DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Araf Ayat 190 Translation Tafseer

رکوعاتہا 24
سورۃ ﷳ
اٰیاتہا 206

Tarteeb e Nuzool:(39) Tarteeb e Tilawat:(7) Mushtamil e Para:(08-09) Total Aayaat:(206)
Total Ruku:(24) Total Words:(3707) Total Letters:(14207)
189-190

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَاۚ-فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖۚ-فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىٕنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ(۱۸۹)فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَاۚ-فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ(۱۹۰)
ترجمہ: کنزالعرفان
وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کی بیوی بنائی تاکہ اس سے سکون حاصل کرے پھر جب مرد اس عورت پر چھایا تواسے ایک ہلکے سے بوجھ کا حمل ہوگیا تو وہ اسی کو لے کر چلتی رہی پھر جب حمل کا وزن بڑھ گیا تو دونوں اپنے رب سے دعا کرنے لگے : اگر تو ہمیں صحیح سالم بچہ عطا فرما دے تو ہم یقیناشکر گزار ہوں گے۔ پھر جب اس نے انہیں صحیح سالم بچہ عطا فرمادیا تو انہوں نے اس کی عطا میں شریک ٹھہرا دئیے تو اللہ ان کے شرک سے بلندوبالا ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ:وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کی مفسرین نے مختلف تفاسیر بیان کی ہیں،ان میں سے دو تفاسیر درج ذیل ہیں۔

(1)…مشرکین یہ کہا کرتے تھے کہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام (مَعَاذَاللہ) بتوں کی عبادت کرتے تھے اور بھلائی طلب کرنے اور برائی دور ہونے کے سلسلے میں بتوں کی طرف رجوع کرتے تھے،تو ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور حضرت حواء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھاکا واقعہ بیان فرمایا کہ انہوں نے تو اللہ تعالیٰ سے اس طرح دعا کی تھی کہ اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، اگر تو ہمیں صحیح سالم اور تندرست بچہ عطا فرمائے گا تو ہم ضرور تیری ا س نعمت کا شکر ادا کریں گے اور جب اللہ تعالیٰ نے انہیں صحیح سالم بچہ عطا کر دیا تو کیا ان دونوں نے اللہتعالیٰ کی عطا میں اس کا شریک ٹھہرایا؟ اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کے شرک اور حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی طرف منسوب ان کی بات سے بری ہے۔

(2)… ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جو واقعہ بیان فرمایاہے یہ بطورِ مثال ہے اور اس میں مشرکوں کی جہالت اور ان کے شرک کاحال بیان کیا گیا ہے۔ اس صورت میں آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وہی ہے جس نے تم میں سے ہر ایک کو ایک جان سے پیدا کیا یعنی ماں اور باپ سے پیدا کیا اور یہ دونوں انسان ہونے میں یکساں ہیں ،پھر جب شوہر اور بیوی میں ملاپ ہوا اور حمل ظاہر ہوا تو ان دونوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تو ہمیں صحیح اور تندرست بچہ عطا کرے گا تو ہم ضرور تیری نعمتوں کا شکر ادا کرنے والوں میں سے ہوں گے ،پھر جب اللہ تعالیٰ نے اُنہیں ویسا ہی بچہ عنایت فرمایا تو اُن کا حال یہ ہو اکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا میں اس کے شریک ٹھہرانے لگ گئے کیونکہ کبھی تو وہ اس بچے کو انسانی فطرت کے تقاضے کی طرف منسوب کرتے ہیں جیسے دَہریوں کا حال ہے، کبھی ستاروں کی طرف نسبت کرتے ہیں جیسا کہ ستارہ پرستوں کا طریقہ ہے اورکبھی بتوں کی طرف منسوب کرتے ہیں جیسا کہ بت پرستوں کا دستور ہے۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ’’ وہ اُن کے اِس شرک سے برتر ہے۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۸۹، ۵ / ۴۲۸)

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links