Main Icon

فضائل سید المرسلین علیہ الصلاۃ والسلام - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 109

حدیث مبارکہ

حدیث 1:
’’ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّینَ لَا نَبِیَّ بَعْدِی‘‘۔ (ابوداود، ترمذی، مشکوۃ ص ۴۶۵)
حدیث 2:
’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خُتِمَ بِیَ الرُّسُلُ‘‘۔ (بخاری، مسلم، مشکوۃ ص۵۱۱)
حدیث 3:
’’ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ عَنْ رَسُولِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ إِنِّی عِنْدَ اللّٰہ مَکْتُوْبٌ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِی طِیْنِہِ‘‘۔
حدیث 4:
’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ بَیْنَا أَنَا نَاءِمٌ رَأَیْتُنِیْ أُتِیتُ بِمَفَاتِیحِ خَزَاءِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِی یَدَیَّ‘‘۔
حدیث 5:
’’ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُعْطِیتُ مَا لَمْ یُعْطَ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِیَاءِ قَبْلِیْ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُعْطِیتُ مَفَاتِیحَ الْأَرْض‘‘۔ (احمد، الأمن والعلی ص۵۷)
حدیث 6:
’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَا سَیِّدُ وَلَدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَأَوَّلُ مَنْ یَنْشَقُّ عَنْہُ الْقَبْرُ وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ‘‘۔
حدیث 7:
’’ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَمُشَفَّع وَلا فَخْرَ‘‘۔
حدیث 8:
’’ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَا أَکْرَمُ الأَوَّلِینَ وَالآخِرِینَ عَلَی اللّٰہ وَلاَ فَخْرَ‘‘۔
حدیث 9:
’’ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی لَیْلَۃِ إِضْحِیَانٍ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَی رَسُولِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَإِلَی الْقَمَرِ وَعَلَیْہِ حُلَّۃٌ حَمْرَاءُ فَإِذَا ہُوَ أَحْسَنُ عِنْدِی مِنْ الْقَمَرِ‘‘۔
حدیث 10:
’’ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَزْہَرَ اللَّوْنِ کَأَنَّ عَرَقَہُ اللُّؤْلُؤُ وَمَا مَسِسْتُ دِیبَاجَۃً وَلَا حَرِیْرًَا أَلْیَنَ مِنْ کَفِّ رَسُولِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَا شَمِمْتُ مِسْکاً وَلَا عَنْبَرَۃً أَطْیَبَ مِنْ رَاءِحَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ‘‘۔
حدیث 11:
’’ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَسْلُکْ طَرِیقاً فَیَتْبَعُہُ أَحَدٌ إِلاَّ عَرَفَ أَنَّہُ قَدْ سَلَکَہُ مِنْ طِیبِ عَرْقِہِ أَوْ قَالَ مِنْ رِیحِ عَرَقِہٖ‘‘۔

حدیث 1:
’’ عن ثوبان قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انا خاتم النبیین لا نبی بعدی‘‘۔ (ابوداود، ترمذی، مشکوۃ ص ۴۶۵)
حدیث 2:
’’ عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ختم بی الرسل‘‘۔ (بخاری، مسلم، مشکوۃ ص۵۱۱)
حدیث 3:
’’ عن العرباض بن ساریۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال إنی عند اللہ مکتوب خاتم النبیین وإن آدم لمنجدل فی طینہ‘‘۔
حدیث 4:
’’ عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال بینا انا ناءم رایتنی اتیت بمفاتیح خزاءن الارض فوضعت فی یدی‘‘۔
حدیث 5:
’’ عن علی قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعطیت ما لم یعط احد من الانبیاء قبلی نصرت بالرعب واعطیت مفاتیح الارض‘‘۔ (احمد، الامن والعلی ص۵۷)
حدیث 6:
’’ عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انا سید ولد آدم یوم القیامۃ واول من ینشق عنہ القبر واول شافع واول مشفع‘‘۔
حدیث 7:
’’ عن جابر ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال انا اول شافع ومشفع ولا فخر‘‘۔
حدیث 8:
’’ عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انا اکرم الاولین والآخرین علی اللہ ولا فخر‘‘۔
حدیث 9:
’’ عن جابر بن سمرۃ قال رایت النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی لیلۃ إضحیان فجعلت انظر إلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وإلی القمر وعلیہ حلۃ حمراء فإذا ہو احسن عندی من القمر‘‘۔
حدیث 10:
’’ عن انس قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ازہر اللون کان عرقہ اللؤلؤ وما مسست دیباجۃ ولا حریرا الین من کف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولا شممت مسکا ولا عنبرۃ اطیب من راءحۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘۔
حدیث 11:
’’ عن جابر ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم لم یسلک طریقا فیتبعہ احد إلا عرف انہ قد سلکہ من طیب عرقہ او قال من ریح عرقہ‘‘۔

حدیث ترجمہ

ترجمہ حدیث 1:حضرت ثوبانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ حضورنے فرمایا کہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ترجمہ حدیث 2:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے فرمایا کہ رسولوں کا سلسلہ مجھ پر ختم کردیا گیا۔ترجمہ حدیث 3:حضرت عرباض بن ساریہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے وہ سرکارِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں کہ حضور نے فرمایا کہ میں خدائے تعالیٰ کے تئیں اس وقت خاتم النبیین لکھا گیا جب کہ حضرت آدمعلیہ السلاماپنی گندھی ہوئی مٹی میں تھے ( یعنی ان کا پتلا اس وقت تک تیار نہیں ہوا تھا)۔ (شرح السنۃ، مشکوۃ ص۵۱۳)ترجمہ حدیث 4:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے فرمایا کہ اس درمیان میں کہ سورہا تھا میں نے دیکھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں لائی گئیں اور میرے دونوں ہاتھوں میں رکھ دی گئیں۔ (بخاری، مسلم ، مشکوۃ ص۵۱۲)ترجمہ حدیث 5:حضرت علیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ سرکارِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ مجھے وہ عطا ہوا جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہ عطا ہوا تھا رعب سے میری مدد فرمائی گئی اور مجھے ساری زمین کی کنجیاں عطا ہوئیں۔ترجمہ حدیث 6:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے فرمایا کہ میں قیامت کے دن اولاد آدمعلیہ السلامکا سردار ہوں گا اور میں سب سے پہلے قبر سے اُٹھوں گا اور سب سے پہلے میں ہی شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول کی جائے گی۔ترجمہ حدیث 7:حضرت جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ سرکارِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ میں سب سے پہلے شفاعت کروں گا اور میری شفاعت سب سے پہلے قبول کی جائے گی اور مجھے اس پر فخر نہیں۔ (دارمی، مشکوۃ ص ۵۱۴)ترجمہ حدیث 8:حضرت ابنِ عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما نے کہا رسولِ کریمنے فرمایا کہ خدائے تعالیٰ کے تئیں میں اولین و آخرین میں سب سے زیادہ عزت و بزرگی والا ہوں۔ (ترمذی، دارمی، مشکوۃ ص۵۱۴)ترجمہ حدیث 9:حضرت جابر بن سمرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ میں نے سرکارِ اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو چاندنی رات میں دیکھا تو کبھی میں حضور کی طرف دیکھتا تھا اور کبھی چاند کی طرف ، حضور اس وقت سُرخ لباس پہنے ہوئے تھے تو (آخر میں نے فیصلہ کیا کہ) وہ چاند سے بڑھ کر حسین ہیں۔ (ترمذی، دارمی، مشکوۃ ص ۵۱۷)ترجمہ حدیث 10:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَکا رنگ روشن اور چمک دار تھا اور حضور کا پسینہ گویا موتی تھا۔ اور کسی دیباج وریشم کے کپڑے کو میں نے حضور کی مُبارک ہتھیلیوں سے نرم نہیں پایا۔ اور میں نے کوئی ایسا مشک وعنبر نہیں سونگھا جس کی خوشبو حضور کے جسم مبارک کی خوشبو سے بڑھ کر ہو۔ (بخاری، مسلم، مشکوۃ ص۵۱۶)ترجمہ حدیث 11:حضرت جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے ر وایت ہے کہ نبی کریمجب کسی راستہ سے گزرتے پھر حضور کے بعد جو بھی اس راستہ سے گزرتا تو حضور کے پسینہ کی خوشبو محسوس کرلیتا کہ حضور ادھر سے تشریف لے گئے ہیں۔ (دارمی، مشکوۃ ص ۵۱۷)

شرح حدیث

انتباہ([1]):
(۱)…حضور سید عالم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا چہرئہ اقدس ایسا روشن و تابناک تھا کہ بقول راویانِ حدیث آپ کے چہرے میں چاند و سورج تیرتے تھے جس نے بحالت ِ ایمان ایک بار چہرہ دیکھ لیا وہ صحابی ہوگیا جو نبوت کے بعد سب سے بڑا درجہ ہے ۔
(۲)…سرِ مُبارک بڑا اور بزرگ تھا جس سے سطوت و عظمت ٹپکتی تھی اور جو خشیت الہٰی سے ہر وقت جھکا رہتا تھا۔
(۳)… قد مُبارک نہ زیادہ لانبا تھا اور نہ زیادہ کوتاہ۔ مگر انسانوں کے مجمع میں کھڑے ہوتے تو سب سے اونچے نظر آتے ۔
(۴)…جسم پاک نورانی تھا اس لیے اس کا سایہ نہ سورج کی روشنی میں پڑ تا تھا اور نہ چاندنی میں ۔ جسم پر مکھی کبھی نہیں بیٹھی۔
(۵)…موئے مبارک کچھ بل کھائے ہوئے تھے جو اکثر کندھے تک لٹکتے رہتے تھے اور جب کبھی چہرہ انور پر بکھر جاتے تو
’’وَالضُّحَی وَاللَّیْلِ إِذَا سَجَی‘‘کی تفسیر بن جاتے ۔
(۶)…داڑھی شریف گھنی تھی اور چہرۂ انور اس کے گھیرے میں ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے آبنوسی رحل پرقرآن مجید رکھا ہو۔ ناک سڈول اور پتلی قدرے اٹھی ہوئی جو اچانک دیکھنے پر شعلہ نور معلوم ہوتی تھی۔
(۷)…سینہ مبارک کشادہ تھا جس میں ناف تک بالوں کی ایک ہلکی تحریر تھی۔ شکم مبارک کی سطح سینہ کے برابر تھی جسے چار بار فرشتوں نے چاک کرکے علم و حکمت کا نور بھرا تھا۔ اسی کی شان میں
اَلَمْ نَشْرَحْکی آیت اتری۔
(۸)… گردن شریف نہایت لطیف و شفاف تھی بقول حضرت ابوہریرہ
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُچاندی کی ڈھلی ہوئی تھی۔
(۹)…پیشانی کشادہ اور صبحِ ازل کی طرح روشن تھی جسے لوگ چاند کا ٹکڑا کہتے تھے جو راتوں کو خدائے تعالیٰ کے حضور میں سجدہ ریز رہا کرتی تھی۔
(۱۰)… گوش مبارک نہایت موزوں اور سبک، دورو نزدیک سے یکساں سنتے تھے ۔ وحوش و طیور کی بول چال اور شجر وحجر کی زبانِ حال سے باخبر۔
(۱۱)…دندانِ مبارک موتیوں سے زیادہ چمک دار جن سے مسکراتے وقت روشنی پھوٹ پڑتی تھی اور درو دیوار چمک اُٹھتے تھے ۔
ٍ (۱۲)…پشت مبارک ہموار اور سفید و شفاف تھی جیسے چاندی کی ڈھلی ہوئی جس پر شانوں( کندھوں) کے بیچ میں کبوتر کے انڈے کے برابر اُبھری ہوئی مہرِ نبوت تھی۔
(۱۳-۱۴)…آنکھیں سیاہ و سرمگیں اور پلکیں بڑی تھیں۔ جو ہر وقت غیب کا مشاہدہ کرتی تھیں اور آگے پیچھے یکساں دیکھتی تھیں۔ ساری کائنات میں صرف اِنہی آنکھوں نے خدائے پاک کو بے حجاب دیکھا تھا۔
(۱۵)…دست ِمبارک کشادہ اور پر گوشت تھاجو مصافحہ کرتا اس کا ہاتھ معطر ہوجاتا انہی ہاتھوں کو خدائے تعالیٰ نے اپنا ہاتھ فرمایا تھا۔
(۱۶)…انگلیاں لمبی اور بخشش و عطا کے لیے پھیلی ہوئی رہتی تھیں۔ جن کے بیچ سے ضرورت کے وقت پانی کا چشمہ اُبلنے لگتا تھا۔ اورجن کے اشارہ سے چاند کا سینہ شق ہوا اور ڈوبا ہواسورج پلٹ آیا۔
(۱۷)…پنڈلیاں ہموار اور شیشہ کی طرح لطیف و شفاف تھیں۔
(۱۸)… کلائیاں قدرے لمبی اور گداز ، رنگ نکھرا ہوا صاف وشفاف تھا۔
(۱۹)…ابرو محرابِ حرم کی طرح کماندار تھے جن سے مقام قاب قوسین کا راز آشکار ا تھا۔
(۲۰)…لب مبارک گلِ قدس کی پتیوں کی طرح پتلے پتلے اور گلاب کی پنکھڑیوں سے زیادہ نرم و نازک جن کی جنبش پر کارکنانِ قضا وقدر ہر وقت کان لگائے رہتے تھے ۔
(۲۱)…آواز انتہائی دلکش وشیریں کہ دشمنوں کو بھی پیار آجائے اور اتنی بلند کہ فاران سے گونجے تو ساری دنیا میں پھیل جائے ۔ رحمت وکرم کے موقع پر گل ولالہ کے جگر کی ٹھنڈک اور کبھی غیرت ِحق کو جلال آجائے تو پہاڑوں کے کلیجے دہل جائیں۔
(۲۲)…گریہ مبارک سسکتی ہوئی دبی دبی آواز خشیت الہی کے غلبہ سے سیہ کار اُمت کے غم میں رقت انگیز آیتیں پڑھ کر اور شبینہ دعاؤں میں بھیگی بھیگی پلکوں پر آنسوؤں کے جھلکتے ہوئے موتی۔
(۲۳)…ہنسی انتہائی مسرت و شادمانی کے موقع پر لبوں پر صرف ایک ہلکا سا تبسم پھیل جاتا نور کی ایک کرن پھوٹتی اور درو دیوار وشن ہوجاتے ۔ اسی ر وشنی میں ایک بار حضرت عائشہ صدیقہ
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہانے اپنی سوئی تلاش کرلی تھی۔
(۲۴)…پسینہ مبارک انتہائی خوشبودار اور عطر انگیز تھا جدھر سے گزر جاتے فضا معطر ہوجاتی۔ بغل شریف کے پسینہ سے ایک دلہن معطر کی گئی تو پشت در پشت اس کی اولاد میں خوشبو کا اثر تھا۔
(۲۵)…لعابِ دہن زخمیوں اور بیماروں کے لیے مرہم شفا تھا۔ کھاری کنویں اس کی برکت سے شیریں ہوجاتے ، شیر خوار بچے کے منہ میں پڑ جاتا تو دن بھر ماں کے دودھ کے بغیر آسودہ رہتے ۔ ([2]) (ماخوذ از مدارج النبوۃ، شمائل ترمذی، نسیم الریاض، خصائص کبری، جواھر البحار)
الغرض ان کے ہر موپہ دائم درود
ان کی ہر خوو خصلت پہ لاکھوں سلام (اعلی حضرت بریلوی)
------------------
∞[1] از صحیفۂ جمال مرتبہ حضرت علامہ ارشد القادری صاحب مدظلہ العالی فاتح جمشیدپور۔
[2] ’’مدارج النبوۃ‘‘مترجم،باب در بیان حسن خلقت جمال إلخ،ج۱،ص۱۵، ’’نسیم الریاض‘‘،القسم الأول فی تعظیم العلی الأعلی إلخ،ص۵۰۹، ’’الخصائص الکبری‘‘،باب جامع فی صفۃ خلقہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم،ج۱،ص۱۲۲، ’’جواہر البحار‘‘مترجم،باب فطری محاسن واخلاقی کمالات،ص۶۹.

ماخذ و مراجع

کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 109