گورنروں کے تقرر میں فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی ترجیحات


گورنروں کے تقرّر میں فاروقِ اعظم کی ترجیحات


اسلامی تاریخ کے روشن ابواب میں خُلفائے راشدین کا دَورِ حکومت ایک منفرد اور بے مثال مقام رکھتا ہے۔ اس دَور میں حکومت کا مقصد محض سیاسی اقتِدار نہیں بلکہ توحید و رسالت کا پرچار، عدل و انصاف کا قیام اور اعلیٰ اخلاق سے دنیا کو روشناس کرانا تھا۔ خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدّیق رضی اللہ عنہ کے مبارک دَور میں فتوحات کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا، امیرُ المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں بھی بڑی شان و شوکت کے ساتھ جاری رہا۔

امیرُ المومنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی سب سے نمایاں خُصوصیّت یہ تھی کہ انہوں نے نہ صرف وسیع سلطنت قائم کی بلکہ اس سلطنت کو منظّم رکھنے کے لیے ایک مربوط اور مؤثّر انتظامی نظام بھی وضع کیا۔ فقہا اور مؤرّخین نے اس نِظام کو اسلامی تاریخ کا سب سے پہلا منظّم انتظامی ڈھانچہ قرار دیا ہے۔

آپ رضی اللہ عنہ نے اِس نظام کے قیام و بقا کے لیے سلطنت کے مختلف علاقوں میں گورنر اور ذمّہ دار مقرّر کیے۔ لیکن ان تقرّرات میں ذاتی رشتہ داری یا قربت کو معیار نہیں بنایا بلکہ اہلیت، امانت داری اور فراست کو بنیاد بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دَور میں مقرّر کیے گئے گورنر  اپنی ذمہ داریوں میں مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے رہے۔

منصب دینے کے لیے مطلوب   چار بنیادی خصلتیں

حضرت سیِّدُنا عبدُ اللہ بن عمران رحمۃُ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا:اِس منصب  اقتدار  کے لائق صرف وہی شخص ہے جس میں یہ چار خصلتیں پائی جائیں: (1)نَرمی ہو لیکن ایسی نَرمی بھی نہیں جو کمزوری پر مشتمل ہو، (2)سختی ہو مگر ایسی نہیں کہ جس میں شدّت ہو،  (3)کفایت شعار ہو لیکن ایسا نہیں کہ اس میں بخل ہو، (4)لحاظ کرنے والا ہو لیکن ایسا نہیں کہ حد سے تجاوز کرجائے۔ کیونکہ اِن میں سے ایک بھی صِفت ختم ہوگی تو بقیہ تینوں خود بخود ختم ہوجائیں گی۔ ([1])

آپ کا ایک اور فرمان ہے کہ  ”اللہ کے اَمر یعنی سلطنت کے معاملے کو صرف وہی شخص درست طریقے سے چلا سکتا ہے جو نہ تو ریاکاری کرتا ہو، نہ ہی تَساہُل یعنی سستی و بلا وجہ نرمی سے کام لیتا ہو، نہ ہی خواہشاتِ نفس کی پیروی کرنے والا ہو۔“([2])

اس فرمان میں تین ایسی خامیوں کا ذِکر ہے جوکسی بھی  منصب والے کو ناکام بنا دیتی ہیں:

ریاکاری:

جب  اَہلِ منصب  اپنے کام دکھاوے کے لیے کرنے لگیں  تو حقیقی انصاف مفقود ہو جاتا ہے۔ ریاکار  ظاہر میں عمل کرتا ہے مگر باطن میں خودغرض ہوتا ہے، اس لیے اس کے اعمال سے رعایا کو حقیقی فائدہ نہیں پہنچتا۔

تَساہُل اور سستی:

 ذمّہ داری سے غفلت اور اُمور مملکت میں سستی ایک عظیم گُناہ ہے۔ جب  اَہلِ منصب  کام کی بجائے آرام کو ترجیح دے تو   نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور رعایا ظلم کی چکّی میں پستی رہتی ہے۔

خواہشاتِ نفس کی پیروی:

 جب اقتدار کا مقصد ذاتی خواہشات کی تکمیل بن جائے تو  منصب  ظلم میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری زندگی نفس کو قابو میں رکھ کر گُزاری اور یہی ان کی کامیابی کا راز تھا۔

گورنروں کے تقرر کی شرائط

 طاقت و قوّت:

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ جب بھی کسی کو  کوئی عہدہ دیتے   تو اس بات کو ضَرور پیش نظر رکھتے کہ وہ قوّت و طاقت کے اعتبار سے بھی کوئی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ اگر آپ کو ایسا کوئی شخص مل جاتا تو آپ اُسے ترجیح دیا کرتے تھے۔

اس ضمن میں ایک تاریخی واقعہ بہت مشہور ہے۔آپ رضی اللہ عنہ  نے حضرت شُرَحْبیل بن حَسَنہ رضی اللہ عنہ کو معزول کرکے حضرت سیِّدُنا عبدُ اللہ بن قَیس رضی اللہ عنہ کو ذمّہ دار بنایا۔ جب حضرت شُرَحْبیل بن حَسَنہ نے اس کا سبب پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اِنَّكَ لَكُمَا اَحَبُّ وَلٰكِنِّيْ اُرِيْدُ رَجُلاً اَقْوٰى مِنْ رَجُلٍ یعنی بے شک میں تم دونوں سے محبت کرتا ہوں لیکن میں تم سے زیادہ طاقتور شخص چاہتا ہوں۔“

پھر جب شُرَحْبیل بن حَسَنہ نے عوام کے سامنے وضاحت کی درخواست کی تو آپ نے اعلان فرمایا:”اَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ وَاللہ مَا عَزَلْتُ شُرَحْبِيْلَ عَنْ سُخْطَةٍ وَلٰكِنِّيْ اَرَدْتُّ رَجُلًا اَقْوٰى مِنْ رَجُلٍ“ ترجمہ: اے لوگو! اللہ کی قسم! میں نے شُرَحْبیل بن حَسَنہ کو کسی ناراضی کی وجہ سے معزول نہیں کیا بلکہ میں ان سے زیادہ طاقت والا شخص چاہتا ہوں۔([3])

اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے نزدیک تقرّر کا معیار ذاتی تعلّق یا محبّت نہیں بلکہ اہلیت اور قوّت ہے۔ اس کے ساتھ آپ نے معزول  ہونے والے  کی عزّت نفس کا بھی خیال رکھا اور عوام کے سامنے وضاحت کی تاکہ اس کا وقار مجروح نہ ہو۔

 امانت داری:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کسی بھی عہدے کی تقرّری میں امانت داری کو   ترجیح دیتے تھے۔ آپ کے نزدیک اس  عہدے اور ذمّہ داری کے لائق ہی وہ شخص تھا جو امانت دار ہو۔ حضرت سیِّدُنا حسن رحمۃُ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا:”اَلرَّعِيَّةُ مَؤَدِّيَةٌ اِلَى الْاِمَامِ مَا اَدَّى الْاِمَامُ اِلَى اللہ فَاِذَا رَتَعَ الْاِمَامُ رَتَعُوْا یعنی رعایا اس وقت تک اپنے امام یعنی حاکم سے امانت داری کرے گی جب تک وہ اللہ سے امانت داری کرے گا، جب وہ اللہ سے امانت داری کرنا چھوڑ دے گا تو رعایا اس سے امانت داری چھوڑ دے گی۔“([4])

آج کے دَور میں بھی اگر ہم دیکھیں تو جن معاشروں میں اہلِ منصب  دیانت دار ہوتے ہیں، وہاں کے شہری بھی قوانین کی پابندی کرتے ہیں۔ اور جہاں اوپر سے کرپشن اور بددیانتی ہو، وہاں معاشرے  میں بھی بدنظمی اور بے ایمانی پھیلتی ہے۔

آپ رضی اللہ عنہ نے مزید ارشاد فرمایا: مجھ سے میری امانت اور عہدے کے بارے میں پوچھا جائے گا، میں اپنی امانت کو کسی ایسے شخص کے سپرد نہ کروں گا جو اس کا اہل ہی نہیں ہے اور نہ ہی میں نااہل کو کوئی منصب دوں گا، میں یہ منصب صرف اُسی کو دوں گا جو امانت کی ادائیگی اور مسلمانوں کی عزّت و توقیر میں رغبت رکھتا ہے۔([5])

تجربہ اور بصیرت:

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ عہدے  کے لیے دیگر تمام صفات کے ساتھ ساتھ تجربہ کار اور صاحب بصیرت ہونے کو بھی ترجیح دیتے تھے۔ بصیرت وہ صلاحیّت ہے جس سے انسان حالات کی گہرائی کو سمجھتا ہے، مستقبل کے امکانات کا اندازہ لگاتا ہے اور غلطیوں سے سبق سیکھتا ہے۔ یہ صفت نہ ہو تو  بندہ   صرف مسائل سے نبردآزما ہوتا رہے گا لیکن ان کا دائمی حل تلاش نہ کر سکے گا۔

شفقت و مہربانی:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ خود بھی نہایت شفیق تھے اور چاہتے تھے کہ جسے بھی  مقرّر کریں وہ انتہائی شفیق و مہربان بھی ہو۔ اس ضمن میں ایک انتہائی ایمان افروز واقعہ ملتا ہے:

ایک بار آپ نے قبیلہ بنو اسد کے ایک شخص کو  عہدہ دیا۔ وہ عہدہ لینے کے لیے بارگاہِ فاروقی میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ کا ایک چھوٹا سا بچّہ آپ کے پاس موجود ہے اور آپ اسے فرطِ محبّت سے چوم رہے ہیں۔ اس نے تعجّب سے کہا: حضور! کیا آپ اس بچّے کو چوم رہے ہیں؟ میں نے کبھی اپنی اولاد کو محبّت سے نہیں چوما۔یہ سن کر سیِّدُنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے سخت ناپسندیدگی کا اِظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:”فَاَنْتَ بِالنَّاسِ اَقَلُّ رَحْمَةً هَاتِ عَهْدَنَا لَا تَعْمَلْ لِى عَمَلاً اَبَدًایعنی تم تو لوگوں پر بہت کم رَحم کرنے والے ہو، تم اس قابل نہیں ہو کہ تمہیں کوئی ذمّہ داری دی جائے، لاؤ ہمارا وہ منصب جو ہم نے تمہیں دیا ہے، آج کے بعد تم کبھی بھی ہمارا کوئی حکومتی کام نہیں کرو گے۔“([6])

 رعایا میں گھل مل کر رہنا:

امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ قلبی طور پر ایسے شخص کو منصب  دینے  کی خواہش رکھتے تھے جو عہدہ ملنے کے بعد عوام اور رعایا میں ایسے رہے جیسے وہ انہی میں سے ایک فرد ہو، اور جب وہ  عہدے پر  نہ ہو تو ایسا لگے جیسے وہی  اس عہدے  کے قابل تھا۔([7])

فسق و فجور سے پاک ہونا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ فاسق و فاجِر شخص کو ذمّہ داری دینا قطعاً پسند نہ فرماتے تھے۔ آپ نے اس بارے میں ایک بنیادی اُصول بیان فرمایا:”مَنِ اسْتَعْمَلَ فَاجِراً وَھُوَ يَعْلَمُ اَنَّہُ فَاجِرٌ فَهُوَ فَاجِرٌ مِثْلُهُ یعنی جس نے کسی فاسق و فاجر شخص کو نگران بنایا اور وہ جانتا تھا کہ اس نے جس کو  نگران بنایا ہے وہ فاسق و فاجر ہے تو نگران بنانے والا بھی اسی کی طرح ہے۔“([8])

یہ اُصول احتساب اور ذمّہ داری کے تصور کو ایک نئی جہت دیتا ہے۔ جو شخص کسی نااہل اور فاسق کو جانتے بوجھتے منصب دے، وہ خود بھی اس فسق میں شریک ہے۔ یہ اُصول ان لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو ذاتی مفاد کے لیے نااہل لوگوں کو اَہم عہدوں پر بٹھاتے ہیں۔

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے فرامین اور طرزِ حکومت کی روشنی میں ایک کامیاب  گورنر کے اوصاف کا خلاصہ یہ ہے:

مثبت صفات جو اہل منصب میں ہونی چاہئیں:

* اعتِدال اور توازن *نرمی جو کمزوری نہ ہو *سختی جو ظلم نہ ہو *کفایت شعاری جو بخل نہ ہو *لحاظ جو حد سے تجاوز نہ کرے *امانت داری *علمِ دین و دنیا *تجربہ اور بصیرت *شفقت و محبّت *رعایا میں گھل مل کر رہنا *اخلاص اور ضبطِ نفس۔

منفی صِفات جن سے  اہل منصب کو بچنا ضَروری ہے:

* ریاکاری اور دکھاوا *سستی اور غفلت *خواہشاتِ نفس کی پیروی *فسق و فجور *نااہل لوگوں کو اَہم عہدے دینا *رعایا سے بے نیازی اور بے رحمی۔

آج کی دنیا میں فاروقی اصول

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی وفات کو چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ گُزر چکا ہے لیکن ان کے وَضع کردہ  اُصول آج بھی اتنے ہی تازہ اور قابلِ عمل ہیں۔ جدید دنیا میں گورننس کے جتنے بھی نظریات پیش کیے گئے ہیں، ان میں سے اکثر کی اصل ان اُصولوں میں ملتی ہے جو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں متعارف کرائے تھے۔

آج جب دنیا میں حکمرانی کے بحران ہیں، جب عوام اور حکمرانوں کے درمیان اعتماد کی فصیل گر چکی ہے، ایسے میں فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے یہ اُصول ایک روشن مینار کی طرح ہیں جن کی طرف رُجوع کرنا ہی اصلاح کی واحد راہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان اُصولوں پرعمل کرنےاورانہیں اپنے معاشرے میں رائج کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ذمہ دار ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])مصنف عبد الرزاق،8/232، حدیث: 15367

([2])مصنف عبد الرزاق،8/232، حدیث: 15368

([3])الکامل فی التاریخ،2/402-تاریخ ابن عساکر،22/474

([4])مصنف ابن ابی شیبہ،19/140،حدیث: 35590

([5])کتاب الثقات لابن حبان،1/184

([6])سنن کبریٰ للبیہقی ،9/72،حدیث: 17906

([7])کنز العمال،3/304،جزء:5،حدیث: 14307

([8])اخبار القضاۃ،1/69-مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب، ص78


Share