DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Isra Ayat 34 Translation Tafseer

رکوعاتہا 12
سورۃ ﰋ
اٰیاتہا 111

Tarteeb e Nuzool:(50) Tarteeb e Tilawat:(17) Mushtamil e Para:(15) Total Aayaat:(111)
Total Ruku:(12) Total Words:(1744) Total Letters:(6554)
34

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّه۪ٗ-وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر اسی طریقے سے جو سب سے اچھا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی پکی عمر کو پہنچ جائے اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ:اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ۔} اس آیت میں  ایک کبیرہ گناہ سے منع کیا گیا ہے اور ایک اہم چیز کا حکم دیا گیا ہے۔ کبیرہ گناہ تو یتیم کے مال میں  خیانت کرنا ہے اور اہم چیز وعدہ پورا کرنا ہے۔ یتیم کا کل یا بعض مال غصب کرلینا ،اس میں  خیانت کرنا، اس کے دینے میں  بلاوجہ ٹال مٹول کرنا یہ سب حرام ہے چنانچہ فرمایا کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر صرف اچھے طریقے سے اور وہ یہ ہے کہ اس کی حفاظت کرو اور اس کو بڑھاؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ یتیم کا ولی یتیم کے مال سے تجارت وغیرہ کر سکتا ہے، جس سے اس کا مال بڑھے کہ یہ احسن میں  داخل ہے اور ایسے ہی اس کا روپیہ سود کے بغیر بینک وغیرہ میں  اس کے نام پر رکھنا جائز ہے کہ یہ حفاظت کی قسم ہے۔ دوسرا حکم یہاں  ارشاد فرمایا کہ یتیموں  کا مال ان کے حوالے کردو جب وہ یتیم اپنی پُختہ عمر کو پہنچ جائے اور وہ اٹھارہ سال کی عمر ہے۔ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے نزدیک یہی مختار ہے اور امامِ اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے علامات ظاہر نہ ہونے کی حالت میں  انتہائی مدت ِبلوغ اسی آیت سے اِستدلال کرکے اٹھارہ سال قرار دی ہے۔(تفسیرات احمدیہ، بنی اسرائیل، تحت الآیۃ: ۳۴، ص۵۰۸)

{وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ: اور عہد پورا کرو۔} آیت میں  عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیاہے خواہ وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ہو یا بندوں  کا۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد اس کی بندگی اور اطاعت کرنے کا ہے(روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۴، ۵ / ۱۵۵، خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۴، ۳ / ۱۷۴، ملتقطاً)اور بندوں  سے عہد میں  ہر جائز عہد داخل ہے۔افسوس کہ وعدہ پورا کرنے کے معاملے میں  بھی ہمارا حال کچھ اچھا نہیں  بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں  اور لوگ ایک دوسرے سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں ۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links