فقہی مسائل اور امیر اہل سنت کے رسائل (تیسری اور آخری قسط)
شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنّت حضرت علّامہ محمد الیاس عطّاؔر قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کے فقہی ذَوق اور شَرعی مسائل کے حوالے سے احتیاط کا اندازہ آپ کی بکثرت فقہی تحریرات سے بخوبی ہوجاتا ہے۔ سابقہ دو شماروں میں آپ کی طہارت، نماز، جنائزاور مساجد کے حوالے سے اہم کتب و رسائل کا تعارفی و شماریاتی جائزہ پیش کیا گیا، اس شمارے میں مزید چند اَہم فقہی موضوعات پر رَہنمائی کرتے کتب و رسائل کا جائزہ ملاحظہ کیجیے:
پردے کے بارے میں سوال جواب (صفحات:399):
شریعَتِ اسلامیہ نے عورتوں کو پردے کی خاص ہدایت فرمائی ہے۔ پردے کی شرعی حیثیت کو بیان کرنے والی اس بے مثال کتاب میں بصورتِ سوال وجواب پردےکے شَرعی اَحکام بیان ہوئے ہیں۔کتاب 35قرآنی آیاتِ طیِّبہ، 92احادیثِ مبارَکہ، 165 شرعی وفقہی احکام، 10اقوالِ بزرگانِ دین، 7اوراد و وظائف، 12مدنی پھول اور 46 واقعات وحکایات پر مشتمل ہے جس میں عورت کا لغوی معنیٰ،پردے کی اسلامی حدود،مردوعورت کے سِتر کہاں تک ہیں، مرد کے مَردوں سے اور عورت کے عورتوں سے پردے کے احکام، محارم سے پردہ نہ ہونے اور غیرمحارم سے پردے کی تفصیل، دیور اور جیٹھ سے پردے کا مسئلہ،لے پالک(یعنی گود لیے ہوئے) بچّے اور بچّی سے پردہ، گھرسے باہر جانے کی احتیاطیں،دیُّوث کسے کہتے ہیں اور اُس کی مذمّت،لڑکے اور لڑکی کے بالغ ہونے کی عمریں،استاد اورپیرومرشد سے پردہ اور اُن سے بات چیت کا مسئلہ، عورت کا تعلیْمِ قرآن اور حصولِ علم کے لیے باہر نکلنا جیسے مدارس،کالج اور یونیورسٹی میں پڑھنا اور مخلوط نظامِ تعلیم کی مذمّت اورخرابیاں،مرد کے پاس عورت اور عورت کے پاس مرد کا پڑھنا،عورت کا نوکری کرنا جیسے ائیرہوسٹس اور شعبہ نرسنگ وغیرہ کی جاب، عورت کا تنہا سفرکرنا، مرد و عورت کے ایک دوسرے سے علاج کروانے،چیک اپ کروانے اور انجکشن لگوانے کے شرعی احکام،اسلامی بہنوں کے لیے رول ماڈل ہستی سیِّدہ خاتونِ جَنَّت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بے مثال پردہ،عورتوں کی مزارات پر حاضری کی شرعی حیثیت، خواتین کی نعت خوانی، عورتوں کے میک اپ اور فیشن، ہیجڑوں کے بعض مسائل،عشْقِ مجازی اور کورٹ کی شادی اور مسئلۂ کفو کا تفصیلی بیان ہے، الغرض یہ کتاب خواتینِ اسلام کے لیے ایک زبردست تحفہ،عظیم نعمت اورہرگھر کی ضَرورت ہے۔
چندے کے بارے میں سوال جواب (صفحات:100):
مساجِد و مدارس کی تعمیروترقی،محافل واجتماعات کے انعقاد اور دیگر دینی اُمور کی انجام دہی کے لیے عطیات وصدقات کی ضَرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے،اسی کو عرفِ عام میں چندہ کہتے ہیں۔6 آیاتِ مبارکہ،27احادیْثِ طیبہ،66 اقوال و فقہی اَحکام،ایک واقعہ اور 6 مدنی پھولوں پر مشتمل اس کتاب میں سُوالاً جواباً چندے کے اہم مسائل واحکام درج ہیں،چندے کی شرعی حیثیت،دورِ رسالت میں چندے کے معاملات،مسجد و مدرسہ کے چندے، کھانے اور پانی وغیرہ کے مصارف، چندے سے چراغاں اور افطاری، چندے کا ذاتی استعمال، چندے یا زکوٰۃ کے غلط استعمال پر تاوان کی صورتیں، حیلے کی شرعی حیثیت اور مسائل،کلی اختیارات کا مسئلہ، سماجی وفلاحی اِداروں میں زکوٰۃ وغیرہ کا استعمال اورمدنی قافلوں میں جمع شُدہ اَخراجات کے مسائل وغیرہ اَلغرض اس رسالے میں بہت سارے وہ مسائل واحکام بیان ہوئے ہیں جن کا سیکھنا مدرسوں، مسجدوں اور مذہبی وسماجی اداروں کا چندہ کرنے والوں پرفرض ہے۔
اخبار کے بارے میں سوال جواب(صفحات:59):
خبروں اور معلومات کا ایک ذریعہ اخبار بھی ہے، ذمّہ دار لوگ باخبر رہنا پسند کرتے ہیں اور اس سے کثیرفائدے اُٹھاتے ہیں۔یہ رسالہ صحافت واخبار کی شرعی حیثیت کو متعیّن کرتا ہے۔اس میں صحافت کی تعریف،اخبار کی تاریخ و شروعات، غیرشرعی خبروں کی اِشاعت کا مسئلہ،چوری ڈکیتی اور چور کی خبروں کا حکم، ملزم کا نام چھاپنا کیسا، سنسنی وفتنہ انگیزی اورخوف وہراس پھیلانے کی مذمت،صحافت کی آزادی کا دائرہ کار،صحافیوں کا ٹوہ اور تجسس میں پڑنا، اخبار اور علماوشرفا کی کردارکُشی،اخباری اشتہارات کا معاملہ، کالم نگار کی رَہنمائی،افواہیں اور امنِ عامہ کی تباہی،مُدیرکو کیسا ہونا چاہیے، اخباری دفترمیں نوکری،اخبار کی خریداری اور اخبار بینی کے شرعی احکام بیان کیے گئے ہیں اور5 آیاتِ مبارکہ، 25احادیثِ طیبہ، 9 شرعی وفقہی احکام،10 اقوالِ بزرگانِ دین اور2 واقعات پرمشتمل رسالے کے آخرمیں اخبار سے جُڑے دینی،دنیاوی اور اُخروی خطرات سے بچنے کے 16 مدنی پھول بھی درج ہیں۔
دعوتوں کے بارے میں سوال جواب (صفحات:17):
دعوتیں بھی انسانی زندگی کا حصہ ہیں مگر اسلام نے دعوتوں کے بھی حقوق، احکام اور آداب بیان کیے ہیں۔اس رسالے میں دعوتوں کے شرعی احکام ومسائل بیان ہوئے ہیں جیسے دعوتِ ولیمہ کی شرعی حیثیت، حُضور نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ولیموں کی کیفیت،ولیمہ کتنے دن تک ہوسکتا ہے،ولیمہ پر کتنا خرچ ہونا چاہیے، ایڈوانس ولیمہ کا حکم، دعوت قبول کرنے کے احکام،بِن بُلائے دعوت میں جانا، گانے باجے والی تقریبات میں شرکت کا مسئلہ، دعوتوں میں ریاکاری کی مذمت اور غریبوں کی دعوت وغیرہ اور آخر میں ولیمہ کرنے کی 8 نیتیں تحریر کی گئیں ہیں۔رسالے میں 19احادیث کریمہ، 23 شرعی وفقہی احکام، 11اقوالِ بزرگانِ دین، 9مدنی پھول اور 3 واقعات وحکایات درج ہیں۔
نعت خواں اور نذرانہ (صفحات:24):
نعت خوانی ایک عظیم عبادت اور بڑی سعادت مندی ہے اور اس کا صِلہ اللہ پاک اور رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہی عطا فرمائیں گے لہٰذا بندوں سے بصورتِ نذرانہ اس کا صلہ طلب کرناقابِلِ مذمت ہے۔اس رسالے میں ایک آیت، 4احادیثِ کریمہ، 2اقوال اور 2 واقعات کی روشنی میں نعت خوانی کی اہمیت و فضیلت، پروفیشنل نعت خواں، نوٹ لُٹانے کا مسئلہ، نعت خواں اور کھانااور نعت خوانی کے عوض نذرانہ لینے کے شرعی احکام بیان ہوئے، ضمنا ً محفل نعت، نعت خوانوں اور مقرّرین کی غیبتوں کے متعلّق مثالیں دی گئی ہیں۔
ذِکروالی نعت خوانی(صفحات:24):
عشقِ رسول کو بڑھانے کا ایک عظیم ذریعہ نعت خوانی بھی ہے، نعت خواں بڑے خوش نصیب ہیں کہ انہیں اپنے آقاومولیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعریف وتوصیف کے کثیر مواقع ملتے ہیں۔اس رسالے میں نعت خوانی میں راہ پاجانے والے غلط طریقوں اور نامناسب انداز پر تنبیہ،اختلافی مسائل میں بہترصورت پر عمل کی ترغیب، مسلمانوں کو منافرت اور فتنے سے بچانے کا حکم، اَنگُشْت نُمائی کے اسباب کی مذمت،علمائے دین کی توہین کے احکام،اہْلِ ایمان کے دل خوش کرنے کی ترغیب اور نعت خوانوں سے عاجزانہ و دردمندانہ التِجا وغیرہ کا تذکرہ ہے۔ رسالہ 2قرآنی آیاتِ طَیِّبَہ،6نبوی ارشاداتِ مبارَکہ، 26 شرعی احکام، 14اقوال اور4 واقعات وحکایات پر مشتمل ہے۔
سگ مدینہ کہنا کیسا؟(صفحات:47):
بزرگوں اور مقدّس مقامات سے اپنی عاجزی بھری نسبت ظاہر کرنا اسلاف کا طریقہ ہے۔ اس رسالے میں8آیاتِ مبارکہ،10احادیثِ کریمہ، 24 اقوال، 24 شرعی احکام اور 5حکایات کی روشنی میں خود کو ”سگِ مدینہ“ کہنے کا جواز وثبوت، حضرات صحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے منفرد ناموں اور اَلقابات کا استِعمال جیسے شیر، تلوار، کشتی، اونٹ، حمار، مٹّی والے، بلّی والے وغیرہ، اُن کے اپنے لیے عاجزی بھر ے کلمات،اسلاف کا اپنے لیے عاجزی والے الفاظ بولنا اور لکھنا، اَصحابِ کَہف کے کتّے کے بارے میں تفصیلات اور آخِر میں بات چیت کرنے کی سنّتوں اور آداب پر مشتمل 12مدنی پھول درج ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* رکن مجلس اسلامک ریسرچ سینٹر المدینۃ العلمیہ کراچی
Comments