Main Icon

توکل - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 106

حدیث مبارکہ

حدیث 1:
’’ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَکَّلَ عَلَی اللّٰہ کَفَاہُ ‘‘۔
حدیث 2:
’’ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ لَوْ أَنَّکُمْ تَتَوَکَّلُونَ عَلَی اللّٰہ حَقَّ تَوَکُّلِہِ لَرَزَقَکُمْ کَمَا یَرْزُقُ الطَّیْرَ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا‘‘۔
حدیث 3:
’’عَنْ أَبِی ذَرٍّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ الزَّہَادَۃُ فِی الدُّنْیَا لَیْسَتْ بِتَحْرِیمِ الْحَلَالِ وَلَا إِضَاعَۃِ الْمَالِ وَلَکِنَّ الزَّہَادَۃَ فِی الدُّنْیَا أَنْ لَا تَکُونَ بِمَا فِی یَدَیْکَ أَوْثَقَ بِمَا فِی یَدِ اللّٰہ‘‘۔
حدیث 4:
’’ عَنْ صُہَیْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَہُ کُلَّہُ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَلِکَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّاء شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہُ وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہُ‘‘۔
حدیث 5:
’’ عَنْ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ سَعَادَۃِ ابْنِ آدَمَ رِضَاہُ بِمَا قَضَی اللّٰہ لَہُ وَمِنْ شَقَاوَۃِ ابْنِ آدَمَ تَرْکُہُ اسْتِخَارَۃَ اللّٰہ وَمِنْ شَقَاوَۃِ ابْنِ آدَمَ سَخَطُہُ بِمَا قَضَی اللّٰہ لَہُ‘‘۔

حدیث 1:
’’ عن عمرو بن العاص قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من توکل علی اللہ کفاہ ‘‘۔
حدیث 2:
’’ عن عمر بن الخطاب قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول لو انکم تتوکلون علی اللہ حق توکلہ لرزقکم کما یرزق الطیر تغدو خماصا وتروح بطانا‘‘۔
حدیث 3:
’’عن ابی ذر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال الزہادۃ فی الدنیا لیست بتحریم الحلال ولا إضاعۃ المال ولکن الزہادۃ فی الدنیا ان لا تکون بما فی یدیک اوثق بما فی ید اللہ‘‘۔
حدیث 4:
’’ عن صہیب قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عجبا لامر المؤمن إن امرہ کلہ خیر ولیس ذلک لاحد إلا للمؤمن إن اصابتہ سراء شکر فکان خیرا لہ وإن اصابتہ ضراء صبر فکان خیرا لہ‘‘۔
حدیث 5:
’’ عن سعد قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من سعادۃ ابن آدم رضاہ بما قضی اللہ لہ ومن شقاوۃ ابن آدم ترکہ استخارۃ اللہ ومن شقاوۃ ابن آدم سخطہ بما قضی اللہ لہ‘‘۔

حدیث ترجمہ

ترجمہ حدیث 1:حضرت عمر وبن العاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسول کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے فرمایا کہ جو شخصاللّٰہتعالیٰ پر توکل کرے اور اپنے تمام کاموں کو خدائے تعالیٰ کے سپرد کردے تواللّٰہتعالیٰ اس کے لیے کافی ہے ۔ (ابن ماجہ)ترجمہ حدیث 2:حضرت فاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ میں نے حضورکو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تم لوگ خدائے تعالیٰ پر توکل کرلو جیسا کہ توکل کا حق ہے تو وہ تم کو اس طرح روزی دے گا جس طرح پرندوں کو روزی دیتا ہے کہ وہ صبح کو بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو شکم سیر ہو کر واپس لوٹتے ہیں۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 3:حضرت ابوذررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے فرمایا کہ حلال کو اپنے اوپر حرام کرلینے اور مال کو ضائع کردینے کا نام ترک ِدنیا نہیں ہے بلکہ دنیا سے بے رغبتی یہ ہے کہ جو کچھ (مال و دولت) تیرے ہاتھوں میں ہے اس پر بھروسہ نہ کر بلکہ اس پر بھروسہ کر جو خدائے تعالیٰ کی دست ِقدرت میں ہے ۔ (ترمذی)ترجمہ حدیث 4:حضرت صہیبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے فرمایا کہ مومن کا معاملہ عجیب ہے کہ اس کے ہر کام میں بھلائی ہے اور یہ شرف مومن کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں ہے اگر اسے خوشی کا موقع نصیب ہو اور اس پر خدا تعالیٰ کا شکر بجا لائے تو اس میں اس کے لیے بہتری ہے اور اگر کبھی مصیبت پہنچے اور وہ اس پر صبر کرے تو اس میں بھی اس کے لیے بہتری ہے ۔ (مسلم)ترجمہ حدیث 5:حضرت سعدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ سرکار ِاقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ آدمی کی نیک بختی یہ ہے کہ جو کچھاللّٰہتعالیٰ نے اس کے لیے مقدر کردیا ہے اس پر راضی رہے ۔ اور آدمی کی بدبختی یہ ہے کہ وہ خدائے تعالیٰ سے بھلائی مانگنا چھوڑ دے ۔ اور آدمی کی بدبختی یہ بھی ہے کہ خدائے تعالیٰ نے (اس کے بارے میں) جو کچھ مقدر فرمادیا ہے وہ اس پر آزردہ ہو۔ (احمد، ترمذی)

شرح حدیث

*****

ماخذ و مراجع

کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 106