شفاعتِ مصطفےٰ دلانے والی نیکیاں
اللہ پاک کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت جو ہمیں عطا کی گئی وہ یہ ہے کہ قیامت کے ہولناک موقع پر جب کوئی کسی کو نہ پوچھتا ہوگا، اس وقت ہم گناہ گاروں کی شفاعت فرمانے والے آخِری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ہماری شفاعت فرمائیں گے، اللہ پاک نے بہت سے ایسے نیک اعمال ہمیں عطا فرمائے ہیں جن کے بجالانے کی برکت سے ان شآء اللہ! ہمیں شفاعت نصیب ہوگی اور جنت میں داخلہ ملے گا، چنانچہ
صدقِ دل سے کلمہ پڑھنے والا:
حضرتِ سیّدنا ابوہُریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم! قِیامت کے دن آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی شفاعت سے بہرہ مند ہونے والے خوش نصیب لوگ کون ہوں گے؟ فرمایا:اے ابو ہریرہ! میرا گمان یہی تھا کہ تم سے پہلے مجھ سے یہ بات کوئی نہ پوچھے گا کیونکہ میں حدیث سننے کے معاملہ میں تمہاری حرص کو جانتا ہوں، قِیامت کے دن میری شفاعت پانے والا خوش نصیب وہ ہوگا جو خالص دل سے یا خالص نفس سے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہے گا۔([1])
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہنے سے مراد ہے سارے عقائد اسلامیہ کا اقرار کرنا جیسے کہا جاتا ہے نماز میں الحمد پڑھنا واجب ہے یعنی پوری سورۂ فاتحہ پڑھنا۔خالصاً فرماکر منافقین کو علیحدہ فرمادیا گیا کہ وہ صرف زبان سے اسلام مانتے ہیں دل میں کافر ہوتے ہیں۔اخلاص کے ساتھ قلب کا ذکر صرف تاکید کے لیے ہے ورنہ اخلاص تو دل سے ہی ہوتا ہے۔([2])
روضۂ رسول کی زیارت:
اللہ پاک کے رسول صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا:مَنْ زَارَ قَبْرِیْ وَجَبَتْ لَہٗ شَفَاعَتِیْ یعنی جو میرے مزار کریم کی زیارت کو حاضر ہوا اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگئی۔([3])
اس روایت کے تحت علّامہ تقی الدین سُبکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جیسے ہمارے پیارے نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم تمام انبیائے کرام علیہم السّلام سے افضل ہیں اسی طرح آپ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی شفاعت بھی دوسروں سے افضل ہے۔([4])
رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا: جو میری زیارت کو آیا کہ اسے سِوا زیارت کے کچھ کام نہ تھا مجھ پر حق ہو گیا کہ روز قیامت اس کاشفیع (یعنی شفاعت کرنے والا) ہوں۔([5])
نیک بندوں کی قبریں اس بات کی زیادہ حق دار ہیں کہ برکت حاصل کرنے کے لیے ان کی زیارت کا ارادہ کیا جائے، اور وہاں ان (یعنی صاحبِ قبر) کے لیے، خود اپنے لیے اور اپنے بھائیوں کے لیے دعا کی جائے، کیونکہ ان بزرگوں کی قبروں کے پاس مانگی جانے والی دعا کی قبولیت کی زیادہ اُمید ہوتی ہے اور انبیاءِ کرام علیہم السّلام کے مزارات تو نیک لوگوں کی قبروں میں سب سے زیادہ خاص اور ممتاز درجہ رکھتے ہیں، بالخصوص تمام رسولوں کے سردار، دو عالم کے مالک و مختار صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا روضۂ مبارک۔([6])
دُرُود شریف پڑھنا:
شفاعت کا حق دار بنانے والا ایک نہایت آسان اور عمدہ عمل ہے، آیئے اس بارے میں 4 فرامینِ مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم پڑھئےاور عمل کی کوشش کیجئے:
(1)جس نے یہ کہا:اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاَنْزِلْہُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ (ترجمہ:اے اللہ پاک! حضرت محمد صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم پر رحمت نازل فرما اور انہیں قیامت کے دن اپنے قر ب والا مقام عطا فرما۔) تو اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگئی۔([7])
(2)جو مجھ پر روزِ جمعہ دُرُود شریف پڑھے گا میں قِیامت کے دن اُس کی شفاعت کروں گا۔([8])
(3)شبِ جمعہ اور روزِ جمعہ (یعنی جمعرات کے غروبِ آفتاب سے لے کر جمعہ کا سورج ڈوبنے تک) مجھ پر دُرُودِ پاک کی کثرت کرلیا کرو، جو ایسا کرے گا قِیامت کے دن میں اس کا شَفیع و گواہ بنوں گا۔([9])
(4)جس نے مجھ پر صُبْح 10مرتبہ اور شام 10مرتبہ دُرُود ِ پاک پڑھا اُسے قِیامت کے دن میری شفاعت ملے گی۔([10])
اے عاشقانِ دُرُود! جو شخص دُرُودِ پاک پڑھنے کی عادت بنالیتا ہے وہ احادیثِ مبارَکہ کے مطابق شفاعت فرمانے والے نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی شفاعت کا حق دار ہوگا، اِن شآءَ اللہ الکریم۔
وسیلہ کی دعا شفاعت کا سبب ہے:
اللہ پاک کے آخِری رسول صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: جب تم مؤذن کو سنو تو تم بھی اسی طرح کہوجو وہ کہہ رہا ہے، پھر مجھ پر دُرُود بھیجو کیونکہ جومجھ پرایک درودبھیجتاہے اللہ پاک اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے، پھر اللہ پاک سے میرے لئے وسیلہ مانگو، وہ جنّت کی ایک منزل ہے کہ ایک بندے کے سوا کسی کے شایانِ شان نہیں، میں اُمید کرتاہوں کہ وہ بندہ میں ہی ہوں، تو جو میرے لئے وسیلہ مانگے گا اس پر میری شفاعت اُترے گی۔([11])
اے عاشقانِ رسول ! اَذان کے بعد دُرُود شریف پڑھنا چاہئے کہ اس کی برکت سے ہم پر دس رحمتیں نازل کی جائیں گی، اور اَذان کے بعد کی دُعا جو اگلی حدیث شریف میں بتائی گئی ہےیہ دُعا بھی پڑھنے کی عادت بنائیے، چنانچہ
نبیِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: جو اَذان سُن کر یہ دُعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلاۃِ الْقَائِمَۃِ اٰتِ (سَیِّدَنَا) مُحَمَّدَنِ الْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَاماً مَحْمُوْدَنِ الَّذِیْ وَعَدْتَّہٗ اس کے ليے میری شفاعت واجب ہوگئی۔([12])
علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث شریف کے تحت فرماتے ہیں: اس دُعا کی بَرَکت سے ایمان پرخاتمہ نصیب ہوگا۔([13])
فرض نماز کے بعد دُعا مانگنے والے کیلئے شفاعت:
رسولِ کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا: جس نے ہر فر ض نما ز کے بعد یہ دعا ما نگی قیامت کے دن میری شفاعت اس کے لئے حلال ہوگی، (دعا یہ ہے:) اَللّٰھُمَّ اَعْطِ مُحَمَّدَنِ الْوَسِیْلَۃَ، وَاجْعَلْ فِی الْمُصْطَفِیْنَ مَحَبَّتَہُ، وَفِی الْعَالِیْنَ دَرَ جَتَہُ، وَفِی الْمُقَرَّ بِیْنَ دَارَہُ (ترجمہ: اے اللہ پاک! حضرت محمد صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم كو وسیلہ عطا فرما اور اپنے پسند یدہ بندو ں کے دلو ں میں ان کی محبت ڈال دے اور بلند ترین درجات والوں میں ان کا درجہ بلند فرما اور ان کا گھر مقربین میں بنا۔)([14])
مدینہ شریف کی سختی پر صبر کرنے والوں کیلیے شفاعت:
مکّی مدنی آقا صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا ارشاد ہے:میرا جو اُمّتی مدينہ شریف کی سختی اور تنگدستی پر صبر کرے گا قِيامت کے دن میں اس کی شفاعت کروں گا۔([15])
40احادیث یاد کرنے والا:
اللہ پاک کے آخِری نبی صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فرمانِ عالی شان ہے: جو شخص میری اُمّت تک پہنچانے کے لئے دین کے متعلّق 40حدیثیں یاد کر لے گا تو اُسے اللہ پاک قِیامت کے دن عالمِ دین کی حیثیت سے اُٹھائے گا اور قِیامت کے دن میں اس کا شفیع (یعنی شفاعت کرنے والا) اور گواہ ہوں گا۔([16])
شیخ عبد الحق محدّث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس فرمانِ عالیشان سے مراد 40 حدیثوں کا لوگوں تک پہنچانا ہے، اگرچہ وہ یاد نہ ہوں۔([17])
اہلِ بیت سے محبّت:
اہلِ بیت سے محبّت کرنے والا، ان کی دل و جان سے خدمت کرنے والا ضرور شَفاعت پائے گا، اس بارے میں 3 فرامینِ مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم پڑھئے:
(1)ہمارے اہلِ بیت کی محبت کو لازم پکڑ لوکیونکہ جو اللہ پاک سے اِس حال میں ملا کہ وہ ہم سے محبت کرتاہے تو اللہ پاک اُسے میری شفاعت کے سبب جنت میں داخل فرمائے گا اور اُس کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میر ی جان ہے! کسی بندے کو اُس کا عمل اُسی صورت میں فائدہ دے گا جب کہ وہ ہمارا (یعنی میرا اور میرے اہلِ بیت کا) حق پہچانے۔([18])
(2)جو شخص وَسیلہ حاصل کرنا چاہتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ میرے ذمہ اس کا کوئی حق ہو جس کے سبب میں قیامت کے دن اس کی شَفاعت کروں، اُسے چاہئے کہ میرے اہلِ بیت کی خدمت کرے اور اُنہیں خوش کرے۔([19])
(3)میری شفاعت میری اُمّت کے اُس شخص کےلئے ہے جو میرے گھرانے (یعنی اہلِ بیت) سے محبّت رکھنے والا ہو۔([20])
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: آلِ پاک کی عزت اور ان کے حُقوق کی تاکید کے متعلّق حدیثیں حدِّ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔([21]) لہٰذا ہمیں ان سے خوب محبّت رکھنی چاہئے اور جتنا ممکن ہو ان کی خدمت کرنی چاہئے۔
مسلمان کی حاجت پوری کرنا:
شَفیعِ روزِ مَحشر صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے گا میں قِیامت کے دن اس کے میزان کے پاس کھڑا رہوں گا، اگر نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گیا تو ٹھیک، ورنہ میں اس کی شفاعت کروں گا۔([22])
اللہ پاک ہمیں ایسے نیک اعمال کرتے ہوئے شفاعت کا حق دار بننے کی توفیق عطا فرمائے اورشفاعت سے محروم کر دینے والے کاموں سے بچنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ اصلاحی کتب، المدینۃ العلمیہ، کراچی
Comments