بڑے ناخن رکھنا کیسا؟ نیز ناخن کتنے کاٹے جائیں؟

(1)اپ ورک کے لیے عورت کا اپنی پروفائل پرتصویر لگانا

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپ ورک (Upwork) کے بارے میں شرعی رہنمائی لینی ہے کہ کیا ایک عورت اپنی پروفائل پر نقاب کے ساتھ تصویر لگا کر پروفائل بنا سکتی ہے؟ نقاب سے مراد یہ ہےکہ چہرے کی ٹکیا کھلی رہے گی جبکہ بقیہ اعضاء مثلاً سر اور گلا وغیرہ نقاب میں رہیں گے؟ کیونکہ پروفائل بنانے کے لیے تصویر لگانی ہوتی ہے،البتہ تصویر کے بغیر بھی پروفائل بن جاتی ہے اور آرڈرزوغیرہ بھی مل جاتے ہیں کہ اصل مدار تصویر وغیرہ پر نہیں بلکہ پروفائل پر موجود ریٹنگز اور پوائنٹس کے حساب سے ہی آرڈرز ملتے ہیں؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

اپ ورک ویب سائٹ پر کسی بھی عورت کے لیے اپنی پروفائل بناتے وقت بغیر نقاب کے چہرے کی ٹکیا کھلی رکھی گئی تصویر لگانا بھی ممنوع ہے کہ فی زمانہ خوف ِفتنہ کے سبب فقہائے کرام نے چہرے کا پردہ کرنا بھی لازم قرار دیا ہے۔ جب تصویر کے بغیر بھی پروفائل بن سکتی ہے بلکہ اصل مدار بھی تصویر پر نہیں اور اس کے بغیر بھی آرڈر مل سکتا ہے تو کسی بھی قسم کی حاجت یا ضرورت کا تحقق وثبوت نہ ہوا اس لیے اپ ورک کی پروفائل پر آپ اپنی ایسی تصویر نہیں لگا سکتی جس میں چہرہ کھلا رہے۔ ہاں پورا چہر ہ بھی نقاب میں ہو تو پھرتصویر لگانے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(2)بڑے ناخن رکھنا کیسا؟نیز ناخن کتنے کاٹے جائیں؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ چالیس دن پور ے ہونےسےپہلے ناخن کاٹنا ضروری ہوتا ہے۔یہاں ناخن کاٹنے سےکیا مراد ہے کہ کتنے ناخن کاٹے جائیں؟ کیونکہ بعض عورتوں کو بڑے ناخن رکھنے کا شوق ہوتا ہے تو وہ چالیس دن پورے ہونے سے پہلے باقاعدہ ناخن کاٹنے کے بجائے ناخنوں کے معمولی سے کنارے تراش لیتی ہیں، جس سے ان کے ناخن بڑے ہی رہتے ہیں اور وہ یہ گمان کرتی ہیں کہ ہم نے شریعت کے حکم پر عمل کرلیا ہے تو کیا ان کا یہ عمل درست ہے ؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

ناخن کاٹنے کے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ ہفتے میں ایک بار ناخن کاٹنا مستحب ہے،اگر ایک ہفتے کے اندر نہیں کاٹے تو پھر پندرہ دن میں ایک بار کاٹ لیے جائیں،اورناخن نہ کاٹنے کی انتہائی مدت چالیس دن ہے کہ بلاعذر چالیس دن تک ناخن نہ کاٹنا،مکروہِ تحریمی اور گناہ ہے۔

یہاں ناخن کاٹنے سے مراد یہ ہے کہ” ناخنوں کاجو حصہ انگلیوں کے پوروں سے بڑھ جائے تو اسے اس طرح کاٹ لیا جائے کہ خود کو تکلیف و ضرر نہ ہو“۔ بڑے ناخن رکھنے کے شوق میں ناخنوں کو انگلیوں کے پوروں سے بڑا رکھنا،اور چالیس دن پورے ہونے سے پہلے ناخنوں کے کناروں کو معمولی سا کاٹ لینا، کافی نہیں ہے کیونکہ ناخن انگلیوں کے پوروں سے اوپر ہی رہیں گے لہٰذا اس سے شرعی حکم پر عمل نہیں ہوگا اور وہ چالیس دن سے زیادہ بڑے ناخن رکھنے کی وجہ سے گناہگار ہوں گی۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(3)نابالغہ اور بالغہ بچیوں کے کان اجنبی مرد سے چھدوانا کیسا؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارےمیں کہ آج کل مارکیٹ میں بچیوں کے کان چھیدنے والے اکثر مرد حضرات ہیں،ان کے پاس ائیرگن ہوتی ہے،جس سے فوراً کان میں سوراخ ہوجاتاہے،اب ان سے کان چھدوانے والی بالغہ خواتین بھی ہوتی ہیں،نابالغہ اور قریب بلوغ بچیاں بھی، کان کو چھونا بھی پڑتاہے اور دیکھنا بھی، کبھی بغیر چھوئے بھی ہوجاتاہے،شرعی رہنمائی درکارہے کہ

(1)عورت کے لیے کان چھدوانے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

(2)نابالغہ اوربالغہ بچیوں کے کان کسی اجنبی مردسے چھدوانا کیساہے ؟

(3)اگرکوئی عورت ناک،کان وغیرہ چھیدنے کے لیےنہ ملے توکیامجبوری میں کسی مردسے یہ کام کرواسکتے ہیں ؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

(1)خواتین کو ناک اورکان زیورات پہننے کے لیے چھیدنا شرعاً جائزومباح ہے،کیونکہ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے زمانۂ اقدس میں بھی یہ رائج تھااورنبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسے جائزومقرررکھا،اس سے منع نہ فرمایا۔نیزواضح رہے کہ یہ امر فرض،واجب یاسنت نہیں ہاں البتہ جومباح اچھی نیت سے ادا کیا جائے تو شرعاً وہ مستحب و محمود کے درجہ میں آجاتا ہے لہٰذا کوئی عورت اپنے شوہرکے لیےزیوارت پہننے کے لیے یہ عمل کرتی ہے تویہ امراس کے لیے مستحب ہے۔

(2، 3)نابالغہ بچی کے کان یا ناک اجنبی مرد سے چھدوانا، شرعاً جائزہے اور مراہقہ یا بالغہ کا غیر مرد سے چھدوانا، ناجائز و حرام ہے کہ شریعت مطہرہ کے اصولوں کی روشنی میں کسی مراہقہ مشتہاۃ (قابل شہوت) یابالغہ عورت کے اعضائے ستر کو دیکھنا اور چھونا،حرام وگناہ ہے،اورعورت کے کان بھی اس کے ستروالے اعضاء میں شامل ہیں، نیز اجنبی عورت کوچھونے سےمتعلق نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سختی سے منع فرمایا،نیز اس صورت میں دونوں فریقین گناہگار ہوں گے اور ان پر اس گناہ سے توبہ کرنا بھی لازم ہوگی۔ نیز اگرکوئی عورت یہ عمل کرنے والی میسر نہ ہو تو اگر کوئی محرم کان وغیرہ چھید سکتا ہو تو اس سے کروائیں، ورنہ وقتی طورپرصبرکریں کہ اجنبی مرد سے کروانا، بہرصورت ناجائزہے کہ یہ فقط ایک مباح عمل ہے اور زیادہ سے زیادہ اگر مستحب کے درجے میں بھی ہو تو ایک مباح و مستحب کام کے لیے کوئی ناجائزوحرام عمل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(4)عورت کا حیض روکنے والی دوائیں استعمال کرنا کیسا؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارےمیں کہ کیا عورت حیض روکنے والی ادویات کھا سکتی ہے ؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

عورت کے لیےحیض روکنے والی دوائیں استعمال کرنا شرعاً جائز ہے کیونکہ شریعتِ مطہرہ نے اس سے منع نہیں فرمایا۔ لیکن اگر جسمانی طور پر کسی بڑے اور فوری ضرر کا سبب بنیں تو اجازت نہیں کیونکہ اس طرح اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا کہلائے گا، اور قرآن کریم میں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے بچنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* شیخ الحدیث و مفتی دارُالافتاء اہلسنت لاہور


Share