بد عہدی کی قراٰنی وعیدات
اسلام میں وعدہ پورا کرنا بنیادی اخلاقی قدر ہے۔ قراٰن مجید میں بار بار عہد کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے اور بد عہدی پر سخت تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ وعدہ صرف زبانی بات نہیں، بلکہ یہ ایک ذمہ داری ہے جس سے دنیا اور آخرت کا انجام وابستہ ہے۔ جب انسان وعدہ توڑتا ہے تو اس کا اعتماد ختم ہوتا ہے، معاشرہ کمزور ہوتا ہے اور انسان اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لیتا ہے۔ اس مضمون میں قراٰن کریم سے چند واضح وعیدیں پیش کی جا رہی ہیں:
(1) بد عہدی پر پہلی سخت وعید
قراٰنِ کریم میں بد عہدوں کو ”خاسر“ کہا گیا۔ یعنی حقیقی نقصان اٹھانے والے۔ یہ خسارہ مال کا نہیں، ایمان اور آخرت کا ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے:
الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)
ترجَمۂ کنزُالایمان: وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی نقصان میں ہیں۔ (پ1، البقرۃ: 27)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
(2) بد عہد پر اللہ کی لعنت
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)
ترجَمۂ کنزُالایمان: اور وہ جو اللہ کا عہد اسے پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کے لیے لعنت ہی ہے اور اُن کے لیے برا گھر ہے۔
(پ13، الرعد: 25)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یہاں بد عہدی کو فساد کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ جو لوگ عہد توڑتے ہیں ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی لعنت اور آخرت میں برا ٹھکانا ہے۔ یہ بہت سخت وعید ہے جو ہمیں اپنے وعدوں کے بارے میں سنجیدہ بناتی ہے۔
(3) سب جانوروں سے بدتر
اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ(۵۵) اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ(۵۶)
ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور ایمان نہیں لاتےوہ جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا پھر ہر بار اپنا عہد توڑ دیتے ہیں اور ڈرتے نہیں۔ (پ10،الانفال: 55، 56)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیتِ مبارکہ میں بنو قریظہ کے یہودیوں کو سب جانوروں سے بدتر بتایا گیا جنہوں نے جنگ کے موقع پر عہد شکنی کرتے ہوئے کفارِ قریش کی عسکری امداد کی۔
ویسے تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لانے والے سب جانوروں سے بدتر ہیں مگر باوجود کُفر کے عہد شکن بھی ہوں تو اور بھی خراب۔ عہد شکنی ہر عاقل کے نزدیک شرمناک جرم ہے اور عہد شکنی کرنے والا سب کے نزدیک بے اعتبار ہوجاتا ہے ۔ جب اس کی بے غیرتی اس درجہ پہنچ گئی تو یقینا ًوہ جانوروں سے بدتر ہیں ۔
(دیکھئے: خزائن العرفان،ص331)
(4) بد عہدی دل میں نفاق پیدا کرتی ہے
فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(۷۷)
ترجَمۂ کنزُالایمان: تو اس کے پیچھے اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس دن تک کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انہوں نے اللہ سے وعدہ جھوٹا کیا اور بدلہ اس کا کہ جھوٹ بولتے تھے۔(پ10، التوبۃ:77)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیت میں بتایا گیا کہ وعدہ خلافی دل کی بیماری بن جاتی ہے۔ جو شخص بار بار وعدہ توڑتا ہے، اس کے دل میں نفاق پیدا ہو جاتا ہے۔ نفاق ایمان کے لیے بہت خطرناک ہے۔ اس لیے وعدہ پورا کرنا ایمان کی حفاظت ہے۔
قراٰن مجید کی یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ بد عہدی کس قدر مذموم صفت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہر وعدہ سوچ سمجھ کر کریں اور پھر اسے ہر حال میں پورا کریں، چاہے کاروبار کا معاملہ ہو، گھریلو تعلق ہو یا دینی ذمہ داری، وعدہ پورا کرنا ہی ایمان داری ہے۔
اللہ پاک ہمیں عہد پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Comments