- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- حدیث نمبر 103
تصویر سازی - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 103
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’عَنْ أَبِی طَلْحَۃَ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَدْخُلُ الْمَلَاءِکَۃُ بَیْتًا فِیہِ کَلْبٌ وَلَا تَصَاوِیرُ‘‘۔
حدیث 2:
’’عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللّٰہ الْمُصَوِّرُونَ‘‘ ۔
حدیث 3:
’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ مَنْ صَوَّرَ صُورَۃً فَإِنَّ اللّٰہ مُعَذِّبُہُ حَتَّی یَنْفُخَ فِیہِ الرُّوحَ وَلَیْسَ بِنَافِخٍ فِیہَا أَبَدًا‘‘۔ (بخاری)
حدیث 4:
’’عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُولَءِکَ إِذَا مَاتَ فِیہِمْ الرَّجُلُ الصَّالِحُ بَنَوْا عَلَی قَبْرِہِ مَسْجِدًا ثُمَّ صَوَّرُوا فِیہِ تِلْکَ الصُّوَرَ أُولَءِکَ شِرَارُ خَلْقِ اللّٰہ‘‘۔
حدیث 1:
’’عن ابی طلحۃ قال قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا تدخل الملاءکۃ بیتا فیہ کلب ولا تصاویر‘‘۔
حدیث 2:
’’عن عبد اللہ بن مسعود قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اشد الناس عذابا عند اللہ المصورون‘‘ ۔
حدیث 3:
’’عن ابن عباس قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول من صور صورۃ فإن اللہ معذبہ حتی ینفخ فیہ الروح ولیس بنافخ فیہا ابدا‘‘۔ (بخاری)
حدیث 4:
’’عن عائشۃ قالت قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم اولءک إذا مات فیہم الرجل الصالح بنوا علی قبرہ مسجدا ثم صوروا فیہ تلک الصور اولءک شرار خلق اللہ‘‘۔
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت ابو طلحہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ حضورﷺنے فرمایا کہ جس گھر میں کتا یا تصویریں ہوں اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے ۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 2:حضرت عبداللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ میں نے رسولِ کریمﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ خدائے تعالیٰ کے یہاں سب سے زیادہ عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا جو جاندار کی تصویریں بناتے ہیں۔ (بخاری، مسلم)ترجمہ حدیث 3:حضرت ِ ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا کہ میں نے رسولِ کریمعلیہ الصلاۃ والتسلیمکو فرماتے ہوئے سُنا کہ جو شخص ( جاندار کی) تصویر بنائے گا تو خدائے تعالیٰ بالیقین اسے عذاب دے گا یہاں تک کہ وہ اپنی بنائی ہوئی تصویر میں جان ڈال دے ۔ ا ور یہ حقیقت ہے کہ وہ اس میں کبھی جان نہیں ڈال سکے گا ( اس لیے عذاب کا مستحق ہونا یقینی ہے )۔ (بخاری شریف)ترجمہ حدیث 4:حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُا نے کہا کہ نبی کریمﷺنے فرمایا کہ حبشہ کے لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب ان میں کوئی نیک آدمی مرجاتا ہے تو وہ لوگ اس کی قبر پر عبادت خانہ بنالیتے ہیں پھر اس میں ان ( نیک لوگوں کی) تصویر بناتے ہیں یہ لوگ خدائے تعالیٰ کی بدترین مخلوق ہیں۔ (مشکوۃ)
شرح حدیث
ضروری اِنتباہ :آج کل بہت سے جاہل گنوار صوفی کہلانے والے اور بزرگان دین سے جھوٹی محبت کا دعویٰ کرنے والے ، حضرت غوث پاک ، حضرت خواجہ غریب نواز، حضرت محبوبِ الہٰی، حضرت صابر کلیری، حضرت کلیماللّٰہشاہ جہاں آبادی، حضرت تاج الدین ناگ پوری، حضرت حاجی وارث علی شاہ اور دیگر اولیائے کرام و بزرگانِ دینرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماجمعین کی تصویریں اپنے گھروں اور دوکانوں میں رکھتے ہیں یہ سخت ناجائز اور گناہ ہے اور بعض لوگ بزرگوں کی تصویر کے سامنے با ادب بیٹھ کر ان کا تصور کرتے ہیں یہ بت پرستی کے مشابہ ہے بلکہ اسلام میں بت پرستی کا دروازہ کھولنا ہے تو سخت حرام اور ناجائز ہے ۔
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 103