DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Araf Ayat 60 Translation Tafseer

رکوعاتہا 24
سورۃ ﷳ
اٰیاتہا 206

Tarteeb e Nuzool:(39) Tarteeb e Tilawat:(7) Mushtamil e Para:(08-09) Total Aayaat:(206)
Total Ruku:(24) Total Words:(3707) Total Letters:(14207)
59-60

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ(۵۹)قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(۶۰)
ترجمہ: کنزالعرفان
بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا: اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو ۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ۔بے شک میں تم پر بڑے دن کے عذاب کا خوف کرتا ہوں ۔اس کی قوم کے سردار بولے :بیشک ہم تمہیں کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں ۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا:بیشک ہم نے نوح کو بھیجا۔} اس سے ماقبل آیات میں اللہ تعالیٰ نے  اپنی قدرت اور وحدانیت کے دلائل اور اپنی عجیب و غریب صنعتوں سے متعلق بیان فرمایا، ان سے اللہ تعالیٰ کا واحد اور رب ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ پھر مرنے کے بعد اُٹھنے اور زندہ ہونے کی صحت پر مضبوط ترین دلیل قائم فرمائی ان سب کے بعد بڑی تفصیل سے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات بیان فرمائے کہ وہ بھی اپنی امتوں کوتوحید ورسالت اورعقیدۂ قیامت کی طرف دعوت دیتے رہے، اِس سے یہ معلوم ہوا کہ یہ دعوت کوئی نئی نہیں بلکہ ہمیشہ سے انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام انہی چیزوں کی دعوت دیتے آئے ہیں پھر اس کے ساتھ اس بات کو بھی بار بار دہرایا گیا کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعوت کے انکار کو معمولی نہ سمجھا جائے بلکہ پہلی امتوں کے احوال کو پیشِ نظر رکھا جائے کہ ان میں سے جنہوں نے انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو جھٹلایا اور ان کے بیان کردہ عقیدہ ِتوحیدورسالت اور حشر و نشر کا انکار کیا وہ تباہ و برباد ہوگئے۔ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے واقعات میں سب سے پہلے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ذکر کیا گیا کیونکہ کفار کی طرف بھیجے جانے والے پہلے رسول یہی تھے۔

حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مختصر تعارف:

            حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اسم گرامی یشکر یا عبدُ الغفار ہے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامحضرت ادریس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پڑپوتے تھے۔ آپ کا لقب ’’نوح‘‘ اس لئے ہو اکہ آپ کثرت سے گریہ و زاری کیا کرتے تھے ، چالیس یا پچاس سال کی عمر میں نبوت سے سرفراز فرمائے گئے۔

            حضرت نوحعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو عبادتِ الٰہی کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: اے میری قوم ! ایمان قبول کر کے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرو کیونکہ اس کے سوا کوئی اور ایسا ہے ہی نہیں کہ جس کی عبادت کی جا سکے ، وہی تمہارا معبود ہے اور جس چیز کا میں تمہیں حکم دے رہا ہوں اس میں اگر تم  میری نصیحت قبول نہ کرو گے اور راہِ راست پر نہ آؤ گے تومجھے تم پر بڑے دن یعنی روزِ قیامت یا روز ِطوفان  کے عذاب کا خوف ہے۔

نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نبوت کی زبردست دلیل:

             انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ان تذکروں میں سید ِ عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت کی زبردست دلیل ہے کیونکہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُمّی تھے، پھر آپ کا ان واقعات کو تفصیلاًبیان فرمانا بالخصوص ایسے ملک میں جہاں اہلِ کتاب کے علماء بکثرت موجود تھے اور سرگرم مخالف بھی تھے ،ذراسی بات پاتے تو بہت شور مچاتے، وہاں حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا ان واقعات کو بیان فرمانا اور اہلِ کتاب کا ساکت و حیران رہ جانا اس بات کی صریح دلیل ہے کہ آپ نبی ٔ برحق ہیں اور پروردِگار عالم عَزَّوَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر علوم کے دروازے کھول دیئے ہیں۔

          نوٹ: حضرت نوحعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اپنی قوم کو راہِ راست پر آنے کی دعوت دینے اور ان کی قوم پر آنے والے عذاب کا تفصیلی ذکر سورۂ ہود آیت25تا 48 میں بھی مذکور ہے۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links