بچوں کو رحم دلی کی تربیت کیسے دیں؟


بچّوں کو رحم دلی کی تربیَت کیسے دیں؟


انسانی معاشرے کی خوبصورتی محبّت، ہمدردی اور رَحم دلی جیسے اوصاف سے قائم ہے، اور ان اوصاف کی بنیاد گھر سے ہی رکھی جاتی ہے۔ بچے فطرتاً نَرم دل ہوتے ہیں، مگر ان کی صحیح تربیَت نہ ہو تو یہی بچے سخت دل بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے والدین پر یہ اَہَم ذمّہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی ایسی تربیَت کریں جس میں رحم دلی، دوسروں کے لیے احساس، اور مدد کا جذبہ شامل ہو۔

رحم دلی سے مراد دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنا، ان کے ساتھ نرمی اور شفقت کا برتاؤ کرنا، اور ضرورت کے وقت ان کی مدد کے لیے آگے بڑھنا ہے۔

معزز والدین! موجودہ دَور میں  خودغرضی اور بے حسی بڑھتی جا رہی ہے، ایسے میں ضروری ہے کہ  بچّوں کو رحم دل بنائیں۔  آئیے! چند ایسے طریقے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ جن کے ذریعے  ہم بچّوں میں رَحم دلی کی صِفت پیدا کر سکتے ہیں۔

رَحم دلی کی اَہمیّت:

بچّوں کو رحم دلی کی تربیت دینے کے لیے رحم دلی کی اہمیّت بتائیں۔*رحم دلی کو قراٰنِ کریم میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی صفت بتایا گیا ہے کہ وہ آپس میں رحم دل ہیں۔ ([1]) اس سے رحم دلی کی اہمیّت واضح ہوتی ہے۔

 احادیث میں مختلف الفاظ سے رحم دلی کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے چند احادیث بچّوں کو سنائیے۔*نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:مؤمنوں کی مثال (باہمی رحم دلی میں) ایک جسم کی طرح  ہے، اگر ایک عضو تکلیف میں ہو تو پورا جسم  بے خوابی اور بخار کی سی کیفیت میں مبتلا رہتا ہے۔([2])

تکبر اور تحقیر سے بچائیں:

بچّوں کو رحم دلی کی تربیت دینے کے لیے ضَروری ہے کہ انہیں تکبّر اور دوسروں کی تحقیر جیسے بُرے رویّوں سے بچایا جائے۔ جب بچّہ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے لگتا ہے تو اس کے دل میں رحم دلی اور ہمدردی کی جگہ ختم ہونے لگتی ہے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ بچّوں کو عاجزی و انکساری کی اہمیّت سمجھائیں اور یہ بتائیں کہ اصل عزّت انسان کے اخلاق میں ہوتی ہے، نہ کہ دولت، طاقت یا شکل و صورت میں۔ بچّوں کو یہ بھی بتائیں کہ سب مسلمان بھائی بھائی ہیں اس لیے کسی کو کمتر سمجھنا یا اس کی بے عزّتی کرنا درست نہیں۔ جب بچّے یہ سیکھ جاتے ہیں تو ان کے دل میں خود بخود رحم دلی، محبت اور انسانیّت پیدا ہو جاتی ہے۔

رَحم دلی کے فائدے بتائیں:

بچّوں کو رَحم دلی کی تربیت دینے کے لیے رحم دلی کے فائدے بتائیں۔رحم دلی کا ایک فائدہ یہ ہے اس سے اللہ پاک کی رحمت حاصل ہوتی ہے۔ نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا:اللہ پاک اپنے رحم دل بندوں پر ہی رحم فرماتا ہے، لہٰذا اہلِ زمین پر رحم کیا کرو آسمان کا مالک تم پر رحم فرمائے گا۔([3])

دوسرا فائدہ یہ ہے کہ رحم دلی جنّت میں داخلے کا سبب ہے۔رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا: لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ حَتّیٰ تَرَاحَمُوْا یعنی تم اس وقت تک جنّت میں داخِل نہیں ہوسکتے، جب تک آپس میں رحم دِل نہ ہو جاؤ۔([4])

رحم دلی کا تیسرا فائدہ یہ ہے کہ اس سے لوگوں کے دلوں میں محبّت اور اپنائیت پیدا ہوتی ہے۔ جو شخص دوسروں کے ساتھ نرمی، ہمدردی اور شفقت کا رویہ اختیار کرتا ہے، لوگ اس کی طرف خود بخود مائل ہوتے ہیں اور اس سے دل سے محبّت کرنے لگتے ہیں۔

بچوں کو  بتائیے کہ:

پیارے بچو!  جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا، اس کا دل آہستہ آہستہ سخت ہو جاتا ہے، پھر وہ کسی کی تکلیف محسوس نہیں کرتا اور جب کوئی کسی کی تکلیف محسوس نہیں کرتا تو لوگ بھی اس کی تکلیف کے وقت میں اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔

جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا اس کے دوست کم ہو جاتے ہیں، بے رحم  شخص کو کوئی پسند نہیں کرتا، اس سے ہر کوئی دور رہنے لگتا ہے یوں بے رحم بندہ اکیلا رہ جاتا ہے۔

بے رحمی کے باعث لڑائی جھگڑے بڑھ جاتے ہیں کیونکہ جس پر ظلم ہوتا ہے تو وہ بدلہ لینے کی کوشش کرتا ہے جس سے جھگڑے بڑھتے ہیں۔

بے رحم بندے کی عزّت کم ہو جاتی ہے۔لوگ ایسے بندے کو برا سمجھتے ہیں،  اور اس کی عزت اور قدر کم ہو جاتی یا آہستہ آہستہ ختم ہوجاتی ہے۔

جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا اسے خود بھی سکون نہیں ملتا  وہ اندر سے بے چین رہتا ہے۔

والدین خود رحم دلی کا مظاہرہ کریں:

 بچّہ اپنی ابتدائی زندگی میں اپنے والدین سے سیکھتا ہے، اور انہی کے رویّے اس کی شخصیت کا حصّہ بن جاتے ہیں۔ اگر والدین خود رحم دل، نرم مزاج اور دوسروں کا خیال رکھنے والے ہوں تو بچّے بھی انہی خوبیوں کو اپناتے ہیں۔ لیکن اگر بچّوں کی اس طرف توجہ نہ دلائی جائے تو وہ خودغرض اور بے حس بھی بن سکتے ہیں۔ اس لیے ضَروری ہے کہ والدین اپنے بچّوں کی ایسی تربیت کریں جس سے ان کے اندر رحم دلی، ہمدردی اور انسانیّت کا جذبہ پیدا ہو سکے۔

بچوں کو رحم دلی کا پریکٹیکل  بتائیں کہ آپ  رحم دلی کا اظہار یوں کرسکتے ہیں کہ

*اپنے اردگرد لوگوں کی ضرورتوں کو پہچانیں اور ان کی مدد کرنے کی کوشش کریں۔

*اگر کوئی بیمار ہو تو اس کی عیادت کریں، اس کا حال پوچھیں اور اس کے لیے دعا بھی کریں اور اس کے پاس دوا کے پیسے نہ ہوں تو اپنے ابو، چچا یا بڑے لوگوں کو بتا کر اس کے لیے دوا کا انتظام کریں۔

* اگر کسی بچے کے پاس  پڑھنے کے لیے  کتابیں نہ ہوں تو اس کی مدد کے لیے کتابیں دلوانے کی کوشش کریں۔

* کسی کے گھر کھانا نہیں ہے تو اپنے گھر والوں کو بتا کر ان کے لیے کھانے کا بندوبست کریں۔

*جن بچوں کے پاس کھلونے نہ ہوں تو انہیں اپنے ساتھ کھیل میں شامل کریں۔

*کسی غریب بچے کے پاس مناسب کپڑے نہ ہوں تو اپنے بڑوں کے ذریعے اس کے لیے کپڑوں کا انتظام کریں۔

محترم والدین! آئیے! ہم سب مل کر اپنے بچوں کو رحم دل بنا کر ایک خوبصورت اور محبتوں بھرا معاشرہ قائم کرنے کی کوشش کریں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ذمہ دار ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])دیکھیے: پ26، الفتح: 29

([2])بخاری، 4/103، حدیث: 6011

([3])ترمذی،3/381،حدیث:1931

([4])مستدرک،4/282، حدیث:7389


Share