دو مرحومین کی برسیاں ایک ساتھ کرنا کیسا؟مع دیگر سوالات


(1)حضرت امام حسین کے شہزادے اور شہزادیوں کی تعداد

سوال: امام عالی مقام امام حُسین  رضی اللہ عنہ  کے کتنے شہزادے اور کتنی شہزادیاں تھیں؟

جواب: امام محبُّ الدین طَبری  رحمۃُ اللہ علیہ  اپنی کتاب ”ذَخائِرُ العُقْبیٰ“ میں فرماتے ہیں: امام عالی مقام حضرتِ امام حسین  رضی اللہ عنہ  کے چھ شہزادے اور تین شہزادیاں ہیں۔ شہزادوں کے نام یہ ہیں: (1)علی اکبر (2)زینُ العابدین (3)علی اصغر (4)محمد (5)عبداللہ (6)جعفر  رضی اللہ عنہم اور شہزادیوں کے نام یہ ہیں: (1)زینب (2)سُکَینہ (3)فاطمہ  رضی اللہ عنہن۔(ذخائر العقبیٰ، ص258) لوگوں میں سَکِینہ (سین پر زبر اور کاف کے نیچے زیر کے ساتھ) معروف (یعنی مشہور) ہے، جبکہ درست تلفظ ”سَکِینہ“ نہیں بلکہ ”سُکَینہ (سین پر پیش اور کاف پر زبر)“ہے، واقعۂ کربلا میں جن شہزادی کا تذکرہ کیا جاتا ہے وہ یہی حضرت سُکَینہ  رضی اللہ عنہا ہیں اگر ان کی نسبت سے بچی کا نام رکھنا ہو تو ”سُکَینہ“ رکھئے۔ البتّہ ”سَکِینہ“ نام رکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ یہ قراٰنِ کریم کا ایک لفظ ہے جس کا معنیٰ ”چین، سُکون اور اَمْن“ ہے۔(مدنی مذاکرہ، 4محرم الحرام1441ھ)

(2)دو مرحومین کی برسیاں ایک ساتھ کرنا کیسا؟

سُوال: اگر کسی کے ہاں دو مہینوں میں یکے بعد دیگرے دو اموات ہوجائیں تو اُن کی برسی ایک ساتھ کرسکتے ہیں؟

جواب: جی ہاں! ایک ساتھ برسی کرنے میں حَرَج نہیں ہے، کیونکہ برسی درا صل اِیصالِ ثواب ہے۔ اگر کوئی برسی نہیں بھی کرتا تو وہ گناہ گار نہیں ہے، لیکن برسی کو ناجائز کہنے والا گناہ گار ہوگا، کیونکہ شریعت نے برسی سے منع نہیں کیا۔(مدنی مذاکرہ، 4محرم الحرام 1441ھ)

(3)”اگر دُنیا میں تمام دیانتدار ہوتے توجنَّت دُنیا ہی میں ہوتی“کہنا کیسا؟

سوال: ”اگر دُنیا میں تمام دیانتدار ہوتے تو جنَّت دُنیا ہی میں ہوتی“ایسا کہنا کیسا ہے؟

جواب: ہو سکتا ہے اِس سے یہ مُراد ہو کہ ہرطرف اَمن ہوتا اور لوگ لوٹ مار نہ کرتے، نہ کسی کو تکلیف دیتے اور سب کے سب اَمن و امان سے رہ رہے ہوتے تو گویا ایسا ہونا دُنیا میں جنّت ہونے جیسا ہے جیسے کشمیر کو وادیِ جنَّت بولتے ہیں۔ اس طرح کے جملے بطورِمُحاورہ بولے جاتے ہیں۔(مدنی مذاکرہ، 7محرم الحرام شریف1441ھ)

(4)بیج بوتے وقت کیڑے مار دَوائی ڈالنا کیسا؟

سُوال:بیج بوتے وقت کیڑے مارنے کی دَوائی ڈالتے ہیں تو  کیا اِس سے گناہ نہیں ملے گا؟

جواب: جَراثیم کُش دَوائیں  بیجوں میں ڈال سکتے ہیں، اس میں کوئی گناہ نہیں۔

(دیکھئے: مدنی مذاکرہ، 6 ربیع الاول شریف1442ھ)

(5)والدین کا بچوں کے ہر معاملے میں مداخلت کرنا کیسا؟

سُوال: والدین کو اپنے بچوں کى زندگى مىں کتنا اختىار ہے؟ کیا وہ ان کے ہر معاملے میں مداخلت کر سکتے ہیں؟

جواب: ماں باپ کے بعض احکام وہ ہىں جن کو ماننا فرض ہوتا ہے، جبکہ بعض مىں تخفىف (یعنی کمی) ہوتى ہے، جن کا ماننا فرض ہے وہ نہیں مانیں گے تو گنہگار ہوں گے، اور جن باتوں کا ماننا فرض نہیں اور حکم شریعت کے خلاف بھی نہیں تو اس کو بجا لائے اور ان کى مُداخَلت پر اپنا دل بڑا رکھے۔ جب والدین بڑی عمر کو پہنچ جاتے ہیں تو بسا اوقات ان کی مداخلت بڑھ جاتى ہے، دراصل انہوں نے پرانا دور دىکھا ہوتا ہے جس کى وجہ سے ان کو لگتا ہے کہ اولاد غلط کررہى ہے، ہمارے دور مىں تو یہ نہىں ہوتا تھا، لہٰذا ان کی سخت باتوں کو برداشت کرنا چاہىے جیسا انہوں نے بچپن مىں ہمىں برداشت کىا!(مدنی مذاکرہ، 13 ربیع الاول شریف 1442ھ)

(6)کیا سنجیدہ شخص سے لوگ بور ہوجاتے ہیں؟

سُوال:کیا سنجیدہ رہنے والے شخص سے لوگ  بور ہوجاتے ہیں؟

جواب: ہر سنجیدہ آدمی بور نہیں کرتا، جو شخص سنجیدہ اور خاموش رہتا ہو لیکن مسکراتا بھی ہو تو اس کی سنجیدگی کسی کو تکلیف نہیں دیتی۔ مفتی محمد فاروق عطاری اور حاجی زم زم عطاری کی طبیعت میں سنجیدگی تھی لیکن ان کے پاس بیٹھنے والا بور نہیں ہوتا تھا، میں نے   انہیں کسی سے مذاق کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔(مدنی مذاکرہ، 10 ربیع الاول شریف1442ھ)

(7)رشتہ طے کرتے وقت لڑکے والوں سے لڑکی والوں کا پیسے لینا کیسا؟

سوال:بعض علاقے ایسے ہیں جہاں لڑکے والے رِشتہ لینے جائیں تو لڑکی والے پانچ لاکھ، 10لاکھ روپے مانگ لیتے ہیں اور لڑکی کو جہیز میں اپنی مرضی کی چیزیں دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا لڑکی والوں کا پیسے لینا جائز ہے؟

جواب: لڑکی  والوں کا لڑکے والوں سے اِس طرح پیسے لینا گویا کہ لڑکی  کو فروخت کرنا ہے۔لڑکی والے اس طرح سے جو پیسے لے رہے ہیں یہ رِشوت ہے۔اِسی طرح  رُخصتی کے موقع پر اگر مثلاً لڑکی کا بھائی کہتا ہے کہ اتنی رَقم دو گے تو ہی لڑکی کو رُخصت کروں گا یہ بھی رِشوت ہے۔ بعض قوموں کے بارے میں  سنا ہے کہ وہ  اِس طرح کرتے ہیں، اللہ پاک عافیت نصیب فرمائے۔ اٰمین (دیکھئے: مدنی مذاکرہ، 9 ربیع الاول شریف1442ھ)

(8)گناہوں میں اِضافے کا سبب موت کو بھولنا ہے

سوال:کیا گناہوں میں اِضافے کا سبب موت کو بھول جانا ہے؟

جواب:جب اِنسان موت کو بھول جاتا ہے تو اس کے اندر بےباکی (یعنی دلیری) پیدا ہو جاتی ہے۔جب کوئی شخص کسی گناہ کے کام کو انجام دینے کے لیے اپنے قدم بڑھانے لگے گا تو موت کی یاد اسے گناہ کرنے سے  روک دے گی۔پھر  وہ سوچے گا کہ مجھے بھی مَرنا  ہے، اگر اس گناہ کی وجہ سے قبر میں مجھے سانپ لپٹ گیا یا مجھے آگ نے گھیر لیا تو میں کیا کروں گا؟ گناہ سے بچ جانا یہ موت کو یاد کرنے ہی کی برکت ہے۔ موت کو  بھول جانا یہ بہت بڑی غفلت ہے اور یہی غفلت گناہوں میں اِضافے کا سبب  بن جاتی ہے۔(مدنی مذاکرہ، یکم ربیع الآخر شریف 1442ھ)

(9)جہاز میں کھانے کیلیے  دئیے جانے والے برتن   گھر لے جانا کیسا؟

سوال:جو لوگ جہاز میں سفر کرتے ہیں انہیں جہاز کا عملہ کھانا دیتا ہے لیکن وہ عملہ کھانے کے بعد برتن نہیں مانگتا تو کیا اس صورت میں وہ برتن مُسافر اپنے پاس رکھ سکتا ہے؟

جواب:جہاز میں مُسافروں کو جن برتنوں میں کھانا دیا جاتا ہے وہ عموماً دو طرح کے ہوتے ہیں یا تو وہ Disposable ہوتے ہیں یا ایسے ہوتے ہیں جنہیں دھو کر اِستعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہر سمجھدار آدمی سمجھ سکتا ہے کہ کون سا برتن رکھنے کا ہے اور کون سا برتن پھینکنے کا ہے۔ جو برتن پھینکنے کا نہیں ہے اس کو لے جانا گناہ ہے۔

(دیکھئے: مدنی مذاکرہ، 20ذوالقعدۃ الحرام 1441ھ)


Share