DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Araf Ayat 27 Translation Tafseer

رکوعاتہا 24
سورۃ ﷳ
اٰیاتہا 206

Tarteeb e Nuzool:(39) Tarteeb e Tilawat:(7) Mushtamil e Para:(08-09) Total Aayaat:(206)
Total Ruku:(24) Total Words:(3707) Total Letters:(14207)
27

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَ جَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَاؕ-اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْؕ-اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۲۷)
ترجمہ: کنزالعرفان
اے آدم کی اولاد! تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈالے جیسے اس نے تمہارے ماں باپ کوجنت سے نکال دیا، ان دونوں سے ان کے لباس اتروا دئیے تاکہ انہیں ان کی شرم کی چیزیں دکھا دے۔ بیشک وہ خود اور اس کا قبیلہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے ۔بیشک ہم نے شیطانوں کو ایمان نہ لانے والوں کا دوست بنا دیا ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ:اے آدم کی اولاد!} شیطان کی فریب کاری اور حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ اس کی دشمنی وعداوت کا بیان فرما کر بنی آدم کو مُتَنَبّہ اور ہوشیار کیا جارہا ہے کہ وہ شیطان کے وسوسے ،اغواء اور اس کی مکاریوں سے بچتے رہیں۔ جو حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ ایسی فریب کاری کرچکا ہے وہ اُن کی اولاد کے ساتھ کب درگزر کرنے والا ہے۔ اس میں مومن، کافر، ولی، عالم، پرہیز گار سب سے خطاب ہے، کوئی اپنے آپ کو ابلیس سے محفوظ نہ جانے چنانچہاللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’اے آدم کی اولاد! تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈالے جیسے اس نے تمہارے ماں باپ کوجنت سے نکال دیا، ان دونوں سے ان کے لباس اتروا دئیے تاکہ انہیں ان کی شرم کی چیزیں دکھا دے۔

{ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ:بیشک وہ خود تمہیں دیکھتا ہے۔} یعنی شیطان اور اس کی ذریت سارے جہان کے لوگوں کو دیکھتے ہیں جبکہ لوگ انہیں نہیں دیکھتے۔ جہاں کسی نے کسی جگہ اچھے کام کا ارادہ کیا، اُسے اُس کی نیت کی خبر ہو گئی اور فوراً بہکادیا۔

شیطان سے مقابلہ کرنے اور اسے مغلوب کرنے کے طریقے:

            یاد رہے کہ جو دشمن تمہیں دیکھ رہا ہے اور تم اسے نہیں دیکھ رہے ا س سے اللہ تعالیٰ کے بچائے بغیر خلاصی نہیں ہو سکتی جیساکہ حضرت ذوالنون رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ شیطان ایسا ہے کہ وہ تمہیں دیکھتا ہے اور تم اُسے نہیں دیکھ سکتے لیکن اللہ تعالیٰ تو اسے دیکھتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتا تو تم اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ سے مدد چاہو۔ (روح البیان، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۷، ۳ / ۱۵۰)

            لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنی عقل سے کام لیتے ہوئے اس کے نقصان سے بہت زیادہ ڈرے اور ہر وقت اس سے مقابلے کے لئے تیار رہے۔

            امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’ صوفیاءِ کرام کے نزدیک شیطان سے جنگ کرنے اور اسے مغلوب کرنے کے دو طریقے ہیں :

(1)… شیطان کے مکرو فریب سے بچنے کے لئے صرف اللہ تعالیٰ کی پناہ لی جائے، اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں کیونکہ شیطان ایک ایسا کتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تم پر مُسلَّط فرمادیا ہے، اگر تم ا س سے مقابلہ و جنگ کرنے اور اسے (خود سے) دور کرنے میں مشغول ہوگئے تو تم تنگ آ جاؤ گے اور تمہارا قیمتی وقت ضائع ہو جائے گا اور بالآخر وہ تم پر غالب آ جائے گا اور تمہیں زخمی و ناکارہ بنا دے گا ا س لئے اس کے مالک ہی کی طرف متوجہ ہونا پڑے گا اور اسی کی پناہ لینی ہو گی تاکہ وہ شیطان کو تم سے دور کر دے اور یہ تمہارے لئے شیطان کے ساتھ جنگ اور مقابلہ کرنے سے بہتر ہے۔

(2)…شیطان سے مقابلہ کرنے، اسے دفع دور کرنے اور ا س کی تردید و مخالفت کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔

میں (امام غزالی) کہتا ہوں :میرے نزدیک ا س کا جامع اور بہترین طریقہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا دونوں طریقوں کو بروئے کار لایا جائے لہٰذا سب سے پہلے شیطان مردود کی شرارتوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لی جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کا حکم فرمایا ہے اوراللہ تعالیٰ ہمیں شیطان لعین سے محفوظ رکھنے کے لئے کافی ہے۔ اس کے بعد بھی اگر تم یہ محسوس کرو کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ لینے کے باوجود شیطان تم پر غالب آنے کی کوشش کر رہا ہے اور تمہارا پیچھا نہیں چھوڑ رہا تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ تمہارا امتحان لینا چاہتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے مجاہدے اور عبادت میں تمہاری قوت کی سچائی و صفائی دیکھے اور تمہارے صبر کی جانچ فرمائے۔ جیساکہ کافروں کو ہم پر مسلط فرمایا حالانکہ اللہ تعالیٰ کفار کے عزائم اور ان کی شر انگیزیوں کو ہمارے جہاد کئے بغیر ملیا میٹ کر دینے پر قادر ہے لیکن وہ انہیں صفحہ ہستی سے ختم نہیں فرماتا بلکہ ہمیں ان کے خلاف جہاد کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ جہاد، صبر ،گناہوں سے چھٹکارا اور شہادت سے ہمیں بھی کچھ حصہ مل جائے اور ہم اس امتحان میں کامیاب و کامران ہو جائیں تو اسی طرح ہمیں شیطان سے بھی انتہائی جاں فشانی کے ساتھ مقابلہ اور جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، پھر ہمارے علماءِ کرام فرماتے ہیں کہ شیطان سے مقابلہ کرنے اور اس پر غلبہ حاصل کرنے کے تین طریقے ہیں :

(1)…تم شیطان کے مکر و فریب اور اس کی حیلہ سازیوں سے ہوشیار ہو جاؤ کیونکہ جب تمہیں اس کی حیلہ سازیوں کا علم ہو گا تو وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچاسکے گا، جس طرح چور کو جب معلوم ہو جاتا ہے کہ مالک مکان کو میرے آنے کا علم ہو گیا ہے تو وہ بھاگ جاتا ہے۔

(2)…جب شیطان تمہیں گمراہیوں کی طرف بلائے تو تم اسے رد کر دو اور تمہارا دل قطعاً ا س کی طرف متوجہ نہ ہو اور نہ تم ا س کی پیروی کرو کیونکہ شیطان لعین ایک بھونکنے والے کتے کی طرح ہے، اگر تم اسے چھیڑو گے تو وہ تمہاری طرف تیزی کے ساتھ لپکے گا اور تمہیں زخمی کر دے گا اور اگر تم ا س سے کنارہ کشی اختیار کر لو گے تو وہ خاموش رہے گا۔

(3)…اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ ذکر کرتے رہو اور ہمہ وقت خودکو اللہ تعالیٰ کی یاد میں مصروف رکھو (منہاج العابدین، العقبۃ الثالثۃ، العائق الثالث: الشیطان، ص۵۵-۵۶)۔ [1]

کیا انسان جنوں کو دیکھ سکتے ہیں ؟

            اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ایسا علم و اِدراک دیا ہے کہ وہ انسانوں کو دیکھتے ہیں اور انسانوں کو ایسا ادراک نہیں ملا کہ وہ ہر وقت جنوں کو دیکھ سکیں البتہ بعض اوقات انسان بھی جنات کو دیکھ لیتے ہیں۔

مخلوق کے لئے وسیع علم و قدرت ماننا شرک نہیں :

            اس آیتِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہے کہ شیطان کا علم اور اس کی قدرت بہت وسیع ہے کہ ہر زبان میں ہرجگہ ، ہر آدمی کو وسوسے ڈالنے کی طاقت رکھتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اس قدر وسیع علم و قدرت ماننا شرک نہیں بلکہ قرآن سے ثابت ہے لیکن ان لوگوں پر  افسوس ہے جو شیطان کی وسعت ِعلم کو تو فوراً مان لیتے ہیں لیکن حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے لئے ایسا وسیع علم ماننے کو شرک قرار دیتے ہیں۔

{ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ:بیشک ہم نے شیطانوں کو ایمان نہ لانے والوں کا دوست بنا دیا ہے۔} یعنی شیطان بظاہر کفار کا دوست ہے اور کفار دل سے شیطان کے دوست ہیں ورنہ شیطان درحقیقت کفار کا بھی دوست نہیں وہ تو ہر انسان کا دشمن ہے کہ سب کو اپنے ساتھ جہنم میں لیجانے کی کوشش کرنا اس کا مطلوب و مراد ہے۔


[1] شیطان کے مکر وفریب اوراس کے ہتھیاروں کے بارے میں جاننے کے لئے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کتاب’’ شیطان کے بعض ہتھیار‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ )کا مطالعہ فرمائیں۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links