(1)دورانِ وضو سر پر لگی مہندی پر مسح کرنے کا شرعی حکم
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ عورت نے جب پورے سر پر مہندی کا لیپ کیا ہوا ہواور اسی دوران نماز کا وقت داخل ہوجائے، تو کیا سر پر موجود مہندی کے لیپ پر مسح کرنا شرعاً درست ہے؟
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
بالوں پر مہندی لگی ہونے کی صورت میں مسح کا حکم یہ ہے کہ اگر مہندی کالیپ اتنا گاڑھا ہے یا خشک ہوکر اتنا سخت ہوچکا ہے کہ نیچے سر کی کھال یا بالوں تک پانی نہیں پہنچے گا، تواب مہندی کے اوپرسے مسح درست نہیں ہوگا ، البتہ اگر مہندی کا لیپ باریک ہو یا اس کا کوئی موٹا جرم موجود نہ ہو تو حکم میں تفصیل ہےاگر مسح کرتے وقت ہاتھ کی تری پانی ہی رہے اور اس میں مہندی کے اجزاء اتنے نہ ملیں کہ وہ پانی کی حقیقت کو بدل دیں، تو اس صورت میں مسح درست ہے اور اگر ہاتھ کی تری مہندی کے اثر سے اس حد تک بدل جائے کہ اسے مطلق پانی نہ کہا جا سکے، تو پھر ایسی صورت میں مسح درست نہیں ۔
یاد رہے کہ سر سے لٹکتے بالوں پر مسح کرلینا کافی نہیں، اس سے مسح کا فرض ادا نہیں ہوتا ،بلکہ خاص چوتھائی سر کی مقدار پر مسح کرنا فرض ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
(2)بعدِ نفاس پندرہ دن کے اندر خون آنے کا شرعی حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ میرے پہلے بچے کی پیدائش ہوئی اورمجھے چالیس دن خون آیا پھربند ہوگیا تومیں نے غسل کرکے نمازیں پڑھنا شروع کردیں،پھر تیرھویں دن مجھے دوبارہ خون شروع ہو گیا،تو میں نے نماز چھوڑ دی ۔یہ خون دو دن جاری رہ کر بند ہوگیا۔اب پوچھنا یہ ہے کہ ان دو دنوں کی نمازوں کی قضاء ہے یانہیں؟
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
قوانینِ شرعیہ کے مطابق دو حیضوں اور نفاس و حیض کے درمیان کامل طہر یعنی کم از کم پندرہ دن کا فاصلہ ضروری ہے ، اگر حیض یا نفاس ختم ہونے کے بعد پندرہ دن پورے ہونے سے پہلے خون آجائے تو وہ حیض نہیں ،بلکہ استحاضہ یعنی بیماری کا خون ہوتا ہے اور استحاضہ کی حالت میں نماز روزہ معاف نہیں ہوتے۔
اس کےمطابق پوچھی گئی صورت میں نفاس ختم ہونےکے بعدتیرھویں دن خون آیا جوکہ دو دن تک جاری رہا،تویہ استحاضہ کا خون ہوا،لہٰذاان دو دنوں کی نمازوں کی قضاء فرض ہے۔ نیزبلاوجہ شرعی نمازیں قضاء کرنے کی وجہ سے آپ گنہگار بھی ہوئیں، اس سے توبہ کرنا بھی لازم ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* دارالافتاء اہل سنت عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی
Comments