبدالعزیز کے قسم کا نام ہو تو رحیم، کریم اور عزیز کہہ سکتے ہیں اس لیے کہ ان کا اطلاق غیراللّٰہپر جائز ہے ۔
(۲)…عبدا لمصطفیٰ ، عبدالرسول ، عبدالنبی نام رکھنا جائز ہے کہ اس نسبت کی شرافت مقصود ہے اور عبودیت کے حقیقی معنی یہاں مقصود نہیں ہیں۔ رہی عبد کی اضافت غیر
اللّٰہکی طرف تو یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔ ([1]) (بہار شریعت)
(۳)…غلام محمد، غلام علی، غلام حسن ، غلام حسین وغیرہ جن میں انبیاء ، صحابہ یا اولیائے کرام کے نام کی طرف غلام کی اضافت کرکے نام رکھا جائے جائز ہے ۔ اسی طرح محمد بخش ، نبی بخش، پیر بخش ، علی بخش، حسین بخش وغیرہ جن میں کسی نبی یا ولی کے نام کے ساتھ بخش کا لفظ ملایا گیا ہو جائز ہے ۔ ([2])
(بہار شریعت)
(۴)…محمدنبی، احمد نبی، محمد رسول ، رسول
اللّٰہ، نبیاللّٰہیا نبی الزمان نام رکھنا حرام ہے کہ ان میں حقیقۃً ادعائے نبوت نہ ہونا مسلّم ورنہ خالص کفر ہوتا ۔ مگرصورتِ ادّعا ضرور ہے اور وہ یقیناً حرام ہے ۔ ([3]) (احکام شریعت، بہار شریعت)
(۵)…انبیائے کرام
علیہم الصلاۃ والسلاماور اولیائے عظامرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمکی بیویوں اور لڑکیوں نیز صحابیاترَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُن کا مبارک سنجیدہ اور پروقار نام چھوڑ کر آج کل لوگوں نے بازاری عورتوں کے بھڑک دار نام پر اپنی لڑکیوں کا نام رکھنا اختیار کر لیا ہے ۔ جیسے نجمہ، ثریا ، مشتری اور پروین وغیرہ ۔ ایسا ہر گز نہ چاہیے ۔
------------------
∞[1] ’بہارِ شریعت‘‘، حصہ شانزدہم ، (۱۶) ص ۲۴۷.
[2] ’’بہارِ شریعت‘‘، حصہ ۱۶، ص ۲۴۷، ’’الحدیقۃ الندیۃ شرح طریقۃ المحمدیہ‘‘،ج۲،ص۲۷۹.[3] ’’بہارِ شریعت‘‘، حصہ۱۶، ص ۲۴۸.’’احکام شریعت‘‘، حصہ اول، ص۹۰۔

ماخذ و مراجع

کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 72