DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Humazah Ayat 1 Translation Tafseer

رکوعاتہا 1
سورۃ ﴬ
اٰیاتہا 9

Tarteeb e Nuzool:(32) Tarteeb e Tilawat:(104) Mushtamil e Para:(30) Total Aayaat:(9)
Total Ruku:(1) Total Words:(35) Total Letters:(134)
1

وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ ﹰۙ (۱)
ترجمہ: کنزالعرفان
اس کے لیے خرابی ہے جو لوگوں کے منہ پر عیب نکالے، پیٹھ پیچھے برائی کرے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ: اس کے لیے خرابی ہے جو لوگوں  کے منہ پر عیب نکالے، پیٹھ پیچھے برائی کرے۔}  یہ آیتیں  ان کفار کے بارے میں  نازل ہوئیں  جوسرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ  پر اعتراضات کرتے تھے اور ان حضرات کی غیبت کرتے تھے،جیسے اَخنس بن شُریق، اُمیہ بن خلف اور ولید بن مغیرہ وغیرہ اور اس آیت میں  مذکور حکم ہر غیبت کرنے والے کے لئے عام ہے۔(جلالین، الہمزۃ، تحت الآیۃ: ۱، ص۵۰۶، مدارک، الہمزۃ، تحت الآیۃ: ۱، ص۱۳۷۳، ملتقطاً)

غیبت اور عیب جوئی کی مذمت:

            ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ‘‘(حجرات:۱۲)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے اور( پوشیدہ باتوں  کی)جستجونہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں  کوئی پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں  ناپسند ہوگا اور اللّٰہ سے ڈرو بیشک اللّٰہ بہت توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔

            اور حضرتِ انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میں  معراج کی رات ایسی قوم کے پاس سے گزرا جو اپنے چہروں  اورسینوں  کو تانبے کے ناخنوں سے نوچ رہے تھے۔ میں  نے پوچھا : اے جبرئیل ! عَلَیْہِ السَّلَام ،یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں  نے عرض کی: یہ لوگوں  کا گوشت کھاتے (یعنی غیبت کرتے)تھے اور ان کی عزت خراب کرتے تھے۔( ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی الغیبۃ، ۴ / ۳۵۳، الحدیث: ۴۸۷۸)

            حضرت راشد بن سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے، رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ معراج کی رات میں ایسی عورتوں  اور مَردوں  کے پاس سے گزرا جو اپنی چھاتیوں  کے ساتھ لٹک رہے تھے، تو میں  نے پوچھا:اے جبرئیل! عَلَیْہِ السَّلَام ،یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں  نے عرض کی:یہ منہ پر عیب لگانے والے اور پیٹھ پیچھے برائی کر نے والے ہیں  اور ان کے بارے میں  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: ’’وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ ‘‘ اس کے لیے خرابی ہے جو لوگوں  کے منہ پر عیب نکالے، پیٹھ پیچھے برائی کرے۔( شعب الایمان ، الرابع و الاربعون من شعب الایمان... الخ ، فصل فیما ورد من الاخبار فی التشدید... الخ ، ۵ / ۳۰۹، الحدیث: ۶۷۵۰)

            اللّٰہ تعالیٰ ہمیں  غیبت اور عیب جوئی جیسے مذموم اعمال سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links