بزرگوں کی تعظیم کیجئے


بزرگوں  کی تعظیم کیجیے


ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفےٰ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:  اِنَّ مِنْ اِجْلَالِ اللهِ اِكْرَامَ ذِي الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ یعنی بے شک اللہ کی تعظیم میں سے ہے کہ  بوڑھے مسلمان کی عزت کی جائے۔ ([1])

اسی حدیث پاک  کی شرح میں ہے: بوڑھے مسلمان کی تعظیم کرو یعنی وہ شخص جس کے بال سفید ہوچکے ہوں اور اُس کی عمر اسلام اور ایمان کی حالت میں گزری ہو۔([2])

پیارے بچو! ہمارے پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہمیں اچھے  اور اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دی ہے اور زندگی کے ہر معاملے میں راہنمائی فرمائی ہے۔ اس حدیث پاک میں بزرگوں کے حقوق کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے  اور  بزرگوں کی عزت کو اللہ کی تعظیم سے جوڑ کر سمجھایا ہے  یعنی جو بزرگوں کا احترام کرے، گویا وہ اللہ کی بڑائی بیان کرتا ہے۔

بزرگ افراد ہر گھر، گلی محلے یا خاندان کا حصہ ہوتے ہیں۔ اور گھروں کی رونق ہوتے ہیں، ان کی عزت و تکریم کرنا اسلامی تعلیمات ہیں ۔ان کی خدمت کرنی چاہیے، ان کے پاس بیٹھنا چاہیے،ان کو وقت دے کر ان سے باتیں کرکے ان کا دل بہلا کر دعائیں لینی چاہئیں اور ان کے تجربات اور سمجھداری سے فائدہ اٹھانا  چاہیے،جو بچہ بزرگوں کی عزت کرتا ہے، لوگ اس سے پیار کرتے ہیں۔

بعض بچے بڑے بوڑھے افراد کو تنگ کرتے ہیں، ان کی کوئی چیز چھپا کر، ان کی بات نہ مان کر ، ان کا مذاق اڑا کر،اور ان کے منع کرنے کے باوجود ان کے سامنے شور شرابا کرتے ہیں جس کے سبب وہ بیزار ہوتے ہیں۔

اچھے بچو! آپ بزرگوں کو تنگ نہ کریں بلکہ ان کے کام آئیں، سڑک پار کروائیں، سامان اٹھوائیں یا وضو کروانے میں مدد کریں، ان کی بات نہ کاٹیں،بزرگوں کو سلام میں پہل کریں،ان کی دست بوسی کریں، راستے میں چلتے ہوئے ان کو راستہ دیں ان سے آگے نہ چلیں، کھانے کے وقت دسترخوان پر اگر کوئی بزرگ ہوں تو ان سے پہلے کھانا شروع نہ کریں،  انہیں ان کے نام سے نہ پکاریں بلکہ اچھے الفاظ کے ساتھ پکاریں، جیسے انکل جی، چچا جی، دادا جان وغیرہ۔

بزرگوں کے سامنے خود اونچی اور اچھی جگہ پر نہ بیٹھیں  مثلاً اگر وہ نیچے بیٹھے ہوں تو ان کے سامنے صوفے وغیرہ پر نہ بیٹھیں کہ یہ بھی ان کی تعظیم ہے  اس طرح جب کوئی بزرگ  ٹرین یا   بس   وغیرہ  میں  آئیں تو   ہو سکے تو  ان کے لیے سیٹ چھوڑ دیں،    اور اچھی جگہ بیٹھنے کی دعوت دیں،   اس کا درس نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے عمل سے دیا ، ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ جب آپ کی رضاعی  والدہ آپ کے پاس تشریف لائیں تو پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کھڑے ہو گئے اور ان کے  بیٹھنے کے لیے اپنی مبارک چادر بھی  بچھا دی۔([3])

یاد رکھیں!آج ہم نے جو کچھ پڑھا، اس کا مرکز وہی  شروع  میں لکھی  حدیث پاک  ہے ۔تو آپ بھی   اپنے گھر ، محلے ، خاندان اور  مسجد میں آئے ہوئے  بزرگوں کا  ادب و احترام کریں اور    حدیث پاک پر عمل کرکے برکتیں پائیں۔

اللہ پاک ہمیں بزرگوں کا   ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])ابوداؤد، 4/344،  حدیث: 4843

([2])دلیل الفالحین،2/12، تحت الحدیث:354

([3])دیکھیے:مراٰۃ المناجیح، 6/533


Share