DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Isra Ayat 30 Translation Tafseer

رکوعاتہا 12
سورۃ ﰋ
اٰیاتہا 111

Tarteeb e Nuzool:(50) Tarteeb e Tilawat:(17) Mushtamil e Para:(15) Total Aayaat:(111)
Total Ruku:(12) Total Words:(1744) Total Letters:(6554)
30

اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُؕ-اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠(۳۰)
ترجمہ: کنزالعرفان
بیشک تمہارا رب جس کیلئے چاہتا ہے رزق کھول دیتا ہے اور تنگ کردیتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں کی خوب خبر رکھنے والا، دیکھنے والا ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ:بیشک تمہارا رب جس کیلئے چاہتا ہے رزق کھول دیتا ہے ۔} یعنی رزق کشادہ کرنا یا تنگ کردینا اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی قدرت میں  ہے، وہی جس کا رزق بڑھانا چاہے بڑھا دیتا ہے اور جس کا تنگ کرنا چاہے تنگ کردیتا ہے ، وہ   تمام لوگوں  کے حالات اور مصلحتوں  کو خوب جانتا ہے ، لہٰذا اس نے جسے امیر بنایا وہ بھی حکمت کے مطابق ہے اور جسے غریب رکھا وہ بھی حکمت کے مطابق ہے۔( روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۰، ۵ / ۱۵۲، ملخصاً)

 لوگوں  کو امیر و غریب بنائے جانے کی حکمتیں :

            اللّٰہ تعالیٰ نے تمام انسانوں  کو مالی اعتبار سے ایک جیسا نہیں  بنایا بلکہ بعض کو امیر بنایا اور بعض کو غریب رکھا اور اِس میں  اُس کی بے شمار حکمتیں  پوشیدہ ہیں ، جیسے ایک حکمت یہ ہے کہ بعض لوگوں  کے ایمان کی بھلائی اسی میں  ہوتی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ انہیں  مال عطا کرے اور اگر وہ غریب ہوں  تو ان کا ایمان تباہ ہو جائے گا اس لئے اللّٰہ تعالیٰ انہیں  کثیر مال عطا کرتا ہے اور بعض لوگوں  کے ایمان کی بھلائی اسی میں  ہوتی ہے کہ ان کے پاس مال کم ہو اور اگر ان کے پاس زیادہ مال آجائے تو ان کا ایمان ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے اس لئے اللّٰہ تعالیٰ انہیں  غریب رکھتا ہے۔ اسی طرح بعض کو امیر اور بعض کو غریب بنانے کی ایک حکمت یہ ہے کہ اس سے دُنْیوی معاملات کاانتظام اچھے طریقے سے چل رہا ہے اور ہر انسان کی ضروریاتِ زندگی کی تکمیل ہورہی ہے کہ اگر تمام انسانوں  کو امیر کر دیاجائے تو اس سے دُنْیوی معاملات کا نظام تباہ ہو جائے گا کیونکہ اس صورت میں  کوئی کسی کا نوکر ، خادم یا ملازم بننے کو تیار نہ ہو گا ،یونہی کوئی گلیوں  بازاروں  ، کچرا کنڈی اور باتھ روموں  کی صفائی کرنے پر راضی نہ ہوگا، ایسے ہی کوئی ایسا پیشہ اختیار کرنے پر رضا مند نہ ہو گا جسے امیر لوگ پسند نہیں  کرتے جیسے جوتوں  کی سلائی صفائی کا کام، حجامت بنانے اور کپڑوں  کی سلائی کا کام وغیرہ، یوں  شہری اور ملکی نظام کا جو حال ہو گا و ہ ہر عقلمند آسانی سے سمجھ سکتا ہے اس لئے ہر ایک کو چاہئے کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے اوراس کی قضا پر راضی رہے اور اگر اس کے رزق میں  تنگی ہو تو صبر کرے اور رزق میں  وسعت ہو تو اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links