انسانی جان
گرمی کا موسم جَوبَن پر تھا ، بچّوں کی اسکولوں سے چُھٹیاں ہو چکی تھیں، البتہ حکومت کی اجازت سے ہفتے میں دو دن بچّوں کو سمر کیمپ کےلیے اسکول بلانے کی اجازت تھی تاکہ انہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک اچّھا مسلمان اور اچھا پاکستانی شہری بنانے کے لیے مختلف ایکٹوٹیز میں ان کی شمولیت کروائی جائے۔ اسی لیے آج اسکول میں چہل پہل تھی اور مختلف کلاسز کے انچارجز اپنی اپنی کلاس کے بچّوں کے ساتھ مصروف تھے۔ جبکہ ساتویں کلاس کے بچّوں میں جوش و خروش کا ایک الگ ہی عالَم تھا۔ دراصل آج کے سمر کیمپ کے دن ان کےلیے کچھ خاص تھا۔ سر بلال نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ آج وہ انہیں ایک ایسی جگہ لے جائیں گے جہاں ”زندگیاں بچائی جاتی ہیں“۔
وقتِ مقرّرہ پر سر بلال بچّوں کے ساتھ بس میں سوار ہو گئے اور بس اپنی منزل کی طرف چل پڑی، تقریباً بیس منٹ میں بس ایک چار دیواری کے سامنے رکی، جس کے مین گیٹ کے اوپر لگے بورڈ پر بڑے بڑے حُروف میں لکھا ہوا تھا ریسکیو 1122۔ مین گیٹ پر موجود چوکیدار سے اجازت ملتے ہی جیسے بس اندر داخل ہوکر پارکنگ کی طرف بڑھی تو ایک طرف سفید اور سرخ رنگ کی چمکتی ہوئی ایمبولینس اور آگ بجھانے والے بڑے بڑے لال ٹرک کی قطار دیکھ کر بچّوں کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ ایسا نہیں تھا کہ بچّوں نے کبھی ایمبولینس نہیں دیکھی تھی لیکن ایک جگہ اتنی زیادہ ایمبولینس نہیں دیکھی تھیں۔
چار دیواری کے درمیان میں مرکزی عمارت موجود تھی جس کے دروازے کے اوپر بڑے بڑے حروف سے لکھا ہوا تھا:جس نے کسی شخص کو مرنے سے بچا لیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو بچا لیا۔ (پ6،المآئدۃ:32)
سر بلال کی ہدایت کے مُطابق سبھی بچّے دو قِطاروں میں تقسیم ہو کر عمارت کے دروازے کی طرف بڑھے جہاں پہلے سے موجود ایک شخص نے بچّوں کا استقبال کیا۔ سلام کے بعد انہوں نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا: میرا نام احمد ہے اور میں اس ریسکیو سینٹر کا انچارج ہوں، آج ریسکیو سینٹر کا وزٹ آپ میرے ساتھ ہی کریں گے۔ اور پھر بچّوں کو لے کر عمارت میں موجود ہال میں آ گئے۔
ہال میں ایک دیوار پر پورے شہر کا بڑا سا نقشہ لگا ہوا تھا، احمد صاحب اسی کے پاس آ کھڑے ہوئے، پھر نقشے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بچّو! جب آپ 1122 پر کال کرتے ہیں تو ہمیشہ آپ کے قریب ترین ریسکیو سینٹر سے رابطہ قائم ہو جاتا ہے۔
ثوبان نے جلدی سے ہاتھ کھڑا کیا: سر! کیا آپ کو فوراً پتا چل جاتا ہے کہ ہم کہاں سے کال کر رہے ہیں؟
جی بچّو! ہمارے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کی وجہ سے آپ کی کال ہمیشہ قریبی ریسکیو سینٹر سے ہی ملتی ہے تو شہر کی حد تک تو ہمیں لوکیشن پتا چل ہی جاتی ہے لیکن بالکل ٹھیک ٹھیک جگہ کی لوکیشن پوچھنا پڑتی ہے۔لیکن یاد رکھیں!کبھی بھی پرینک کال یا جھوٹی کال نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ اس وقت شاید کوئی زندَگی اور موت کے درمیان ہو اور لائن مصروف ہونے کی وجہ سے اس کی مدد نہ ہو سکے۔
پھر سر احمد بچّوں کو ایک ایمبولینس کے پاس لے گئے اور بتانے لگے: ہر ایمبولینس میں ابتدائی طبّی امدادFirst aid کا مکمل سامان موجود ہوتا ہےپھر خاص طور پر آکسیجن سلنڈر اور ایک مشین دکھاتے ہوئے کہا:اسے ڈی فیبریلیٹر کہتے ہیں، یہ بند ہوتے دل کو دوبارہ دھڑکانے میں مدد دیتی ہے۔
اُسید نے سوال کیا:سر! اگر ہمیں سڑک پر کوئی حادثہ نظر آئے تو کیا کریں؟
احمد صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا:بیٹا! سب سے پہلے اپنی حفاظت دیکھنی چاہیے۔ پھر 1122 کو کال کریں اور حادثے کی درست جگہ بتا دیں، کال پہ موجود ریسکیو ممبر کو جگہ سمجھ نہیں آرہی تو اسے کسی قریبی مشہور جگہ کا بھی بتائیں۔ جب تک ریسکیو ٹیم نہ پہنچے، زخمی کو بلا ضَرورت حرکت نہیں دینی چاہیے۔
وزٹ کا سب سے دلچسپ حصّہ وہ تھا جب احمد صاحب نے ایک بچّے کو بلایا تو معاویہ ان کے پاس جا کھڑے ہوئے، پھر انہیں گھاس پر لٹایا گیااور احمد صاحب نے سکھایا کہ کسی کا سانس یا دل کی دھڑکن بند ہو جانے کی صورت میں اسے ابتدائی طبّی امداد کیسے دی جائے گی، سینے پر زور ڈالنے کے ساتھ ساتھ اس وقت تک منہ کے ذریعے مصنوعی سانس دیتے رہنا چاہیے جب تک ریسکیو ٹیم نہ آ جائے یا مریض کی طبیعت سنبھل نہ جائے۔
اس کے بعد احمد صاحب کہنے لگے: بچّواب میں آپ کے ٹیچر کی اجازت سے آپ کو ایک ہوم ورک دینے لگا ہوں:
”ایمرجنسی کارڈ بنانا“ ایک چھوٹا سا کارڈ (Cardboard) لیں اور اس پر اپنے اور گھر والوں کے لیے ضَروری فون نمبرز لکھیں:
ریسکیو: 1122
پولیس: 15
فائر بریگیڈ: 16
ابو اور امی کا فون نمبر۔
اور اس کارڈ کو فریج پر یا کسی ایسی جگہ لگائیں جہاں سے سب اسے دیکھ سکیں۔
دوسرا آپ نے اپنے کسی ایک دوست کو یہ سمجھانا ہے کہ ہمیں ایمبولینس کو ہمیشہ راستہ دینا چاہیے اس چھوٹی سی مدد کے ذریعے وہ کسی کی جان بچا سکتے ہیں۔
پھر سر بلال اور بچّوں نے احمد صاحب کا شکریہ اَدا کیا اور واپس روانہ ہو گئے۔بس ا سکول کی طرف بڑھ رہی تھی، لیکن آج ان بچّوں کے ذہنوں میں ایک عَزْم تھا”جان بچانے کا عَزْم“۔ وہ سیکھ چکے تھے کہ تھوڑی سی معلومات اور صحیح وقت پر اُٹھایا گیا ایک قدم کسی کی زندگی بچا سکتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* مدرس جامعۃُ المدینہ، فیضان آن لائن اکیڈمی
Comments