خوافِ خدا میں رونے والی آنکھ کا اجر و ثواب(دوسری اور آخری قسط)
خشیتِ الٰہی یعنی اللہ ربّ العز ّت کی ہیبت اور اس کی عظمت کے احساس اور خوف سے رونا، گڑگڑانا اور ندامت کے چند آنسو بہانا، اللہ پاک کی بارگاہ میں ایک نہایت پسندیدہ عمل اور بلند پایہ سعادت ہے۔ ہمارے پیارے پیارے آخِری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، صحابۂ کِرام علیہم الرضوان اور بُز ُرگانِ دین رحمۃ اللہ علیہم اللہ پاک کے خوف سے رویا کرتے اور آنسو بہایا کرتے تھے، یقیناً اللہ کے خوف سے بہنے والا ایک چھوٹا سا آنسو بھی ہماری بخشش کا سبب بن سکتا ہے ۔
آئیے! خوفِ خدائے پاک میں رونے اور آنسو بہانے کے فضائل پر مشتمل احادیثِ مبارَکہ پڑھیے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرکے نیک اعمال کی طرف لگ جائیے، چنانچہ
مکھی کے سر کے برابر آنسو کی فضیلت
حضرت سیّدنا عبدُاللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جس مومن بندے کی آنکھوں سے اللہ پاک کے خوف کے سبب مکّھی کے سَر کے برابر بھی آنسو نکل کر اس کے چہرے تک پہنچ جائے تو اللہ پاک اس پر دوزخ کی آگ کو حرام فرمادیتا ہے۔ ([1])
چہرے سے مراد وہ حصّہ ہے جو تمہارے سامنے ہو اور دکھائی دے۔ حدیث شریف کے الفاظ:’’اللہ پاک اس پر دوزخ کی آگ کو حرام فرمادیتا ہے ‘‘ یعنی اس مومن بندے کو یا اس کے چہرے کو یا چہرے کی سطح کو یا اس جگہ کو جسے آنسو لگ جائیں۔ اللہ کریم کی رَحمت سے ان تمام صورتوں میں سب سے زیادہ اُمّید اَفزا پہلی صورت (یعنی پورے بندے کا جہنّم پر حرام ہونا) ہے۔ اور آگ پر حرام ہونے سے مراد آگ کا اسے جلانے سے رک جانا ہے۔([2])
اللہ کریم کے ذکر پر بہنے والے آنسو
حضرت سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے آخِری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ پاک کو یاد کرے اور اللہ پاک کے خوف سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑیں یہاں تک کہ وہ آنسو زمین پر جا گریں تو اللہ پاک قِیامت کے دن اسے عذاب نہ دے گا۔([3])
جس شخص کے آنسو خوفِ الٰہی کے سبب اتنی کثرت سے بہیں کہ زمین پر گِر جائیں تو اسے عذاب نہیں دیا جائے گا، اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے علّامہ مُناوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اللہ پاک اپنے بندے پر دو خوف جمع نہیں فرماتا، جو دنیا میں اللہ پاک سے ڈرے، اللہ پاک اسے آخِرت میں بے خوف کر دے گا، اور وہ آخِرت میں اَمن پانے والوں میں سے ہو گا۔([4])
ایک رونے والے کی برکت سے تمام کی بخشش
فرمانِ مصطفٰے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: جس بندے کی آنکھیں اللہ پاک کے خوف کے سبب آنسوؤں سے بھر گئیں، اللہ پاک اس کے جسم کو جہنّم کی آگ پر حرام کر دیتا ہے، اگر وہ آنسو بہہ کر اس کے گالوں پر آ جائیں تو اس کے چہرے پر نہ سیاہی چھائے گی اور نہ ذلّت و رسوائی، ہر نیک عمل کا ایک ثواب ہے مگر آنسوں، یہ آگ کے سمندروں کو بجھا دیتے ہیں اور اگر کسی اُمّت كا ایک بندہ بھی خوفِ خدا سے رو پڑے تو اللہ پاک اس ایک شخص کے رونے کی برکت سے اس پوری اُمّت کو نجات عطا فرما دیتا ہے۔([5])
پیارے اسلامی بھائیو! تنہائی میں خوفِ خدا کے سبب بہنے والا ایک آنسو نہ صرف ہماری کی نَجات کا ذریعہ بن سکتا ہے، بلکہ اس کی بَرکت سے دوسروں پر بھی رحمتِ الٰہی کا سایہ ہو سکتا ہے۔
اللہ پاک کے خوف سے رونا بخشش کا سبب ہے
ایک حدیث شریف میں ہے: اللہ پاک کے آخِری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو اللہ پاک کے خوف سے روئے ، اس کی بخشش کر دی جائے گی۔ ([6])
الحمدُ للہ! واقعی خوش نصیب ہے وہ شخص جو اپنے گناہوں پر روتا ہے، کیونکہ اس کا دل زندہ ہے، اس کا ضمیر بیدار ہے۔ سخت دل انسان کبھی نہیں روتا، لیکن نرم دل بندہ اللہ کریم کے سامنے اپنی کمزوریوں کا اعتِراف کرتے ہوئے روتا ہے۔ یہ رونا اللہ کریم کی رحمت پانے کا سبب ہے اور بندے کو اس کے رب کے قریب کر دیتا ہے۔
اے اللہ پاک! ہمیں خشوع والے دل عطا فرما، تیرے خوف سے رونے والی آنکھیں عطا فرما، اور ہمیں اپنے نیک بندوں میں شامل فرما۔ اٰمین بجاہِ خاتم النبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Comments