خود پسندی کی مذمت حدیث کی روشنی میں


خودپسندی کی مذمت حدیث کی روشنی میں


خود پسندی مہلکات (یعنی ہلاکت میں ڈالنے والے اعمال) میں سے ایک ہے، ان کے بارے میں ضروری احکام مسلمان کے لیے جاننا ضروری ہے :

خودپسندی کی تعریف

اپنے کمال (مثلاً علم یا عمل یا مال) کو اپنی طرف نسبت کرنا اور اس بات کا خوف نہ ہونا کہ یہ چھن جائے گا۔ گویا خود پسند شخص نعمت کو منعم حقیقی (یعنی اللہ تعالیٰ) کی طرف منسوب کرنا ہی بھول جائے۔(دیکھیے: احیاء العلوم، 3/454)(یعنی ملی ہوئی نعمت مثلاً صحت یا حسن وجمال یا دولت یا ذہانت یا خوش الحانی منصب وغیرہ کو اپنا کارنامہ سمجھ بیٹھنا اور یہ بھول جانا کہ یہ سب رب العزت ہی کی عنایت ہے)

خود پسندی کا حکم

خود پسندی کو حدیث میں بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے چنانچہ حضرت انس  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اگرچہ تم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو لیکن مجھے تم پر گناہ سے بھی بڑے جرم کا خوف ہے اور وہ ہے عُجُبْ یعنی خود پسندی۔(مسند البزار، 13/326، حدیث:6936)

احادیثِ مبارکہ میں بہت سے مقامات پر خود پسندی کی مذمت فرمائی گئی ہے، چند احادیث پڑھیے:

خود پسندی کا نقصان

حضرت ابن عباس  رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: گناہوں پر نادم ہونے والا اللہ پاک کی رحمت کا منتظر ہوتا ہے جبکہ خود پسندی کرنے والا اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا منتظر ہوتا ہے۔(شعب الایمان،5/453، حدیث:7254)

خودپسندی بد صورت انسان ہوتی

اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : اگر خود پسندی انسانی شکل میں ہوتی تو وہ سب سے بد صورت انسان ہوتی۔(جامع الاحادیث،  5/130، حدیث: 17650)

ستر(70) سال کے عمل برباد

جامع الصغیر کی ایک روایت میں ہے: خود پسندی 70سال کے عمل کو برباد کر دیتی ہے۔

(جامع الصغیر، ص127، حدیث:2074)

عیبوں کی تشہیر (پھیلانا)

نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جو شہرت طلب کرے گا (قیامت کے دن) اس کے عیبوں کی تشہیر ہوگی اورجو شخص لوگوں کو دکھانے کے لیے عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اس کا بدلہ دے گا۔

 (بخاری، 4 / ‏‏247، الحدیث: 6499)

احادیثِ کریمہ کی ان تعلیمات کا صحابۂ کرام پر کیسا اثر ہوا، خود پسندی سے کیسے بچتے تھے، پڑھیے:

مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  خود پسندی سے بہت زیادہ ڈرتے تھے اور جب لوگ آپ کی تعریف کرتے تو آپ اس طرح دعا مانگتے: یااللہ! مجھے اس سے بہتر بنا دے جو کچھ یہ کہتے ہیں اور جو کچھ یہ نہیں جانتے میرا وہ عمل بخش دے۔(تنبیہ المغترین،ص241)

مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق اعظم  رضی اللہ عنہ  کی لوگ تعریف کرتے تو وہ اس طرح دعا مانگتے :یااللہ! میں اس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو کچھ یہ کہتے ہیں اور تجھ سے اس عمل کی بخشش چاہتا ہوں جس کا انہیں علم نہیں۔ (تنبیہ المغترین،ص242)

اللہ پاک ہمیں خود پسندی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور احادیث مبارکہ پڑھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


Share