DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Araf Ayat 156 Translation Tafseer

رکوعاتہا 24
سورۃ ﷳ
اٰیاتہا 206

Tarteeb e Nuzool:(39) Tarteeb e Tilawat:(7) Mushtamil e Para:(08-09) Total Aayaat:(206)
Total Ruku:(24) Total Words:(3707) Total Letters:(14207)
156

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَؕ-قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُۚ-وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍؕ-فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ(۱۵۶)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور ہمارے لیے اس دنیا میں اور آخرت میں بھلائی لکھ دے ، بیشک ہم نے تیری طرف رجوع کیا۔ فرمایا: میں جسے چاہتا ہوں اپنا عذاب پہنچاتا ہوں اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے تو عنقریب میں اپنی رحمت ان کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیز گار ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں ۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ اكْتُبْ لَنَا:اور ہمارے لیے لکھ دے۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے زلزلے کے وقت جودعا مانگی اس آیت میں اس کا بقیہ حصہ ہے۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عرض کی :اے اللہ! ہمارے لیے اس دنیا میں اور آخرت میں بھلائی لکھ دے بیشک ہم نے تیری طرف رجوع کیا۔ دنیا کی بھلائی سے پاکیزہ زندگی اور نیک اعمال مراد ہیں اور آخرت کی بھلائی سے جنت، اللہ تعالیٰ کا دیدار اور دنیا کی نیکیوں پر ثواب مراد ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ دنیا کی بھلائی سے مراد نعمت اور عبادت ہے اور آخرت کی بھلائی سے مراد جنت ہے اور اس کے علاوہ اور کیا بھلائی ہو سکتی ہے۔ اللہتعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا کے بعد فرمایا کہ:’’میری شان یہ ہے کہ میں جسے چاہتا ہوں اپنا عذاب پہنچاتا ہوں کوئی اور اس میں دخل اندازی کر ہی نہیں سکتا اور میری رحمت کی شان یہ ہے کہ میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے ،دنیا میں ہر مسلمان،کافر، اطاعت گزار اور نافرمان میری نعمتوں سے بہرہ مند ہوتا ہے۔ (البحر المحیط، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۶، ۴ / ۳۹۹، تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۶، ۵ / ۳۷۸، روح المعانی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۶، ۵ / ۱۰۳، ملتقطاً)

{فَسَاَكْتُبُهَا:عنقریب میں آخرت کی  نعمتوں کو لکھ دوں گا۔} جب یہ آیت نازل ہوئی ’’وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ‘‘ تو ابلیس بہت خوش ہوا اور کہنے لگا میں بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت میں داخل ہو گیا، اور جب آیت کا یہ حصہ ’’ فَسَاَكْتُبُهَا‘‘ نازل ہوا تو ابلیس مایوس ہو گیا۔ (صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۶، ۲ / ۷۱۵-۷۱۶)

            یہودیوں نے جب اس آیت کو سنا تو کہنے لگے ہم متقی ہیں اور ہم زکوٰۃ دیتے ہیں اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں تواگلی آیت نازل فرما کر اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ یہ فضائل امتِ محمدیہ کے ساتھ خاص ہیں۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۶، ۲ / ۱۴۶)

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links