اسلام کے خاندانی نظام کی اہمیت و افادیت
دنیا سے الگ تھلگ معاشرے سے کٹ کر انسان کے لیے زندگی گزارنا انتہائی مشکل ہے اسی لیے انسانوں کے ساتھ رہنے کا نظام بنایا گیا ہے جو صدیوں سے رائج ہے۔اس نظام کے تحت انسان کسی معاشرے میں رہنے کے لیے تعلقات استوار کرتا ہے، اپنا گھر بناتا ہے اور پھر اس کا منتظم (سربراہ) بن کر اس کے نظام کو احسن طریقے سے چلانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس نظام کو خاندان کہا جاتا ہے۔ اس میں کسی بھی انسان کے قریبی رشتے دار بھی شامل ہوسکتے ہیں۔
اسلام ہمیں زندگی میں جہاںنماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور نیکی کی دعوت وغیرہ دینے کا حکم دیتا ہے وہیں ہمیں انسانیت کے سب سے عظیم محسن نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرت پر گامزن ہونے کی ہدایت بھی دیتا ہے جن کی مبارک زندگی ساری انسانیت کے لیے نمونہ اور اسوہ ہے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حیاتِ طیبہ کا روشن اور مثالی پہلو یہ بھی ہے کہ آپ نے صرف نماز روزے کی ہی تلقین نہیں کی بلکہ شخصی، خانگی، خاندانی اور انسانی حقوق کے متعلق سب سے بڑھ کر پیغام دیا، اسلام نے نیکی کا جو جامع تصور دیا ہے، اس میں بھی خدمت خلق، حقوق انسانیت، صلہ رحمی، رہن سہن اور معاشرت، ایک لازمی حصہ ہے۔
اسلامی تعلیمات میں خاندانی نظام محبت، اخلاق اور ذمہ داری کے حسین پہلوؤں کو سامنے لاتا ہے تاکہ رشتے مضبوط ہوں، دل صاف ہوں اور گھروں میں برکت اترے۔اسلام میں خاندانی نظام کی بنیاد چند اہم اصولوں پر رکھی گئی ہے۔ یہ اصول نہ صرف فرد کی زندگی کو مستحکم کرتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کی فلاح اور سکون کا ضامن بھی ہیں۔
قرآن و حدیث میں انسان کی معاشرتی اور خاندانی زندگی کے بارے میں تفصیلی معلومات موجود ہیں،حدیث پاک کی تقریباً ہر ہی کتاب میں خاندان،رشتہ داروں اور عزیزو اقارب سے متعلق نہ صرف روایات موجود ہیں بلکہ پورے پورے ابواب ترتیب دئیے گئے ہیں۔
مشکل وقت میں خاندان کا ہونا اللہ کریم کی بڑی نعمت ہے۔ اسی لیے اسلام نے ہمیشہ رشتہ داروں کے حقوق پر زور دیا، چاہے وہ محتاج ہوں یا خوشحال، بیمار ہوں یا تنہا۔اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ انسان تنہائی، خوف، بیماری، خوشی یا غم میں اپنے خاندان کا دست و بازو بنے۔مشکلات کو بانٹنے سے دل ہلکا ہوتا ہے، محبت بڑھتی ہے اور نفرتیں کم ہوتی ہیں۔اسلام ہمیں رِشتے داروں کے ساتھ حُسْنِ سُلوک کا حکم دیتا ہے اس حسنِ سلوک کی مختلف صورَتیں ہیں، اِن کو ہَدِیّہ و تحفہ دینا،اگر اِن کو کسی جائزبات میں تمہاری اِعانت (یعنی اِمداد)درکار ہو تو اِس کا م میں اِن کی مدد کرنا، اِنہیں سلام کرنا،اِن کی ملاقات کو جانا،اِن کے پاس اُٹھنا بیٹھنا،اِن سے بات چیت کرنا،اِن کے ساتھ لُطف و مہربانی سے پیش آنا۔ ([1])
یہاں اسلام کے خاندانی نظام کی اہمیت کے ضمن میں کچھ بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں:
(1)احسان و بھلائی :
اسلامی خاندانی نظام میں ہر فرد کے ساتھ احسان و بھلائی کا درس دیا گیا ہے۔ رشتہ داروں کے کام آنا،کسی کی مشکل آسان کر دینا،کسی کی جائز سفارش کر دینا،کسی کو قرض دے دینا،کسی کے گھر کا سامان لا دینا، پوشیدہ طور پر کسی کی مدد کر دینا وغیرہ ایسی نیکیاں ہیں جن پر اجر و ثواب بھی ہے اور ان میں معاشرے کا حسن و خوبصورتی بھی پوشیدہ ہے۔ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو اپنے بھائی کی مددکرنے کی طاقت رکھتا ہو اور وہ اس کی پوشیدہ مدد کرے تو اللہ کریم دنیا وآخرت میں اس کی مدد فرمائے گا۔([2])یہ تو صرف چند مثالیں ہیں ورنہ ایسی بے شمار نیکیاں ہیں کہ جنہیں اپناکر ہم نہ صرف ثواب کما سکتے ہیں بلکہ اپنے خاندان کو امن سلامتی بھائی چارے اور خیر خواہی کا مثالی اور قابلِ تقلید نمونہ بنا سکتے ہیں۔ اسلام میں شوہر اور بیوی کے تعلقات کو محبت اور رحمت کی بنیاد پر قائم کرنے کی تاکید ہے۔ قرآنِ پاک میں فرمایا:
هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّؕ-
ترجمۂ کنز الایمان: وہ تمہاری لباس ہیں اور تم ان کے لباس۔([3])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یہ بیان کرتا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کی حفاظت اور سکون کا ذریعہ ہیں۔
(2)عدل و انصاف:
خاندان میں تمام ہی افراد کے ساتھ انصاف کرنا ضروری ہے۔ خصوصاً والدین اور بچوں کے تعلقات میں یہ اصول بہت اہم ہے۔ بچوں کی پرورش، حقوق اور تربیت میں انصاف کا خیال رکھنا اسلام میں بے حد ضروری ہے۔ اسلام ایذا رسانی، جھگڑا، دل آزاری اور زبان کی سختی سے منع کرتا ہے، والدین سے ملنے کا حق ہر صورت برقرار رکھتا ہے اور غلط فہمیوں کو فوراً دور کرنے، صلح اور تعاون کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر یہ اصول گھر میں اپنائے جائیں سسرالی رشتے محبت، سکون اور اللہ کی رضا کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور پورا خاندان جنت کی چھاؤں میں رہتا ہے۔اسلام ہر اُس رویے سے منع کرتا ہے جو دل آزاری، بدسلوکی، جھگڑے یا قطع تعلقی کا سبب بنے۔
(3)احترام والدین:
والدین کی عزت اور ان کے ساتھ حسن سلوک خاندان کی بنیاد ہے۔ قرآن پاک میں حکم ہے :اپنے والدین کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ اور کہو:
رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴)
ترجَمۂ کنزُالایمان: اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن(چھوٹی عمر) میں پالا۔([4])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
(4)والدین کی ذمہ داری اور بچوں کی تربیت:
والدین بچوں کی دینی اور اخلاقی تربیت کے ذمہ دار ہیں۔ بچوں کو نیکی، ادب، اور معاشرتی اصول سکھانا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔
(5)رشتہ داریوں کا تحفظ:
اسلام خاندانی نظام میں رشتوں کو مضبوط رکھنے پر زور دیتا ہے، جیسے عزیزوں کے ساتھ حسن سلوک اور خاندانی تعلقات قائم رکھنا۔ قرآنِ پاک میں رشتہ داروں کے ساتھ احسان و بھلائی اور حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔اسلام خاندانی جھگڑوں سے بچنے کے لیے محبّت، احترام اور انصاف پر مبنی زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے۔ میاں بیوی کو حسنِ سلوک، نرم گفتاری، غصے پر قابو اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ والدین اور بچوں کے درمیان عدل و شفقت کی تاکید کی گئی ہے۔ مشورے سے فیصلے کرنا، زبان کی حفاظت، مالی ذمہ داریوں کی وضاحت، پردہ اور حدود کی پابندی، غلط فہمیوں کو فوراً دور کرنا، اور صبر و معافی کا رویہ اپنانا گھر کے سکون کی بنیاد ہے۔ اختلاف بڑھ جائے تو قرآن حکم دیتا ہے کہ خاندان کے سمجھ دار افراد صلح کرائیں۔ یوں اسلام محبت، حکمت اور ذمہ داری کے ذریعے خاندان کو جھگڑوں سے محفوظ رکھنے کا مکمل نظام فراہم کرتا ہے۔
(6)شرافت اور اخلاقی معیار:
اسلام خاندان کے ہر فرد کے ساتھ اچھے اخلاق، عزت، اور شرافت کی پابندی کی تعلیم دیتا ہے۔ اخلاقی تربیت خاندان کے استحکام کا اہم ذریعہ ہے۔ہمارے ربِّ کریم نے رِشتے داروں کے ساتھ اچّھا سُلوک کرنے کا حُکْم اِرْشاد فرمایا ہے، چنانچہ پارہ21 سورۃ الرّوم کی آیت نمبر38 میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:
فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ٘-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۳۸)
ترجَمۂ کنزُالایمان: تو رِشتہ دار کو اُس کا حق دو اور مسکین اور مسافِر کویہ بہتر ہے اُن کے لئے جو اللہ کی رِضا چاہتے ہیں اور انہیں کا کام بنا۔([5])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
رشتوں کی نوعیت بدلنے کے ساتھ رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کے درجات بھی بدلیں گے۔ رشتوں میں سب سے بڑھ کر مرتبہ والدین کا ہے، پھر جن سے نسب کی وجہ سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو ان کا مرتبہ ہے۔ پھر ان کے بعد باقی رشتے دار اپنے رشتے کے حساب سے حسنِ سلوک کے مستحق ہوں گے۔([6])
صِلۂ رِحمی کیا ہے؟
صلہ کے لغوی معنیٰ ہیں: کسی بھی قسم کی بھلائی اور احسان کرنا([7])جبکہ رِحم سے مراد قرابت اور رشتہ داری ہے۔([8]) صِلۂ رِحم کا معنیٰ رشتے کو جوڑنا ہے، یعنی رشتہ والوں کے ساتھ نیکی اور (حُسنِ) سلوک کرنا ([9])لہٰذا رشتہ داروں سے خندہ پیشانی سے ملنا، مالی مشکلات میں ان کی مددکرنا،دُکھ سُکھ میں شرکت کر کے اُن کی دلجوئی کا سامان کرنا یہ سب صِلَۂ رحمی میں شامل ہے۔
صلَۂ رحمی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ قراٰنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے کے ساتھ ہی صلَۂ رحمی کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:
وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَؕ-
ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو۔([10])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مسلمانوں پر جیسے نماز،روزہ،حج،زکوٰۃوغیرہ ضروری ہے، ایسے ہی قَرابت داروں کا حق اَدا کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔([11])
رزق اور عمر میں برکت:
صلۂ رحمی سے رزق اور عمر میں برکت ہوتی ہے چنانچہ2 احادیثِ مبارکہ ملاحظہ فرمائیے:
(1)رشتے جوڑنا گھر والوں میں مَحَبَّت، مال میں برکت اور عمر میں درازی ہے۔([12])
(2)جو چاہے کہ اس کے رِزْق ميں وُسعت دی جائے اور اس کی موت ميں دير کی جائے (یعنی لمبی عمر پائے ) تو وہ صِلہ رحمی کرے۔([13])
(7)مالی اور معاشرتی ذمہ داری:
خاندان کے افراد اپنی ضروریات پوری کرنے، خرچ اور روزگار میں توازن رکھنے کے ذمہ دار ہیں۔ شوہر کو گھر کی معاشی ذمہ داری، اور والدین کو بچوں کی کفالت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
الغرض اسلام خاندان کو ایک مضبوط، محبت، انصاف، اخلاق، اور ذمہ داری کے اصولوں پر قائم معاشرتی اکائی سمجھتا ہے۔ اگر یہ اصول صحیح طریقے سے نافذ ہوں تو نہ صرف فرد بلکہ پورا معاشرہ فلاح اور سکون حاصل کرتا ہے۔
Comments