جنگی حالات کی غیبی خبر
پیارے بچّو! ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے معجزات میں سے ایک معجزہ غیب کا عِلم بھی ہے یعنی بارہا نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےکسی ظاہری ذریعے کے بغیر گزشتہ یا آئندہ کے واقعات اور پوشیدہ حالات و معاملات کے بارے میں خبر دی، آئیے! آپ کے علمِ غیب سے متعلّق ایک واقِعہ پڑھئے۔ 8 ہجری میں جنگِ مؤتہ اس وقت پیش آئی جب رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قاصد حضرت حارِث بن عُمیر رضی اللہ عنہ کو شُرحبيل غسانی نے شہید کر دیا، حالانکہ اس سے پہلے کبھی رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا کوئی قاصد قتل نہیں کیا گیا تھا۔ اس پر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے 3000 مجاہدین کا لشکر تیار کیا اور حضرت زید بن حارثہ کو امیر مقرّر فرمایا، ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ اگر یہ شہید کر دیے جائیں تو حضرت جعفر بن ابی طالب امیر ہوں گے اور اگر انہیں بھی شہید کردیا جائے تو پھر حضرت عبدُاللہ بن رَواحہ امیر ہوں گے اور ان کی شہادت کے بعد مسلمان خود کسی کو منتخب کر لیں۔آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سفید جھنڈا دے کر ہدایت فرمائی کہ پہلے دعوتِ اسلام دیں، قبول نہ کریں تو قتال کریں، اور خود ثنیۃ الوَداع تک انہیں رُخصت کرنے تشریف لے گئے۔ اُدھر دشمن نے خبر پاکر دو لاکھ سے زائد افراد کا لشکر جمع کرلیا۔
میدانِ جنگ میں دشمن کی تعداد اور ساز و سامان بہت زیادہ تھا،مگرمسلمان ثابت قدم رہے۔ایک ایک کرکے حضرت زید بن حارثہ، حضرت جعفر بن ابی طالب اور حضرت عبدُاللہ بن رَواحہ رضی اللہ عنہم تینوں ہی شہید ہو گئے۔آخرکار مسلمانوں نے باہمی مشورے سے حضرت خالد بن ولید کو امیر بنایا، جنہوں نے بہترین حکمتِ عملی سے دشمن کو نقصان پہنچایا اور مسلمانوں کو بحفاظت واپس لے آئے۔ ([1])
اللہ تعالیٰ نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے میدانِ جنگ کا منظر ظاہر فرمادیا تھالہٰذا آپ مدینہ طیبہ میں موجود رہ کر بھی جنگ کی تمام صورتِ حال ملاحظہ فرما رہے تھے۔یہی وجہ ہے کہ مدینہ میں جنگ کی اطلاعات پہنچنے سے پہلے ہی نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے تینوں ہی سپہ سالاروں کی شہادت کے بارے میں لوگوں کو بتا دیا، اور یہ بھی کہ اب اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار (حضرت خالد بن ولید) نے جھنڈا سنبھال لیا، یہاں تک کہ اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائی۔([2])
جب یعلیٰ بن اُمیہ مؤتہ کی خبر لے کر واپس آئے تو رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:چاہو تو تم مجھے بتاؤ اور اگر چاہو تو میں تمہیں جنگ کی صورتِ حال بتا دوں، انہوں نے عرض کیا: آپ ہی بتا دیجئےتو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پورا واقعہ سنا دیا۔ اس پر انہوں نے کہا:
اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، آپ نے ان کے حالات کا ایک حرف بھی نہیں چھوڑا۔([3])
یقیناً مدینۂ منوّرہ سے ایک ہزار کلومیڑ سے بھی زیادہ دور ہونے والی جنگ کے حالات مدینہ میں رہتے ہوئے یوں بتادینا علمِ غیبِ مصطفےٰ کی واضح دلیل ہے۔ اس واقعے سے چند باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں:
مسلمان کو ہر حال میں سچّائی اور حق کے ساتھ کھڑا رہنا چاہیے چاہے مخالف کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔
ہمیں اپنے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شانِ نبوّت پر کامل یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ پاک نے آپ کو خاص علم عطا فرمایا ہے۔
مشکل حالات میں گھبرانے کے بجائے ہمّت اور ثابت قدمی سے کام لینا چاہیے۔
اچّھا لیڈر وہ ہوتا ہے جو پہلے سے منصوبہ بندی کرے اور متوقع صورتِ حال سے نمٹنے کے پیشگی انتظامات کرے۔
اسلام ہمیں نظم و ضبط اور قیادت کی اہمیّت سکھاتا ہے کہ ہر کام ایک امیر کے تحت ہونا چاہیے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت ہمیں دین کے لیے قربانیوں کا جذبہ دیتی ہے۔
بڑے نقصان کے بعد بھی ہمّت نہ ہارنا اور مشورے سے آگے بڑھنا کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے۔
جو کام مسلمانوں کی اتّفاقِ رائے سے ہو اس میں برکت ہوتی ہے۔
مسلسل کوشش اور مستقل مزاجی کامیابی کی چابی ہے۔
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا اپنے صحابہ سے محبّت بھرا تعلّق ہمیں اپنے ساتھیوں سے محبّت اور خیر خواہی کا درس دیتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی
Comments