پیغمبر اسلام یتیموں کے محافظ(دوسری اور آخری قسط)
یتیموں کے محافظ:
ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اعلانِ نبوّت سے پہلے بھی کمزور اور بے آسرا لوگوں کی مدد فرمایا کرتے تھے۔اعلانِ نبوّت کے بعد تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نہ صرف اپنے اقوال سے یتیموں کی طرفداری فرماتے، ترغیب دلاتے بلکہ اپنے مبارَک عمل سے بھی یتیموں کو ان کا حق دلاتے تھے جیسا کہ ایک بار ابو جہل نے ایک یتیم کی پرورش کی ذمّہ داری لی۔وہ خستہ حال یتیم ایک دن ابو جہل کے پاس آیا اور اپنے مال میں سے کچھ طلب کیا۔ابوجہل نے اسے دھکے مار مار کر نکال دیا۔ قریش نے اس یتیم کو نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پا س بھیج دیا کہ ان سے جا کر فریاد کرو۔ان کا مقصد نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مذاق اڑانا تھا لیکن یتیم ان کی بُری نیّت سے لاعلم تھا، اُس نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے فریاد کی تو آپ اس یتیم کے ساتھ ابو جہل کے پاس گئے،اس نے رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو دیکھتے ہی یتیم کا مال فوراً اُس کے حوالے کر دیا۔قریش نے ابوجہل کو ملامت کی کہ تو اپنے دین سے پھر گیا ہے۔ ابوجہل نے جواب دیا: خدا کی قسم!میں اپنے دین سے پھرا نہیں، اصل بات یہ ہے کہ میں نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دائیں اور بائیں طرف ایک نیزہ دیکھا اور مجھے یہ ڈر لگا کہ اگر میں نے ان کی بات نہ مانی تو یہ نیزہ مجھے چیر ڈالے گا۔([1]) حضرت بشیر بن عَقرَبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگِ اُحد کے دن میری رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ملاقات ہوئی تو میں نے عرض کی:میرے والد کا کیا ہوا؟ تو رسولُ الله نے فرمایا وہ شہید ہوگئے ہیں، اللہ کریم اُن پر رحم فرمائے۔ میں یہ سن کر رو پڑا۔ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھے پکڑا، میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے اپنے ساتھ سواری پر بٹھا کر فرمایا:اَمَا تَرْضٰى اَنْ اَكُونَ اَنَا اَبُوكَ وَتَكُونَ عَائِشَةُ اُمُّكَ؟ یعنی کیا تم اِس پر راضی نہیں ہوکہ میں تمہارا باپ اور عائشہ تمہاری ماں بن جائے؟([2])
اسی طرح سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم یتیموں اور بیواؤں کی دستگیری فرماتے تھے۔ آپ نے جلیلُ القدر صحابی حضرت اسعد بن زُرارہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد ان کی بچیوں کی نہایت شفقت و محبت سے پرورش فرمائی۔ آپ نے ان بچیوں کو سونے کی خوبصورت بالیاں پہنا ئیں جن میں قیمتی موتی جَڑے ہوئے تھے۔([3])
سبحان اللہ !ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کیسی اپنائیت اور کس قدر شفقت و مہربانی کا انداز اختیار فرمایا۔ یقیناً کسی یتیم کے ساتھ کیے جانے والے احسان و بھلائی کا یہ واقعہ اپنی مثال آپ ہے۔یہ حقیقت ہے کہ اسلام اورپیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہی یتیموں کے ملجاو ماوی اور محافظ و رکھوالے ہیں کہ جو اس انداز میں اپنے ماننے والوں کو تعلیم ارشاد فرما رہے ہیں۔
یتیم اور احادیثِ نبویہ :
ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کس کس انداز سے یتیموں کی مدد کرنے ان کے حُقوق ادا کرنے کی ترغیب دلائی ہے تاکہ لوگ صرف انہیں قابلِ رحم سمجھ کر ان کی مدد نہ کریں بلکہ اللہ کی رضا پانے، اپنے گُناہ بخشوانے، بلند درجات پانے، اپنی آخِرت بنانے اور جنّت میں پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا پڑوس اپنانے کے لیے یتیموں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں۔ نبیِ کریم نے تو گھر کے اچھا یا بُرا ہونے کا معیار بھی یتیم کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کو بنایا ہے جیسا کہ فرمایا:خَيْرُ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُحْسَنُ إِلَيْهِ، وَشَرُّ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُسَاءُ إِلَيْهِ یعنی مسلمانوں کے گھروں میں بہترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہو اور مسلمانوں کے گھروں میں بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ بُرا سُلوک کیا جاتا ہے۔([4])
حضر ت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اِس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: یتیم سے سلوک کی بہت صورتیں ہیں : اس کی پرورش، اس کے کھانے پینے کا انتظام، اس کی تعلیم و تربیَت، اسے دین دار نَمازی بنانا سب ہی اس میں داخل ہے۔غرض کہ جو سلوک اپنے بچّے سے کیا جاتا ہے وہ یتیم سے کیا جائے(اور) بُرے سلوک میں مذکورہ چیزوں کی مقابل تمام چیزیں داخل ہیں۔([5])
ایک اور حدیثِ پاک میں اِرشاد فرمایا: جو کوئی یتیم کے سر پر صرف اللہ پاک کی رِضاکے لیے ہاتھ پھیرے تو جتنے بالوں پر اُس کا ہاتھ گزرا ہر بال کے بدلے میں اُس کے لیے نیکیاں ہیں اور جو کوئی یتیم لڑکی یایتیم لڑکے پر اِحسان کرے میں اور وہ جنّت میں(دو اُنگلیوں کو مِلا کر فرمایا کہ) اس طرح ہوں گے۔([6]) یہ ثواب تو خالی ہاتھ پھیرنے کا ہے جو اس پر مال خرچ کرے، اس کی خدمت کرے، اسے تعلیم و تربیَت دے سوچ لو کہ اس کا ثواب کتنا ہو گا۔ یتیم کو اپنے ساتھ کھانے میں شریک کرنا نہ صرف برکت کا باعث بلکہ کھانے کے شیطان سے محفوظ رہنے کا نسخہ بھی ہے جیسا کہ حضرت سیّدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبیِ رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مَا قَعَدَ يَتِيمٌ مَعَ قَوْمٍ عَلَى قَصْعَتِهِمْ، فَيَقْرَبُ قَصْعَتَهُمْ شَيْطَانٌ جس دسترخوان پر یتیم (کھانے میں شریک) ہوتاہے شیطان اس دسترخوان کے قریب نہیں جاتا۔([7])
دل کی سختی دور کرنے کا طریقہ:
یتیم کے سر پر ہا تھ پھیرنے سے نیکیوں کے حصول کے ساتھ ساتھ دِل کی سختی دُور ہوتی اور حاجتیں بھی پوری ہوتی ہیں جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا ابودَرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں اپنے دل کی سختی کی شکایت کی، تو رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا: کیا تو چاہتا ہے کہ تیرا دل نرم ہو جائے اور تیری حاجتیں پوری ہوں؟ تو یتیم پر رحم کیا کر اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا کر اور اپنے کھانے میں سے اسے کھلایا کر ایسا کرنے سے تیرا دل نرم ہوگا اور تیری حاجتیں پوری ہوجائیں گی۔([8])آج بھی ہمارے معاشرے میں یتیم موجود ہیں اور ہمارا فریضہ ہے کہ ہم ان کے لیے تحفّظ اور محبّت فراہم کریں۔ آئیں! ہم سب مل کر یتیموں کے حقوق کو اُجاگر کریں،یتیموں کے متعلّق اسلامی تعلیمات کو عام کریں اور اپنے اعمال کے ذریعے اللہ پاک کی رضا حاصل کریں اس لیے کہ جس نے یتیم سے ہمدردی کی وہ اللہ کریم کا قرب پائے گا، اس کا دل نرم ہو گا، اور اس کے لیے جنّت کی خوشخبری ہے۔
Comments