- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- حدیث نمبر 114
کرامت - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 114
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالَی عَنْہُ بَعَثَ جَیْشًا وَأَمَرَّ عَلَیْہِمْ رَجُلًا یُدْعَی سَارِیَۃُ فَبَیْنَمَا عُمَرُ یَخْطُبُ فَجَعَلَ یَصِیْحُ یَا سَارِیَۃُ الْجَبَلَ فَقَدِمَ رَسُوْلٌ مِنَ الْجَیْشِ فَقَالَ یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَقِیَنَا عَدُوُّنَا فَہَزَمُوْنَا فَإِذَا بِصَاءِحٍ یَصِیْحُ یَا سَارِیَۃُ الْجَبَلَ فَأَسْنَدَنَا ظَہُوْرَنَا إِلَی الْجَبَلِ فَہَزَمَہُمُ اللّٰہ تَعَالَی‘‘۔
حدیث 2:
’’عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرْ أَنَّ سَفِیْنَۃَ مَوْلَی رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَخْطَأَ الْجَیْشَ بِأَرْضِ الرُّوْمِ أَوْ أُسِرَ فَانْطَلَقَ ہَارِبًا یَلْتَمِسُ الْجَیْشَ فَإِذَا ہُوَ بِالْأَسَدِ فَقَالَ یَا أَبَا الْحَارِثِ أَنَا مَوْلَی رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ مِنْ أَمْرِی کَیْتَ وَکَیْتَ فَأَقْبَلَ الْأَسَدُ لَہُ بَصْبَصَۃٌ حَتَّی قَامَ إِلَی جَنْبِہِ کُلَّمَا سَمِعَ صَوْتًا أَہْوَی إِلَیْہِ ثُمَّ أَقْبَلَ یَمْشِی إِلَی جَنْبِہِ حَتَّی بَلَغَ الْجَیْشَ ثُمَّ رَجَعَ الْأَسَدُ‘‘۔
حدیث 3:
’’ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُسَیْدَ بْنَ حُضَیْرٍ وَعَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ تَحَدَّثَا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی حَاجَۃٍ لَہُمَا حَتَّی ذَہَبَ مِنَ اللَّیْلِ سَاعَۃٌ فِی لَیْلَۃٍ شَدِیدَۃِ الظُّلْمَۃِ ثُمَّ خَرَجَا مِنْ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْقَلِبَانِ وَبِیَدِ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا عُصَیَّۃٌ فَأَضَاءتْ عَصَا أَحَدِہِمَا لَہُمَا حَتَّی مَشَیَا فِی ضَوْءِ ہَا حَتَّی إِذَا افْتَرَقَتْ بِہِمَا الطَّرِیقُ أَضَاءَ تْ لِلْآخَرِ عَصَاہُ فَمَشَی کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا فِی ضَوْءعَصَاہُ حَتَّی بَلَغَ أَہْلَہُ ‘‘۔
حدیث 1:
’’عن ابن عمر ان عمر رضی اللہ تعالی عنہ بعث جیشا وامر علیہم رجلا یدعی ساریۃ فبینما عمر یخطب فجعل یصیح یا ساریۃ الجبل فقدم رسول من الجیش فقال یا امیر المؤمنین لقینا عدونا فہزمونا فإذا بصاءح یصیح یا ساریۃ الجبل فاسندنا ظہورنا إلی الجبل فہزمہم اللہ تعالی‘‘۔
حدیث 2:
’’عن ابن المنکدر ان سفینۃ مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اخطا الجیش بارض الروم او اسر فانطلق ہاربا یلتمس الجیش فإذا ہو بالاسد فقال یا ابا الحارث انا مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان من امری کیت وکیت فاقبل الاسد لہ بصبصۃ حتی قام إلی جنبہ کلما سمع صوتا اہوی إلیہ ثم اقبل یمشی إلی جنبہ حتی بلغ الجیش ثم رجع الاسد‘‘۔
حدیث 3:
’’ عن انس ان اسید بن حضیر وعباد بن بشر تحدثا عند النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی حاجۃ لہما حتی ذہب من اللیل ساعۃ فی لیلۃ شدیدۃ الظلمۃ ثم خرجا من عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ینقلبان وبید کل واحد منہما عصیۃ فاضاءت عصا احدہما لہما حتی مشیا فی ضوء ہا حتی إذا افترقت بہما الطریق اضاء ت للآخر عصاہ فمشی کل واحد منہما فی ضوءعصاہ حتی بلغ اہلہ ‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت ابن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماسے روایت ہے کہ حضرت فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے ایک لشکر (نہاوند( )کی طرف) بھیجا اور اس لشکر پر ایک مرد کو سپہ سالار مقرر فرمایا جن کو ساریہ کہا جاتاتھا تو (ایک روز) جب کہ حضرت عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ( مدینہ شریف میں) خطبہ پڑھ رہے تھے یکایک آپ بلند آواز فرمانے لگے اے ساریہ ! پہاڑکی پناہ لو۔ (چند روز کے بعد) لشکر سے ایک قاصد آیا تو اس نے عرض کیا اے امیر المؤمنین! ہمارے دشمن نے ہم پر حملہ کیا تو ہم کو شکست دی پھر اچانک ہم نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی کہ اے ساریہ ! پہاڑ کی پناہ لو۔ تو ہم نے پہاڑ کی طرف اپنی پشت کرلی ( اور دشمن سے لڑے ) پھر خدائے تعالیٰ نے دشمنوں کو شکست دی۔ (بیہقی، مشکوۃ ص ۵۴۶)ترجمہ حدیث 2:حضرت ابن منکدررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضرت سفینہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُجو رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمکے غلام تھے (ایک مرتبہ) سرزمین روم میں اسلامی لشکر(تک پہنچنے )کا راستہ بھول گئے ۔ یا قید کر دیئے گئے تھے تو اسلامی لشکر کی تلاش میں نکل بھاگے ۔ اچانک ایک شیر سے ان کا سامنا ہوگیا تو آپ نے شیر سے فرمایا اے ابو حارث! میں سرکارِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا غلام ہوں میرے ساتھ ایسا ایسا واقعہ پیش آیا ہے تو شیر (کتّے کی طرح) دُم ہلاتا ہوا قریب آکر حضرت سفینہ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا ( اور ساتھ ساتھ چلتا رہا) جب شیر کسی چیز کی آواز سنتا تو اس کی طرف دوڑ پڑتا پھر واپس آکر ان کے پہلو میں چلنے لگتا یہاں تک کہ حضرت سفینہ اسلامی لشکر تک پہنچ گئے پھر شیر واپس ہوگیا۔ (مشکوۃ ص ۵۴۵)ترجمہ حدیث 3:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ اسید بن حضیر اور عباد بن بشیررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما نبی کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمسے اپنے کسی معاملہ میں ایک پہر رات گزرنے تک گفتگو کرتے رہے وہ رات بہت تاریک تھی۔ پھر وہ لوگ اپنے گھروں کو واپس ہونے کے لیے رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ سے نکلے اور دونوں حضر ات کے ہاتھ میں چھوٹی چھوٹی لاٹھیاں تھیں پھر ان میں سے ایک صاحب کی لاٹھی دونوں کے لیے روشن ہوگئی بعدہ وہ دونوں حضرات لاٹھیوں کی روشنی میں چلتے رہے یہاں تک کہ جب دونوں کا راستہ علیحدہ علیحدہ ہوا تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی پھر ہر ایک اپنی اپنی لاٹھی کی روشنی میں اپنے گھر والوں تک پہنچ گیا۔ (بخاری، مشکوۃ ص ۵۴۴)
شرح حدیث
انتباہ :(۱)… ولی سے جوبات خلافِ عادت ظاہر ہو اسے کرامت کہتے ہیں اور عام مؤمنین سے ایسی بات صادر ہو تو اسے معونت کہتے ہیں ۔ اور بیباک فاسق و فاجر یا کافرسے جو اُن کے موافق ظاہر ہو تو اس کو استدراج کہتے ہیں اور ان کے خلاف ظاہر ہو تو اہانت کہتے ہیں۔ ([1])(بہار شریعت، حصہ اول)
(۲)…کرامت حق ہے اس کا انکار کرنے والا گمراہ بدمذہب ہے ۔ شرح فقہ اکبر ص ۹۵ میں ہے :اَلْکَرَامَاتُ لِلأَوْلِیَاءِ حَقٌّ أَيْ ثَابِتٌ بِالْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِا ولیائے کرام سے کرامتوں کا صادر ہونا حق ہے ۔ یعنی قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔ ([2])اور حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی بخاریرَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہِفرماتے ہیں:
’’اہلِ حق اتفاق دارند برجواز وقوع کرامت از اولیاء ودلیل بر وقوع کرامت کتاب وسنت وتواتر اخبار ست از صحابہ ومن بعد ہم تواتر معنی‘‘ ۔ ([3])یعنی اہلِ حق اس بات پر متفق ہیں کہ اولیائے کرام سے کرامت کا ظہور ہوسکتا ہے ۔ اوراللّٰہوالوں سے کرامتوں کا صادر ہونا قرآن و حدیث سے ثابت ہے ، اورصحابہ و تابعین کی مسلسل خبروں سے بھی واضح ہے ۔ (اشعۃ اللمعات، جلد چہارم ص ۵۹۵)
(۳)…ولی وہ مسلمان ہے جو بقدرِ طاقت بشری ذات و صفات باری تعالیٰ کا عارف ہو، احکام شرع کا پابند ہو اور لذات و شہوات میں انہماک نہ رکھتا ہو۔ جیسا کہ شرع عقائد نسفی میں ہے :’’اَلْوَلِیُّ ھُوَالْعَارِفُ بِاللّٰہ تَعَالَی وَصِفَاتِہِ حَسْب مَا یُمْکِنُ الْمُوَاظب عَلَی الطَّاعَاتِ،الْمُجْتَنِبُ عَنِ الْمَعَاصِی،الْمُعْرِضُ عَنِ الْاِنْھِمَاکِ فِی اللَّذاتِ وَالشَّھَوَاتِ۔ ‘‘([4])اور اشعۃ اللمعات جلد چہارم ص :۵۹۵میں ہے : ’’ولی کسے ست کہ عارف باشد بذات وصفات حق بر قدر طاقت بشری ومواظب باشد بر اتیاں طاعت وترک منہیات در لذات وشہوات وکامل باشد در تقویٰ واتباع بر حسب تفاوت ومراتب آن‘‘۔ ([5])(۴)…ولی وہی شخص ہوسکتا ہے جس کا عقیدہ مذہب اہلِ سنت و جماعت کے مطابق ہو کوئی مرتد یا بدمذہب مثلاً دیوبندی ، وہابی ، قادیانی ، رافضی اور نیچری وغیرہ ہر گز ولی نہیں ہوسکتا۔
(۵)…اولیائے کرام وصالحین عظام کا فیض بعد وصال جار ی رہتا ہے ۔ تفسیر عزیزی پارہ عم ص ۵۰ میں ہے : ’’از اولیائے مدفونین ودیگر صلحائے مؤمنین انتفاع واستفادہ جاری ست و آنہارا افادہ و اعانت نیز متصور‘‘۔اولیاء راہست قدرت ازالہتیر جستہ باز گرد انندز راہ
------------------
∞[1] ’’بہار شریعت‘‘، ج۱، ص ۵۸.[2] ’’شرح الفقہ الأکبر‘‘،ص۷۹.[3] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الفتن،باب الکرامات،ج۴،ص۶۰۹.[4] ’’شرح العقائد النسفیۃ‘‘،ص۱۴۵.[5] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الفتن،باب الکرامات،ج۴،ص۶۰۹.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 114