مرحوم والدین کے ساتھ حُسنِ سُلوک


مرحوم والدین کے ساتھ حُسنِ سُلوک



حضرت ابواُسید مالک بن ربیعہ سَاعِدِی  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ ہم حضور نبیِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی خدمت میں حاضرتھےکہ بنوسلمہ قبیلے کا ایک شخص آیا اور پوچھا: ”یارسولَ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم !کیامیرے والدین کے مرنے کے بعد ان سے بھلائی کرنے کی کوئی صورت ہے؟“ آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا: نَعَمْ! اَلصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا وَالْاِسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَاِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوْصَلُ اِلَّا بِهِمَا وَاِكْرَامُ صَدِيْقِهِمَا ترجمہ:”ہاں! اُن کے لیے دعا کرنا، اُن کےلیے استغفار کرنا،اُن کے کیے ہوئے وعدے کو پوراکرنا، اُن کے رشتہ داروں سےصلہ رحمی کرنا اور اُن کے دوستوں کی عزت کرنا“۔([1])

راویِ حدیث:

حضرت ابواُسیدمالک بن ربیعہ سَاعِدِی  رضی اللہ عنہ  اَنصاری اور بدری صحابی ہیں آپ تمام غزوات میں حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےساتھ شریک رہے اور کثیرمُحَدِّثِین نے آپ سے روایات نقل کی ہیں،بصرہ جانے کے بعدساٹھ(60) ہجری میں اٹھتر (78) سال کی عمر میں وصال فرماگئے۔ بدری صحابیوں میں سب سےآخرمیں وفات پانے والے آپ ہی ہیں۔ بدری صحابۂ کرام کی عزت و عظمت کو قراٰنِ مجید میں بیان فرمایا گیا ہے۔([2])

شرحِ حدیث:

اِس حدیثِ پاک میں مرحوم والدین کے 5 حقوق کا بیان ہے جو اُن کے ساتھ حسنِ سلوک اور بھلائی کا ذریعہ بھی ہیں: (1)اُن کی نمازِ جنازہ ادا کرنا(2)اُن کےلیے دعائے مغفرت کرنا(3)اُن کے عہد و وعدہ کو پورا کرنا (4)اُن کے رشتہ داروں سے صلۂ رحمی کرنا(5)اوراُن کے دوستوں کی عزّت کرنا۔مشہور مُحَدِّث ومُفَسِّر، حکیم الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی  رحمۃُ اللہ علیہ  اِس حدیثِ پاک کی شرح میں لکھتے ہیں: ’’ماں باپ کے انتقال کے بعد اُن سے بھلائی کرنے کا طریقہ یہ ہےکہ اولاد ہر نماز کے بعد اپنےوالدین کے لیےدعا کرتی رہے، اُن کے نام پر صدقات و خیرات کرے، اُن کی طرف سے حجِ بَدَل کرے یا کسی اورسے کروائے،اُن کا تیجہ، دسواں، چالیسواں، برسی کرے۔بعض لوگ اپنے والدین کی اچھی رسمیں باقی رکھتے ہیں، اگر ماں باپ کسی تاریخ میں خیرات کرتے تھے یا میلاد شریف، گیارھویں کرتے تھے تو وہ ہمیشہ کرتے ہیں،جس مسجد میں نماز پڑھتے تھے اُس مسجد کو آباد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘ مزید فرماتے ہیں:’’جن عزیزوں سے رشتہ صِرف ماں یا باپ کی وجہ سے ہو دوسری وجہ سے نہ ہو اُن سے اچھا سلوک کرنا کہ یہ میرے والدین کی خوشنودی کا ذریعہ ہے اِس میں بھائی بہن،چچا ماموں،پھوپھی خالہ سب ہی داخل ہیں۔ دوسرے یہ کہ اُن کے ساتھ اِس وجہ سے بھلائی کرے تاکہ والدین کی رضا حاصل ہو، اپنا نام یا شہرت مقصود نہ ہو غرضیکہ اِن عزیزوں کی اِس وجہ سے خدمت کرے تاکہ والدین راضی ہو جائیں اور والدین کی رضا میں اللہ و رسول کی رضا ہے،نیز بیٹا باپ کے دوستوں اور ماں کی سہیلیوں کی بھی عزت کرے۔‘‘([3])یہ اللہ رحیم اور رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی حسین تعلیمات ہیں، یہ حُسنِ سلوک کا عظیم پہلو ہے، یہ اَخلاقِ حسنہ کی معراج ہے، یہ حقوقِ انسانی کا سب سے نمایاں اور منفرد پہلو ہے کہ دنیا سے رخصت ہوجانے والے والدین کے بھی حقوق مقرر کئے گئے ہیں۔

مرحوم والدین کے اولاد پر حقوق:

امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان  رحمۃُ اللہ علیہ  نے مرحوم والدین کے 12 حقوق اَحادیث کی روشنی میں بیان فرمائے ہیں، اِن کا خلاصہ ملاحظہ کیجئے:

(1)بعدِموت اُن کےغسل،کفن و نماز و دفن کا اہتمام کرنا اور اِن کاموں میں سنن ومستحبات کی رعایت جس سے اُن کے لئے ہرخوبی وبرکت ورَحمت و وُسعت کی اُمید ہو۔ (2)اُن کے لئے ہمیشہ دعاواِستغفار کرتے رہنا۔(3)صدقہ وخیرات واَعمالِ صالحہ کاثواب اُنہیں اور سب مسلمانوں کو پہنچاتے رہنا کہ اُن سب کو ثواب پہنچ جائے گا اور اِس کے ثواب میں کمی نہ ہوگی بلکہ بہت ترقیاں پائے گا۔(4)اُن پرکسی کا قرض ہو تو اُس کی ادائیگی میں حددرجہ جلدی وکوشش کرنا اور اپنے مال سے اُن کاقرض اَدا ہونے کو دونوں جہاں کی سعادت سمجھنا۔ (5)اُن پرکوئی فرض رہ گیا توبقدرِقدرت اُس کے ادامیں سعی بجالانا، حج نہ کیا ہو تو اُن کی طرف سے حج کرنا یا حجِ بدل کرانا، زکوٰۃ یاعشر کا مطالبہ اُن پر رہا تو اُسے اداکرنا، نمازیا روزہ باقی ہوتو اس کاکفارہ دینا وعلیٰ ہذا القیاس۔ (6)اُنہوں نے جو جائز شرعی وصیت کی ہو حتی الامکان اس کے نفاذ میں سعی کرنا اگرچہ شرعاً اپنے اوپر لازم نہ ہو اگرچہ اپنے نفس پربارہو۔(7)اُن کی قسم مرنے کے بعد بھی سچی ہی رکھنا مثلاً ماں باپ نے قسم کھائی تھی کہ میرابیٹا فلاں جگہ نہ جائے گا یافلاں سے نہ ملے گا یافلاں کام کرے گا تو اُن کاویسے ہی پابند رہنا جیسااُن کی حیات میں رہتا جب تک کوئی حرجِ شرعی مانع نہ ہو اور قسم ہی نہیں ہرطرح اُمورِجائزہ میں بعدِ مرگ بھی اُن کی مرضی کا پابند رہنا۔ (8)ہرجمعہ کو اُن کی زیارتِ قبر کے لئے جانا، وہاں یٰسٓ شریف پڑھنا ایسی آواز سے کہ وہ سنیں اور اُس کا ثواب اُن کی روح کوپہنچانا، راہ میں جب کبھی اُن کی قبرآئے بے سلام و فاتحہ نہ گزرنا۔(9)اُن کے رشتہ داروں کے ساتھ عمربھر نیک سلوک کرنا۔(10)اُن کے دوستوں سے دوستی نباہنا، ہمیشہ اُن کا اعزاز واکرام رکھنا۔ (11)کبھی کسی کے ماں باپ کوبُراکہہ کر جواب میں اُنہیں برانہ کہلوانا۔(12)سب میں سخت تر وعام تر و مدام تریہ حق ہے کہ کبھی کوئی گناہ کرکے انہیں قبرمیں ایذا نہ پہنچانا، اِس کے سب اَعمال کی خبرماں باپ کوپہنچتی ہے، نیکیاں دیکھتے ہیں توخوش ہوتے ہیں اور ان کاچہرہ خوشی سے چمکتا اور دمکتا ہے، گناہ دیکھتے ہیں تو رنجیدہ ہوتے ہیں اور اُن کے دل پر صدمہ ہوتاہے، ماں باپ کایہ حق نہیں کہ انہیں قبرمیں بھی رنج پہنچائے۔([4])

خدمتِ والدین کی نیت کیا ہو؟

والدین کی خدمت بغیر کسی دُنیوی غرض و لالچ کے ہونی چاہئے۔ چنانچہ مشہور مُحَدِّث و شارِحِ حدیث علَّامہ علی قاری  رحمۃُ اللہ علیہ  اولاد کے لیے والدین کے چند حقوق بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ”جوشخص والدین کا خدمت گزارہےاُس کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اُن دونوں کی خدمت سے مرتبے کا خواہش مندہومگر یہ کہ اُس میں اللہ پاک کی رضا اور والدین کی رضا ہواور نہ ہی اُن کی خدمت کرنے سے ریاکاری کا شکار ہوجائےکیونکہ اِس حال میں اُن کی خدمت کرنا گناہ ہے اور ایسے شخص کی ریاکاری کو عنقریب اللہ پاک ظاہرفرمادے گا اوریوں اُس کا مرتبہ والدین کے دِل سے گرجائےگا۔‘‘([5])لہٰذا بعدِ وفات، حقوق کی ادائیگی میں بھی اِس کا خیال رکھے۔اللہ ربّ العزّت ہم سب کو زندگی میں بھی اور بعدِ وصال بھی والدین کے حقوق کما حقہ اَدا کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ذمہ دار شعبہ فیضانِ حدیث، اسلامک ریسرچ سینٹر المدینۃ العلمیہ کراچی



[1]…ابو داؤد،4/434، حدیث:5142

[2] فیضان ریاض الصالحین،4/50

[3]مراٰۃ المناجیح،6/533،532 ملخصاً

[4]فتاویٰ رضویہ،24/391 ملخصاً

[5]…مرقاۃ المفاتیح،8/669، تحت الحدیث:4936ملخصاً


Share