- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- حدیث نمبر 110
حضور کے مثل کوئی نہیں - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 110
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ نَہَی رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فِی الصَّوْمِ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ إِنَّکَ تُوَاصِلُ یَا رَسُولَ اللّٰہ قَالَ وَأَیُّکُمْ مِثْلِی إِنِّی أَبِیتُ یُطْعِمُنِی رَبِّی وَیَسْقِینِی‘‘۔
حدیث 2:
’’ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فِی رَمَضَانَ فَوَاصَلَ النَّاسُ فَنَہَاہُمْ قِیلَ لَہُ أَنْتَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّی لَسْتُ مِثْلَکُمْ إِنِّی أُطْعَمُ وَأُسْقَی‘‘۔
حدیث 3:
’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تُوَاصِلُوا قَالُوا إِنَّکَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّی لَسْتُ مِثْلَکُمْ إِنِّی أَبِیتُ یُطْعِمُنِی رَبِّی وَیَسْقِینِی‘‘۔
حدیث 1:
’’ عن ابی ہریرۃ قال نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن الوصال فی الصوم فقال لہ رجل إنک تواصل یا رسول اللہ قال وایکم مثلی إنی ابیت یطعمنی ربی ویسقینی‘‘۔
حدیث 2:
’’ عن ابن عمر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واصل فی رمضان فواصل الناس فنہاہم قیل لہ انت تواصل قال إنی لست مثلکم إنی اطعم واسقی‘‘۔
حدیث 3:
’’ عن ابی ہریرۃ قال قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا تواصلوا قالوا إنک تواصل قال إنی لست مثلکم إنی ابیت یطعمنی ربی ویسقینی‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ سرکارِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے رات دن پے درپے روزہ رکھنے سے منع فرمایا تو ایک شخص نے حضور (صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) سے عرض کیا یارسولاللّٰہ! آپ تو رات دن پے درپے روزہ رکھتے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ میرے مثل تم میں کون ہے بے شک میں اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا پروردگار مجھے کھلاتا پلاتا ہے ۔ (بخاری ج۱ ص ۲۶۳، مسلم ص ۳۵۲، مشکوۃ ص ۱۷۵)ترجمہ حدیث 2:حضرت ابن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے ماہِ رمضان میں رات دن پے درپے روزہ رکھا تو لوگوں نے بھی رات دن پے درپے روزہ رکھا تو حضور نے لوگوں کو ایسا کرنے سے منع فرمایا عرض کیا گیا حضور تو رات دن پے درپے روزہ رکھتے ہیں۔ سرکار نے فرمایا کہ میں تمہارے مثل نہیں ہوں میں کھلایا اور پلایا جاتا ہوں۔ (مسلم ، ج۱ ص ۳۵۱)ترجمہ حدیث 3:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ نبی کریمﷺنے (صحابہ سے )فرمایا کہ تم لوگ رات دن پے درپے روزہ مت رکھو۔ صحابہ نے عرض کیا حضور تو رات دن پے درپے روزہ رکھتے ہیں۔ سرکار نے فرمایا کہ میں تمہارے مثل ہر گز نہیں ہوں ۔ بے شک میں اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے ۔ (بخاری، ج۲ ص ۱۰۸۴)
شرح حدیث
شرح حدیث 1:حضرت امام نوویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں:
’’قَوْلُہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنِّی أَبِیْتُ یُطْعِمُنِی رَبِّی وَیَسْقِینِی مَعْنَاہُ یَجْعَلُ اللّٰہ تَعَالَی فِیَّ قُوَّۃَ الطَّاعِم وَالشَّارِبِ‘‘۔ ([1])
یعنی حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے قول ’’إِنِّی أَبِیْتُ یُطْعِمُنِی رَبِّی وَیَسْقِینِی‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ مجھے وہ طاقت دیتا ہے جو اوروں کو کھا پی کر حاصل ہوتی ہے ۔ (نووی مع مسلم ج۱ ص۳۵۱)
------------------
∞[1] ’’شرح صحیح مسلم‘‘للنووی،کتاب الصیام،باب النھی عن الوصال فی الصوم،ج۴،ص۲۱۲.انتباہ:حضور سید عالمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو اپنے مثل بشر نہیں کہنا چاہیے اس لیے کہ انبیائے سابقینعلیہم الصلوۃ والتسلیمکو ان کے زمانے کے کفار اپنے مثل بشر کہا کرتے تھے جیسا کہ پارہ ۱۲ ، رکوع ۳ میں ہے ۔فَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ قَوْمِہِ مَا نَرَاکَ إِلَّا بَشَرًا مِثْلَنَایعنی حضرت نوحعلیہ السلامکی قوم کے کافروں نے کہا کہ ہم تمہیں اپنے ہی مثل بشر سمجھتے ہیں اور پارہ ۱۳ ، رکوع ۱۴ میں ہےقَالُوا إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَایعنی کافروں نے حضرت موسیعلیہ السلامسے کہا کہ تم ہمارے ہی مثل بشر ہو، اور پارہ ۱۹ ، رکوع ۱۲میں ہےمَا أَنْتَ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَایعنی کافروںنے حضرت صالحعلیہ السلامسے کہا کہ تم ہمارے ہی مثل بشر ہو۔ اور پارہ ۱۹ ، رکوع ۱۴ میں ہےمَا أَنْتَ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَایعنی کافروں نے حضرت شعیبعلیہ السلامسے کہا کہ تم ہمارے ہی مثل بشر ہو۔ اِن آیات کریمہ سے معلوم ہوا کہ انبیائے کرامعلیہم السلامکو ازراہِ توہین اپنے مثل بشر کہنا کافروں کا شیوہ ہے ۔
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 110