اِک سال اور گزر گیا
اسلام میں قمری سال معتبر ہے جس کی ابتدا محرم الحرام سے ہوتی ہے۔ اس کی حرمت تو اس کے نام ہی سے ظاہر ہے۔ محرم الحرام اشہرِ حرم میں سے اور برکت والا مہینہ ہے۔ مفسرِ قرآن، ادیبِ جلیل، صدرالافاضل مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃُ اللہ علیہ نے سال 1338ھ کے اختتام اور نئے سال کی آمد پر ایک مضمون لکھا جس میں آپ نے نہایت بلیغ اور فکرانگیز اسلوب میں وقت کی حقیقت، اس کے تغیرات اور انسانی زندگی پر اس کے اثرات کو بیان فرمایا۔ آپ نے سالِ گزشتہ کے گزرنے کو محض دنوں اور مہینوں کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک گہری معنوی حقیقت کے طور پر پیش کیا ہے، جس میں انسان کے لیے نصیحت اور عبرت کے کئی پہلو پوشیدہ ہیں، چند کلمات ملاحظہ کیجیے:
سالِ گزشتہ کے تمام گورے کالے اندھیرے اجالے، نئے نئے روپ دکھانے والے اوقات منقضی ہو گئے(یعنی گزر گئے)۔ طرح طرح کے لیل و نہار، ایامِ خزاں اور موسمِ بہار اپنی اپنی شان وشوکت دکھا کر رخصت ہوئے۔ شام و سحر کے ظلمانی ونورانی پیکر اپنی اداؤں کے ساتھ گزر گئے، شب وروز کے سیاہ وسفید اَدوار کا دراز عرصہ نیلی پیلی آنکھیں دکھا کر چلتا بنا، عیش وراحت کے ایام، شادی و کامرانی کے دن، جشن وعشرت کی راتیں، چشم زدن میں تمام ہوگئیں۔ حسرت و ارمان کے اوقات، اختر شماری، انتظار کی ساعات، ہجر وفراق کی گھڑیاں جو کاٹے نہ کٹتی تھیں ان کا خاتمہ ہو گیا۔ رنج وغم کے کڑوے اور تلخ دن، مصائب وافکار کے سخت وناگوار زمانے شدائد وتکالیف کے جاں سوز لمحے، بے کسی وبے بسی کے دردانگیز لحظے، اسیری و بیماری، رنجوری و بے چارگی کے مایوس کن ایام بھی آخر ہوئے۔
اوقات مہمانِ مستعجل کی طرح آئے اور چلے گئے۔ صبح کا سہانا سماں فرحت انگیزیاں کر کے روانہ ہوا تو چاشت نے اپنے عروج وترقی کا دبدبہ دکھایا مگر وہ بھی نہ ٹھہر سکا۔ نصف النہار (دوپہر) نے اپنی کمال کی روشنی و گرمی دکھائی اور رحلت کر گیا۔ پھر اعتدال کی طرف توجہ کی حرارت کم ہوئی، گرمی دھیمی پڑی لیکن وہ بھی باقی نہ رہ سکی۔ شام تاریکیوں کا لشکر لے کر آئی اور اس نے دن کی افواج پر غلبہ حاصل کیا ہی تھا کہ شبِ دیجور نے اپنی بھیانک اندھیری سے اس کو مغلوب کیا۔ سحر نے اس کا بھی گریبان چاک کیا۔
صدرالافاضل مفتی نعیم الدین مرادآبادی رحمۃُ اللہ علیہ نے تمام موسموں سرما،خزاں، بہار، گرما، برسات کے آنے اور بالآخر بےوفائی کرجانے یعنی رخصت ہوجانے کو بھی بڑے دلنشین جملوں اور محاورات و استعارات کے ساتھ بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ موسمِ سرما جاہ و جلال کے ساتھ آیا، سردی، لباس اور خوراک میں تبدیلی لایا مگر جلد رخصت ہو گیا۔ خزاں نے باغوں کی رونق چھین کر ویرانی پھیلائی، وہ بھی زیادہ دیر نہ ٹھہری۔ پھر بہار نے اجڑے چمن آباد کیے اور ہر طرف تازگی و خوشبو بکھیر دی، مگر یہ بھی عارضی ثابت ہوئی۔ گرمی نے شدت دکھائی، زمین کو تپایا اور لوگوں کو گھروں تک محدود کیا، پھر ختم ہو گئی۔ برسات نے بارش، سبزہ اور ٹھنڈک دی، مگر وہ بھی گزر گئی۔ یوں تمام موسم آتے جاتے رہے، ہمیں یاد دلاتے ہوئے کہ زندگی اور اس کے حالات سب عارضی ہیں۔
صدرالافاضل مفتی نعیم الدین مرادآبادی رحمۃُ اللہ علیہ موسموں کی بےثباتی، وقت کی بے وفائی اور لیل و نہار، شام و سحر کے آنے اور پھر چلے جانے کی جانب توجہ دلانے کے بعد نصیحت فرماتے ہیں کہ
یہ اوقات گئے لیکن تنہا نہ گئے، ہماری عمر کا ایک حصہ اپنے ساتھ لے گئے۔ ہماری حیات کا ایک جزو کم کر گئے۔ سال گزرنے پر دفاتر میں سال کی کارگزاریاں درج ہوتی ہیں۔ تجار اور زمین دار اپنی کتابیں اور بہیاں تبدیل کرتے ہیں اور پچھلے سال کے نفع نقصان کا حساب کرتے ہیں۔ اگر نفع نظر آتا ہے تو خوش ہوتے ہیں اور آئندہ اس سے زیادہ نفع حاصل کرنے کی تدبیریں کرتے ہیں اور اس طرف اپنی توجہ پہلے سے زیادہ صرف کرتے ہیں۔ اگر نقصان معلوم ہوتا ہے تو رنجیدہ ہوتے ہیں، اور اس کی تلافی کی فکروں میں سرگرم اور مستعد ہو جاتے ہیں۔
سال ہم سے رخصت ہو رہا ہے۔ ہمیں بھی حساب کرنا ہے کہ ہم نے متاعِ زندگی کو کس جنس سے بدلا اور ہم کو اس تجارت میں نفع ہوا یا ٹوٹا(یعنی نقصان)، ہماری عمر کے کتنے اوقات طاعت و عبادت اور مرضی الٰہی میں صرف ہوئے؟ کتنے بیکار گئے؟ اگر ہم کو اس سال کے عرصہ میں اعمالِ صالحہ اور عبادات وطاعات کا کافی سرمایہ بہم پہنچا ہے تو ہم کو خوش ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کا شکر کر کے آئندہ اس سے زیادہ نفع حاصل کرنے اور اس دولت کو بڑھانے کی تدبیر کرنا چاہیے اور اگر بدقسمتی سے ہمارے اوقات کی پونجی بے کار ضائع ہوئی یا اس کا اکثر حصہ غفلت میں گزر کر لٹ گیا تو ہم کو رنجیدہ ہونا چاہیے اور سچے دل سے ندامت کے ساتھ آنسو بہاتے ہوئے توبہ کر کے آئندہ زندگی کو کامیاب بنانے اور طاعت و عبادت اور مرضیاتِ الٰہی میں صرف کرنے کی سرگرم سعی کرنا چاہیے اور دوسروں کی تجارت کے نفع پر نظر کر کے رشک کرنا اور اپنے آپ کو اعمالِ صالحہ کے لیے مستعد بنانا لازم ہے۔ ہم کو دیکھنا ہے اس طویل عرصہ میں خداوندِ عالم کی کتنی بے شمار نعمتیں ہم کو ملیں اور ہم نے ان کی قدر نہ کی۔ ہم کو جانچنا ہے کہ کتنے فرائض ہم سے ترک ہوئے۔ ہم کو غور کرنا ہے کہ ان کی ادا کی کیا سبیل ہے۔ ہم کو مستعد ہو کر جلد سے جلد اُن کو ادا کرنا اور آئندہ فرائض کی ادا میں سرگرم رہنا لازم ہے۔(ملخص از:مقالات صدرالافاضل، ص212)
Comments