- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- حدیث نمبر 105
نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 105
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’ عَنْ أَبِی سَعِیدِنِ الْخُدْرِیِّ عَنْ رَسُولِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ رَأَی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہِ فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہِ فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہِ وَذَلِکَ أَضْعَفُ الْإِیمَان‘‘۔ (مسلم)
حدیث 2:
’’عَنْ أَبِی بَکْرِنِ الصِّدِّیقِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا مُنْکَرًا فَلَمْ یُغَیِّرُوْہُ یُوشِکُ أَنْ یَعُمَّہُمْ اللّٰہ بِعِقَابِہِ‘‘۔
حدیث 3:
’’عَنْ الْعُرْسِ بْنِ عَمِیرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا عُمِلَتْ الْخَطِیءَۃُ فِی الْأَرْضِ مَنْ شَہِدَہَا فَکَرِہَہَا کَانَ کَمَنْ غَابَ عَنْہَا وَمَنْ غَابَ عَنْہَا فَرَضِیَہَا کَان کَمَنْ شَہِدَہَا‘‘
حدیث 4:
’’ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوْحَی اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ إِلَی جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ أَنِ اقْلِبْ مَدِیْنَۃ کَذَا وَکَذَا بِأَہْلِہَا فَقَالَ یَا رَبِّ إِنَّ فِیْہِمْ عَبْدَکَ فُلانًا لَمْ یَعْصِکَ طَرْفَۃَ عَیْنٍ قَالَ فَقَالَ اقْلِبْہَا عَلَیْہِ وَعَلَیْہِمْ فَإِنَّ وَجْہَہَ لَمْ یَتَمَعَّرْ فِیّ سَاعَۃً قَطُّ‘‘۔
حدیث 5:
’’ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَیْتُ لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِی رِجَالًا تُقْرَضُ شِفَاہُہُمْ بِمَقَارِیضَ مِنْ نَارٍ قُلْتُ مَنْ ہَؤُلَاءِ یَا جِبْرِیلُ؟ قَالَ ہَؤُلَاء خُطَبَاءمِنْ أُمَّتِکَ یَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَیَنْسَوْنَ أَنْفُسَہُمْ‘‘۔
حدیث 6:
’’ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُجَاءُ بِالرَّجُلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُلْقَی فِی النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُہُ فِی النَّارِ فَیَطْحَنُ فِیہَا کَطَحْنِ الْحِمَارِ بِرَحَاہُ فَیَجْتَمِعُ أَہْلُ النَّارِ عَلَیْہِ فَیَقُولُونَ أَیْ فُلَانُ مَا شَأْنُکَ أَلَیْسَ کُنْتَ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَانَا عَنِ الْمُنْکَرِ قَالَ کُنْتُ آمُرُکُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِیہِ وَأَنْہَاکُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَآتِیہِ‘‘۔
حدیث 1:
’’ عن ابی سعیدن الخدری عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فإن لم یستطع فبلسانہ فإن لم یستطع فبقلبہ وذلک اضعف الإیمان‘‘۔ (مسلم)
حدیث 2:
’’عن ابی بکرن الصدیق قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول إن الناس إذا راوا منکرا فلم یغیروہ یوشک ان یعمہم اللہ بعقابہ‘‘۔
حدیث 3:
’’عن العرس بن عمیرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال إذا عملت الخطیءۃ فی الارض من شہدہا فکرہہا کان کمن غاب عنہا ومن غاب عنہا فرضیہا کان کمن شہدہا‘‘
حدیث 4:
’’ عن جابر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اوحی اللہ عز وجل إلی جبریل علیہ السلام ان اقلب مدینۃ کذا وکذا باہلہا فقال یا رب إن فیہم عبدک فلانا لم یعصک طرفۃ عین قال فقال اقلبہا علیہ وعلیہم فإن وجہہ لم یتمعر فی ساعۃ قط‘‘۔
حدیث 5:
’’ عن انس ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال رایت لیلۃ اسری بی رجالا تقرض شفاہہم بمقاریض من نار قلت من ہؤلاء یا جبریل؟ قال ہؤلاء خطباءمن امتک یامرون الناس بالبر وینسون انفسہم‘‘۔
حدیث 6:
’’ عن اسامۃ بن زید قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یجاء بالرجل یوم القیامۃ فیلقی فی النار فتندلق اقتابہ فی النار فیطحن فیہا کطحن الحمار برحاہ فیجتمع اہل النار علیہ فیقولون ای فلان ما شانک الیس کنت تامرنا بالمعروف وتنہانا عن المنکر قال کنت آمرکم بالمعروف ولا آتیہ وانہاکم عن المنکر وآتیہ‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت ابوسعید خدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولِ کریمعلیہ الصلاۃوالتسلیمنے فرمایا کہ جو شخص کوئی بات خلافِ شرع دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روک دے اور اگر ہاتھ سے روکنے کی قدرت نہ ہو تو زبان سے منع کرے اور اگر زبان سے بھی منع کرنے کی قدرت نہ ہو تو دل سے بُرا جانے اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے ۔ (مسلم)ترجمہ حدیث 2:حضرت ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ میں نے حضورﷺکو فرماتے ہوئے سُنا کہ لوگ جب کوئی بات خلافِ شرع دیکھیں اور اس کو نہ مٹائیں تو عنقریب خدائے تعالیٰ ان کو اپنے عذاب میں مبتلا کرے گا۔ (ترمذی، ابن ماجہ)ترجمہ حدیث 3:حضرت عرس بن عمیرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے فرمایا کہ جب کسی جگہ کوئی گناہ کیا جائے تو جو شخص وہاں حاضر ہو مگر اسے وہ ناپسند سمجھتا ہو تو وہ اس آدمی کے مثل ہے جو وہاں موجود نہیں۔ ا ور جو شخص وہاںموجود نہ ہو لیکن اس کو پسند کرتا ہو تو وہ اس آدمی کے مثل ہے جو وہاں موجود ہو۔ (ابوداود)ترجمہ حدیث 4:حضرت جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمﷺنے فرمایا کہ خدائے تعالیٰ نے جبریلعلیہ السلامکو حکم دیا کہ فلاں شہر کو جو ایسا اور ایسا ہے اس کے باشندوں سمیت الٹ دو۔ جبریلعلیہ السلامنے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار ! ان باشندوں میں تیرا فلاں بندہ بھی ہے جس نے ایک لمحہ بھی تیری نافرمانی نہیں کی ہے تو خدائے تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ مکرر حکم دیتا ہوں کہ اس پر اور کل باشندوں پر شہر کو الٹ دو اس لیے کہ اس کا چہرہ گناہوں کو دیکھ کر میری خوشنودی کے لیے ایک لمحہ بھی متغیر نہیں ہوا۔ (بیہقی، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 5:حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورﷺنے فرمایا کہ میں نے معراج کی شب میں دیکھا کہ کچھ لوگوں کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جارہے ہیں۔ میں نے پوچھا جبریل یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا یہ آپ کی امت کے خطیب اور واعظ ہیں جو لوگوں کو نیکی کی ہدایت کرتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے یعنی خود نیک کام نہ کرتے تھے ۔ (شرح السنۃ ، مشکوۃ)ترجمہ حدیث 6:حضرت اُسامہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمنے فرمایا کہ قیامت کے دن ایک شخص کو لا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا تو اس کی آنتیں فوراً پیٹ سے نکل کر آگ میں گر پڑیں گی پھر وہ انہیں پیسے گا یعنی ان کے گرد چکر کاٹے گا جیسے پن چکی کا گدھا آٹا پیستا ہے ۔ تو دوزخی یہ دیکھ کر اس کے پاس جمع ہوجائیں گے اور اس سے کہیں گے اے فلاں! تیرا کیا حال ہے یعنی یہ تو کیا کررہا ہے ؟ کیا تو ہم کونیک کام کرنے اور برے کام سے باز رہنے کا حکم نہیں دیتا تھا؟ وہ کہے گا ہاں میں تم کو نیک کام کا حکم دیتا تھا اور خود اس کو نہیں کرتا تھا اور برے کام سے تم کو روکتا تھا اور خود اس کو کرتا تھا۔ (بخاری، مسلم)
شرح حدیث
شرح حدیث 6:حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاس حدیث شریف کے تحت فرماتے ہیں کہ:
’’ازیں جا معلوم شود کہ دیگراں را امر ونہی کردن وخود را بدان عمل نمودن موجب عذاب ست وایں بجہت عمل نہ نمودن ست نہ بجہت امر ونہی کردن کہ اگر ایں راہم نہ کند مستحق ترمی گردد آنرا بہ ترک دو واجب‘‘۔ ([1])
یعنی اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ دوسروں کو امرو نہی کرنا اور خود اس پر عمل نہ کرنا موجب عذاب ہے ۔ لیکن یہ عذاب عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہے امرو نہی کی وجہ سے نہیں ہے اس لیے کہ اگر امرو نہی بھی نہیں کرے گا تو دو واجب ترک کرنے کے سبب اور زیادہ مستحق عذاب ہوگا۔ (اشعۃ اللمعات، جلد چہارم ص۱۷۵)
اور اسی باب الامر بالمعروف کے شروع میں فرماتے ہیں کہ:
’’در وجوب امر بمعروف شرط نیست کہ آمر خود نیز فاعل باشد و بے آن نیز درست ست زیرا کہ امر کردن نفس خود واجب ست وامرکردن غیر واجبے دیگر۔اگر یک واجب فوت شود ترک واجب دیگر جائز نہ باشد،وآنکہ واقع شدہ کہ’’لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ‘‘بر تقدیر تسلیم کہ در ودآں در آمر معروف ونہی منکر باشد مراد زجر ومنع از ناکردن ست نہ ازگفتن۔اما شک نیست کہ اگر خود بکند بہتر ست چہ امر ازکسیکہ خود متمثل نیست تاثیرے نہ کند‘‘۔ ([2])
یعنی امربالمعروف کے واجب ہونے میں خود آمر کا بھی عامل ہونا شرط نہیں ہے بلکہ بغیر عمل بھی امر بالمعروف جائز ہے اس لیے کہ اپنے آپ کو امر بالمعروف کرنا واجب ہے اور دوسرے کو امر بالمعروف کرنا دوسرا واجب ہے اگر ایک واجب فوت ہوجائے تو دوسرے واجب کا چھوڑنا ہر گز جائز نہ ہوگا اور وہ جو قرآن مجید پارہ ۲۸ میں ’’لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ‘‘آیا ہے اگر اسے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے میں تسلیم بھی کرلیا جائے تو عمل نہ کرنے پر زجرو توبیخ مراد ہے نہ کہ کہنے پر ۔ ہاں اس میں شک نہیں ہے کہ اگر خود بھی عمل کرے تو بہتر ہے اس لیے کہ ایسے شخص کا امربالمعروف کرنا اثر نہیں کرتا جو خود بے عمل ہے ۔انتباہ :(۱)…امر بالمعروف کی چند صورتیں ہیں۔ اگر غالب گمان ہو کہ نصیحت کو قبول کرلیں گے اور برائی سے رُک جائیں گے تو ایسی صورت میں نصیحت کرنا واجب ہے خاموش رہنا جائز نہیں۔ اور اگر غالب گمان ہو کہ نصیحت کرنے پر لوگ بُر ابھلا کہیں گے یا مار پیٹ کریں گے جس سے دشمنی اور عداوت پیدا ہوگی تو ان صورتوں میں خاموش رہنا افضل ہے ۔ اور اگر مار پیٹ کو صبر کرلے گا تو مجاہد ہے ایسے شخص کو امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں کوئی حرج نہیں اور اگر جانتا ہے کہ نصیحت قبول نہ کریں گے اور مار پیٹ و گالی گلوچ کا اندیشہ بھی نہیں تو نصیحت کرنے نہ کرنے کا اختیار ہے اور بہتر یہ ہے کہ اس صورت میں نصیحت کرے ۔
جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری جلد پنجم ص:۳۰۹میں ہے : ’’ذَکَرَ الْفَقِیہُ فِی کِتَابِ الْبُسْتَانِ أَنَّ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ عَلَی وُجُوہٍ إنْ کَانَ یَعْلَمُ بِأَکْبَرِ رَأْیِہِ أَنَّہُ لَوْ أَمَرَ بِالْمَعْرُوفِ یَقْبَلُونَ ذَلِکَ مِنْہُ وَیَمْتَنِعُونَ عَنِ الْمُنْکَرِ فَالْأَمْرُ وَاجِبٌ عَلَیْہِ وَلَا یَسَعُہُ تَرْکُہُ وَلَوْ عَلِمَ بِأَکْبَرِ رَأْیِہِ أَنَّہُ لَوْ أَمَرَہُمْ بِذَلِکَ قَذَفُوہُ وَشَتَمُوہُ فَتَرْکُہُ أَفْضَلُ،وَکَذَلِکَ لَوْ عَلِمَ أَنَّہُمْ یَضْرِبُونَہُ وَلَا یَصْبِرُ عَلَی ذَلِکَ وَیَقَعُ بَیْنَہُمْ عَدَاوَۃٌ وَیَہِیجُ مِنْہُ الْقِتَالُ فَتَرْکُہُ أَفْضَلُ،وَلَوْ عَلِمَ أَنَّہُمْ لَوْ ضَرَبُوہُ صَبَرَ عَلَی ذَلِکَ وَلَا یَشْکُو إلَی أَحَدٍ فَلَا بَأْسَ بِأَنْ یَنْہَی عَنْ ذَلِکَ وَہُوَ مُجَاہِدٌ وَلَوْ عَلِمَ أَنَّہُمْ لَا یَقْبَلُونَ مِنْہُ وَلَا یَخَافُ مِنْہُ ضَرْبًا وَلَا شَتْمًا فَہُوَ بِالْخِیَارِ وَالْأَمْرُ أَفْضَلُ کَذَا فِی الْمُحِیطِ‘‘۔ ([3])
(۲)…برائی دیکھنے والے پرلازم ہے کہ اس سے روکے اگرچہ وہ خود اس برائی میں مبتلا ہو اس لیے کہ شرع نے برائی سے بچنا اور دوسرے کو اس سے روکنا یہ دونوں باتیں لازم کی ہیں۔ تو برائی سے نہ بچنے پر روکنے سے بری الذمہ نہیں ہوگا۔
جیسا کہ فتاویٰ ہندیہ ، جلد پنجم ص: ۳۰۹میں ہے : ’’رَجُلٌ رَأَی مُنْکَرًا وَہَذَا الرَّاءِی مِمَّنْ یَرْتَکِبُ ہَذَا الْمُنْکَرَ یَلْزَمُہُ أَنْ یَنْہَی عَنْہُ لِأَنَّ الْوَاجِبَ عَلَیْہِ تَرْکُ الْمُنْکَرِ وَالنَّہْیُ عَنْہُ فَبِتَرْکِ أَحَدِہِمَا لَا یَسْقُطُ عَنْہُ الْآخَرُ کَذَا فِی خِزَانَۃِ الْمُفْتِینَ وَہَکَذَا فِی الْمُلْتَقَطِ وَالْمُحِیطِ‘‘۔ ([4])
------------------
∞[1] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الآداب،باب الأمر بالمعروف،الفصل الأول،ج۴،ص۱۹۱.[2] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الآداب،باب الأمر بالمعروف،ج۴،ص۱۸۹.[3] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الکراھیۃ،الباب السابع عشر فی الغناء إلخ،ج۵،ص۳۵۲.[4] ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الکراھیۃ،الباب السابع عشر فی الغناء إلخ،ج۵،ص۳۵۳.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 105