- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- حدیث نمبر 102
ریاکاری - اَنْوارُ الحَدِیْثْ - حدیث نمبر: 102
حدیث مبارکہ
حدیث 1:
’’عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِیْدٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَیْکُمْ الشِّرْکُ الْأَصْغَرُ قَالُوا یَا رَسُولَ اللّٰہ وَمَا الشِّرْکُ الْأَصْغَرُ قَالَ الرِّیَاء‘‘۔
حدیث 2:
’’عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ عَمْرٍو أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِہِ سَمَّعَ اللّٰہ بِہِ اُسَامِعَ( ) خَلْقِہِ وَحَقَّرَہُ وَصَغَّرَہُ‘‘۔
حدیث 3:
’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا صَلَّی فِی الْعَلاَنِیَۃِ فَأَحْسَنَ وَصَلَّی فِی السِّرِّ فَأَحْسَنَ قَالَ اللّٰہ تَعَالَی ہَذَا عَبْدِی حَقًّا‘‘۔
حدیث 4:
’’عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ مَنْ صَلَّی یُرَاءِی فَقَدْ أَشْرَکَ وَمَنْ صَامَ یُرَاءِی فَقَدْ أَشْرَکَ وَمَنْ تَصَدَّقَ یُرَاءِی فَقَدْ أَشْرَکَ‘‘۔ (احمد، مشکوۃ)
حدیث 1:
’’عن محمود بن لبید ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال إن اخوف ما اخاف علیکم الشرک الاصغر قالوا یا رسول اللہ وما الشرک الاصغر قال الریاء‘‘۔
حدیث 2:
’’عن عبد اللہ بن عمرو انہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول من سمع الناس بعملہ سمع اللہ بہ اسامع( ) خلقہ وحقرہ وصغرہ‘‘۔
حدیث 3:
’’عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إن العبد إذا صلی فی العلانیۃ فاحسن وصلی فی السر فاحسن قال اللہ تعالی ہذا عبدی حقا‘‘۔
حدیث 4:
’’عن شداد بن اوس قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول من صلی یراءی فقد اشرک ومن صام یراءی فقد اشرک ومن تصدق یراءی فقد اشرک‘‘۔ (احمد، مشکوۃ)
حدیث ترجمہ
ترجمہ حدیث 1:حضرت محمود بن لبیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا کہ تمہارے بارے میں جس چیز سے میں بہت ڈرتا ہوں وہ شرکِ اصغر ہے ۔ صحابہ نے عرض کیا یارسولاللّٰہ! شرکِ اصغر کیا چیز ہے ؟ فرمایا ریا ( یعنی دکھاوے کے لیے کام کرنا )۔ (احمد)ترجمہ حدیث 2:حضرت عبداللّٰہبن عمرورَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسولِ کریمﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص لوگو ں میں اپنے عمل کا چرچا کر ے گا تو خدائے تعالیٰ اس کی (ریا کاری) کو لوگوںمیں مشہور کردے گا اور اس کو ذلیل و رسوا کرے گا۔ (بیہقی)ترجمہ حدیث 3:حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمﷺنے فرمایا کہ بندہ نے جب علانیہ نماز پڑھی تو خوبی کے ساتھ پڑھی اور جب پوشیدہ طور پر پڑھی تو بھی خوبی کے ساتھ پڑھی تو خدائے تعالی فرماتا ہے کہ میرا یہ بندہ سچا ہے ( یعنی ریا کاری نہیں کرتا)۔ (ابن ماجہ)ترجمہ حدیث 4:حضرت شداد بن اوسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ میں نے حضورﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے دکھاوے کے لیے نماز پڑھی اس نے شرک کیا اور جس شخص نے دکھاوے کے لیے روزہ رکھا تو اس نے شرک کیا اور جس نے دکھاوے کے لیے صدقہ کیا تواس نے شرک کیا۔ (احمد، مشکوۃ)
شرح حدیث
شرح حدیث 4:حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ:
’’ہر عملے کہ بریا کند شرک ست۔غایت آنکہ شرک دوقسم جلی ست وخفی،شرک آشکارا بت پرستی کردن ومرائی کہ برائے غیر خدا عمل سیکند نیز بت پرستی می کند لیکن پنہانی چنانکہ گفتہ اند کُلُّ مَا صَدَّکَ عَنِ اللّٰہ فَھُوَ صَنَمُکَ‘‘۔ ([1])
یعنی جو کام دکھاوے کے لیے کرے شرک ہے ۔ خلاصہ یہ کہ شرک کی دو قسمیں ہیں جلی اور خفی بت پرستی کرنا کھلم کھلا شرک ہے ۔ ( یہ شرک جلی ہے ) اور ریا کار جو کہ غیر خدا کے لیے عمل کرتا ہے وہ بھی پوشیدہ طور پر بت پرستی کرتا ہے ( یعنی یہ شرک خفی ہے ) جیسا کہ کہا گیا ہے کہ ہر وہ چیز جو تجھے خدائے تعالیٰ سے روکے وہ تیرا بت ہے ۔ (اشعۃ اللمعات،ترجمہ مشکوۃ،جلد چہارم،ص۲۵۰)
------------------
∞[1] ’’اشعۃ اللمعات‘‘،کتاب الرقاق،باب الریا والسمعۃ،ج۴،ص۲۷۲.
ماخذ و مراجع
کتاب: اَنْوارُ الحَدِیْثْ جلد: 1 , حدیث نمبر: 102