DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Isra Ayat 45 Translation Tafseer

رکوعاتہا 12
سورۃ ﰋ
اٰیاتہا 111

Tarteeb e Nuzool:(50) Tarteeb e Tilawat:(17) Mushtamil e Para:(15) Total Aayaat:(111)
Total Ruku:(12) Total Words:(1744) Total Letters:(6554)
45

وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ(۴۵)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور اے حبیب! جب تم نے قرآن پڑھا تو ہم نے تمہارے اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے درمیان ایک چھپا ہوا پردہ کردیا۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ:اور اے حبیب! جب تم نے قرآن پڑھا ۔} اِس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ جب سورۂ تَبَّتْ یَدَا نازل ہوئی تو ابولہب کی بیوی پتھر لے کر آئی ، حضورِاقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَبمع حضرت ابوبکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے تشریف رکھتے تھے، وہ حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نہ دیکھ سکی ا ور حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہنے لگی، تمہارے آقا کہاں  ہیں ؟ مجھے معلوم ہوا ہے اُنہوں  نے میری ہَجْوْ ( مذمت) کی ہے۔ حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ،وہ شعر گوئی نہیں  کرتے ہیں ۔ تو وہ یہ کہتی ہوئی واپس ہوئی کہ میں  ان کا سر کچلنے کے لئے یہ پتھر لائی تھی۔ حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بڑے تعجب سے عرض کیا کہ (آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے یہاں  موجود ہونے کے باوجود) اس نے آپ کو دیکھا نہیں ؟ رسول اکرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ میرے اور اس کے درمیان ایک فرشتہ حائل رہا ۔ اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۴۵، ۳ / ۱۷۶)

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links