اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کی تحفُّظِ عقائد کے لیے خدمات
چودھویں صدی کی مشہور علمی و روحانی شخصیات میں شیخ الاسلام والمسلمین، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ کا نام بڑا نمایاں ہے۔امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ نے دینِ متین کے کئی شعبہ جات میں اپنی علمی،تحقیقی اور قلمی خدمات پیش فرمائی ہیں،ان میں ایک شعبہ ”تحفُّظِ عقائدِ اسلامیہ“ ہے۔ اِس اہم موضوع پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کی چند تصنیفات اور قلمی خدمات کا مختصر جائزہ سُطورِ ذیل میں ملاحظہ کیجیے:
عقیدۂ توحید کی حفاظت:
اَہلِ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات،اَفعال،اَحکام،سلطنت،قُدرت اور تمام تَر شانوں میں واحد،یکتا اور اکیلا ہے،اسی کو ”عقیدۂ توحید“ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔نیز اللہ پاک کی مقدَّس ذات ہر طرح کے نَقص و عیب،جسم و جسمانیت،شکل وصورت اور تمام حوادثات سے مُنزَّ ہ (یعنی پاک) ہے۔اِسلام کے ان بنیادی عقائد کے تحفُّظ و دِفاع کے حوالےسے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ نےگراں قدر قلمی خدمات سرانجام دی ہیں۔ آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے اپنے مشہور رَسالے ”اِعْتِقَادُ الْاَحْبَابِ فِي الْجَمِيْلِ وَالْمُصْطَفىٰ وَ الْاٰلِ وَالْاَصْحَاب“ میں پہلا عقیدہ ہی ”عقیدۂ توحید“ بیان فرمایا ہے۔
جب اسلامی عقیدہ” اللہ تعالیٰ ہر(ممکن)شے پر قادر ہے“ غلط اور باطل تشریح کرتے ہوئے بیان کیا جانے لگا کہ معاذ اللہ! ”اللہ تعالیٰ جھوٹ بولنے پر بھی قُدرت رکھتا ہے“ تو شانِ اُلوہیت کے تحفُّظ کے لیےاعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ نے شاندار رسالہ بنام”سُبْحٰنَ السُّبُّوْحِ عَنْ عَیْبِ کِذْبٍ مَقْبُوْحٍ“([1]) تحریر فرمایا۔اِس رسالے میں آپ رحمۃُ اللہ علیہنے 30 نُصوص اور 30 دَلائلِ قطعیہ ([2]) سے یہ ثابت فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا جھوٹ بولنا مُحال بالذات ہے اور اس پر اُمّت کے تمام اَئمہ کا اِجما ع و اِتفاق ہے۔اِسی موضوع پر آپ نے ایک اور رسالہ بنام”دَامَانِ بَاغِ سُبْحٰنَ السُّبُّوْحِ “ ([3]) تحریر فرمایا۔
جب قرآنِ مجید کی چند آیاتِ متشابہات کی غلط تشریح کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے لیے جسم و جسمانیت ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تو امامِ اہل سنّت رحمۃُ اللہ علیہ نے اللہ تعالیٰ سے جسم و جسمانیت کی نفی کے بیان میں ایک معرکۃُ الآراء رسالہ ”قَوَارِعُ الْقَھَّارِ عَلَی الْمُجَسّمَةِ الْفُجَّارِ“ ([4]) تحریر فرمایا،جس میں آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات سے متعلّق 15 عقائد تحریر فرمائے اور آیاتِ متشابہات کی درست تفسیر و تشریح کرنے کے اہم اُصول بھی بیان فرمائے۔ نیز اللہ تعالیٰ کی ذات سے جسم و جسمانیت کی نفی پر 250دَلائلِ قاہرہ تحریر فرمائے،جو تحقیقاتِ اعلیٰ حضرت ہی کا حصہ ہیں۔ ان رسائل کے علاوہ بھی کئی رسائل اورفتاویٰ میں اِلٰہیات(ذات و صفاتِ الٰہی سے متعلق عقائد) کے موضوع پر قلمی خدمات پیش فرمائی۔
افضیلت و شانِ رسالت کی حفاظت:
دیگر اَنبیائے کرام کے ساتھ ساتھ امامُ المرسلین،خاتمُ النبیّٖن حضرت سیِّدُنا محمد مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عظمت و شان اور ناموس و عصمت کے موضوعات پر اعلیٰ حضرت کی کُتب،رسائل اور فتاوٰی کی ایک لمبی فہرست ہے۔ آپ نے گستاخانِ رسول کے مذموم اور کفریہ عقائد و نظریات کے رَدّ میں ایسا عظیم علمی و قلمی کام فرمایا ہے جس کی مثال آج تک نہیں ملتی۔افضیلت و شانِ رسالت سے متعلّقہ مختلف موضوعات اور مسائل پر درجنوں رسائل اور سینکڑوں فتاوٰی میں سے صرف دو رسائل کا مختصر تعارف دیکھیے:
عزت و ناموس رسالت کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کے لیے اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ نے ایک ایمان افروز رسالہ بنام ”تَمْھِیْدِ اِیْمَان بِآیَاتِ قُرْآن“ ([5]) تحریر فرمایا،یہ وہ شاندارکتاب ہے جسے پڑھنے سے دِل میں عشقِ رسول اور عظمتِ رسول کی شمع مزید فروزاں ہوتی ہے۔ چنانچہ امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ اِس رسالے میں تحریر فرماتے ہیں: تم کو جن لوگوں سے کیسی ہی تعظیم،کتنی ہی عقیدت، کتنی ہی دوستی، کیسی ہی محبت کا علاقہ (تعلّق) ہو، جیسے تمہارے باپ،تمہارے اُستاد، تمہارے پیر، تمہارے بھائی، تمہارے اَحباب، تمہارے اَصحاب، تمہارے مولوی، تمہارے حافظ،تمہارے مفتی، تمہارے واعِظ وغیرہ وغیرہ کسے باشد(جو بھی ہوں)، جب وہ محمد رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شانِ اَقدس میں گستاخی کریں اَصلاً (بالکل)تمہارے قلب میں اُن کی عظمت اُن کی محبت کا نام و نشان نہ رہے فوراً ان سے الگ ہوجاؤ،دُودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دو، اُن کی صورت اُن کے نام سے نفرت کھاؤ۔۔الخ۔([6])
جب نبیِ کریم،رسولِ عظیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے تمام نبیوں اور رسولوں سے بھی افضل و اعلیٰ ہونے سے متعلّق سوال کیا گیا تو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ نے پورا رسالہ ”تَجَلِّی الْیَقِیْنِ بِاَنَّ نَبِیَّنَا سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْنَ“([7]) تحریر کردیااور دَس آیاتِ قرآنی اور 100 سے زائد اَحادیث و روایات کے ذریعے سیِّدِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ”اَفضلُ المُرسلین“ ہونا ثابت کیا۔ابتدا میں فرماتے ہیں:حضور پُرنور سیِّدِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا افضلُ المُرسَلِین و سیِّدُ الاَوَّلِین و الآخِرِین ہونا قطعی اِیمانی، یقینی، اِذعانی، اِجماعی، اِیقانی مسئلہ ہے جس میں خلاف (اختلاف) نہ کرے گا مگر گمراہ بَد دِین بندۂ شیاطین ۔۔الخ([8])
عقیدۂ ختمِ نبوت کی حفاظت:
عقیدۂ ختمِ نبوت دینِ اسلام کے بنیادی اور اَساسی عقائد میں سے ایک اہم عقیدہ ہے۔ اﷲ نے سلسلۂ نبوّت آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر ختم فرما دیا ہے،لہٰذا آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے زمانہ میں یا بعد کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا۔([9]) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ نے اِ س اِسلامی عقیدے کے تحفُّظ و دِفاع اور مُنکرینِ ختمِ نبوت کے رَدّ و اِبطال میں متفرق فتاوٰی کے ساتھ ساتھ تقریباً پانچ مستقل کتابیں تحریر فرمائیں (1) اَلْمُبِيْنُ خَتْمَ النَّبِیِّیْن ([10]) (2) اَلسَّوْءُ وَالْعِقَابُ عَلَى الْمَسِيْحِ الْكَذَّاب ([11]) (3)قَهْرُالدَّيَّانِ عَلٰى مُرْتَدٍّ بِقَادِيَان([12]) (4)اَلْجُرَازُ الدَّيَّانِی عَلَى الْمُرْتَدّ الْقَادِيَانِی ([13]) (5) جَزَاءُ اللهِ عَدُوَّهُ بِإِبَائِهِ خَتْمَ النُّبُوَّة ([14])
عقیدۂ ختمِ نبوت کی تشریح سےمتعلّق امامِ اہل سنّت رحمۃُ اللہ علیہ کی ایک شاندار عبارت ملاحظہ کیجیے: اﷲ عزوجل سچا اور اس کا کلام سچا، مسلمان پر جس طرح لَااِلٰہَ اِلَّا اﷲ ماننا اﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ کو اَحَد صَمد لا شریکَ لہ جاننا فرضِ اَوّل ومَناطِ ایمان ہے یُونہی محمد رسول اﷲ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو خَاتَم النَّبِیّٖنَ ماننا اُن کے زمانے میں خواہ اُن کے بعد کسی نبی جدید کی بعثت کو یقیناً مُحال وباطل جاننا فرضِ اَجَل وجُزءِ اِیقان ہے وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ([15]) (ہاں اﷲ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے) نصِ قطعی قرآن ہے، اس کا مُنکِر،نہ منکر،بلکہ شُبہ کرنے والا، نہ شاک کہ اَدنیٰ ضعیف اِحتمالِ خفیف سے تَوَہُّمِ خلاف رکھنے والا قطعاً اِجماعاً کافر ملعون مُخَلَّد فی النِیران ہے، نہ ایسا کہ وہی کافر ہو،بلکہ جو اس کے عقیدہ ملعونہ پر مطلع ہو کر اُسے کافر نہ جانے وہ بھی کافر، جو اس کے کافر ہونے میں شک و تردُّد کو راہ دے وہ بھی کافر بیّن الکافر جَلی الکُفران ہے۔ ([16])
ناموسِ صحابہ و اَہلِ بیت کی حفاظت:
صحیح العقیدہ اَہلِ اسلام کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے تمام صحابہ اور اَہلِ بیت کا اَدب و اِحترام اور تعظیم و اِکرام کرتے ہیں۔ ان ہستیوں کا ذکر ہمیشہ خیر اور بھلائی کے ساتھ کرتے ہیں، ان کی گستاخی کو بھی ناجائز اور حرام جانتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ نے اپنی کتابوں، رسالوں اور فتاویٰ میں جابجا صحابۂ کرام اور اَہلِ بیت کی عظمت وشان کو ذکر فرمایا ہے اور ان کی عظمت و ناموس اور عدالت و کردار کے حوالے سے گمراہ لوگوں کے اعتراضات کے دَندان شکن جوابات بھی تحریر فرمائے ہیں۔ چند کا تعارف ملاحظہ کیجیے:
*شیخینِ کریمین (حضرات صدیق و فاروق) رضی اللہ عنہما کی اَفضلیتِ مُطلقہ کے موضوع پر شاندار کتاب:مَطْلَعُ الْقَمرَیْنِ فِیْ اِبَانَۃِ سَبقَۃِ الْعُمرَیْن*اَفضلیتِ صدیقِ اکبر کے موضوع پر عربی زبان میں کتاب : اَلزُّلَالُ الْاَنْقٰی مِنْ بَحْرِ سَبْقَۃِ الْاَتْقٰی([17]) *حضرت علی امرتضیٰ و صدیقِ اکبر کی امامتِ کُبرٰی(یعنی خلیفہ بَرحق بِلافصل ہونے) سے متعلّق اَحادیث و روایات کا بہترین مجموعہ: غَایَۃُ التَّحْقِیْقِ فِیْ اِمَامَۃِ الْعَلِیِّ وَالصِّدِّیْق۔ ([18]) *مولا علی حیدرِ کرّار رضی اللہ عنہ کےایمان کی شان کے بیان میں شاندار رسالہ: تَنْزِیْہُ الْمَکَانَۃِ الْحَیْدَرِیَّہ عَنْ وَصْمَۃِ عَھْدِ الْجَاھِلِیَّہ۔ ([19]) *حضرت عثمانِ غنی ذوالنُّورَین رضی اللہ عنہ کے ”جامع القرآن“ ہونے کے تفصیلی بیان پر مشتمل رسالہ:جَمْعُ الْقُرْآنِ وَبِمَ عَزْوُہُ لِعُثْمَان۔ ([20]) *حضرت اَمیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ کی عظمت و شان اور ان کے دِفاع سے متعلّق 4 رَسائل: (1) اَلْبُشْرَی الْعَاجِلَۃ مِنْ تُحَفٍ آجِلَۃ (2) اَلْاَحَادِیْثُ الرَّاوِیَۃ لِمَدْحِ الْاَمِیْرِ الْمُعَاوِیَہ (3)عَرْشُ الْاِعْزَازِ وَالْاِکْرَامِ لِاَوَّلِ مُلُوْکِ الْاِسْلَامِ (4)ذَبُّ الْاَھْوَاءِ الْوَاھِیَۃ فِیْ بَابِ الْاَمِیْرِمُعَاوِیَۃ ([21])
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ اپنے رسولِ کریم، نبیِ عظیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اَہلِ بیت سے سچی محبت اور انتہاء درجے کی عقیدت رکھتے ہیں۔ آپ رحمۃُ اللہ علیہنے اپنے فتاوٰی اور رسائل وغیرہ میں قرابتِ رسول اور عترتِ رسول کے فضائل سے متعلق ایمان افروز اقتباسات تحریر فرمائے ہیں۔اِس سلسلے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ کا باقاعدہ ایک رسالہ بنام”اِرَاءَۃُ الْاَدَبِ لِفَاضِلِ النَّسَبِ“ ([22]) بھی موجود ہے، جس میں آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے نبیِ اکرم،رسولِ اعظم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے خاندان،قبیلہ،آل و اَولاد اور پاک نسب سے متعلق اَحادیث و روایات کی روشنی میں شاندار کلام فرمایا ہے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خانرحمۃُ اللہ علیہ نبیِ کریم،رسولِ عظیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی آل سے اپنی عقیدت و محبت کا اِظہار کرتے ہوئے فتاوٰی رضویہ میں ایک مقام پر تحریر فرماتے ہیں: ”یہ فقیر ذلیل بحمدہٖ تعالیٰ حضرات ساداتِ کرام کا اَدنٰی غُلام وخاکپا ہے۔ ان کی محبت و عظمت ذریعۂ نجات و شفاعت جانتا ہے۔“([23])
ناموسِ اَولیاء کی حفاظت:
قرآن و حدیث میں جا بجا اَولیاءُ اللہ کی عظمت و شان کا ذکر کیا گیا ہے۔ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ نے بھی اپنے قلم کے ذریعےنہ صرف اَولیاءُ اللہ کے فضائل و مناقب بیان کیے بلکہ اولیاءُ اللہ سے متعلّق عوامُ الناس میں پھیلائے گئے وَساوِس اور غلط فہمیوں کے تسلی بخش اور مدلَّل جوابات ارشاد فرمائے ہیں۔ بالخصوص غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃُ اللہ علیہ کی جماعتِ اَولیاء میں اَفضلیت کے موضوع پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ کی شاندار تالیف ”طَرْدُ الْاَفَاعِی عَنْ حِمَی ھَادٍ رَفَعَ الرِّفَاعِی“([24]) فتاوٰی رضویہ کی 28 ویں جلد میں ہے۔ اِسی طرح آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے ایک رسالہ فتاوٰی کراماتِ غوثیہ ([25])بھی تحریر فرمایا ہے۔
اِس کے علاوہ اَولیائے کرام سے مددطلب کرنے کے ثُبوت میں قرآن و حدیث کے دَلائل پر مشتمل رسالہ ”بَرَکَاتُ الْاِمْدَادِ لِاَھْلِ الْاِسْتِمْدَادِ([26]) “،اَولیائے کرام کے بَعطاءِ الٰہی روشن ضمیر ہونے اور دِلوں پر تصرُّف کرنے کے موضوع پر رسالہ ”فِقْہُ شَھَنْشَاہ وَاَنَّ الْقُلُوْبَ بِیَدِ الْمَحْبُوْبِ بِعَطَاءِ اللّٰہِ([27])“، اَولیائے کرام کے ایصال ثواب کے لیے اللہ پاک کا نام لے کر جانور قُربان کرنے کے جواز اور اس کے شرعی طریقے پر مشتمل رسالہ”بُلُ الْاَصْفِیَاءِ فِیْ حُکْمِ الذَّبْحِ لِلْاَوْلِیَاءِ ([28]) “، اور بیعت و خلافت اور سجادہ نشینی کے شرعی اَحکام پر مشتمل رسالہ ”نَقَاءُ السَّلَافَہ فِیْ اَحْکَامِ الْبَیْعَۃِ وَ الْخِلَافَہ([29]) “ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ کے عظیم علمی اور تحقیقی شاہکار فتاوٰی رضویہ کی مختلف جِلدوں میں جگمگا رہے ہیں۔
عقیدۂ عظمت ِ قرآن کی حفاظت:
قرآنِ مجید کو اللہ تعالیٰ نے آخری اُمّت کی ہدایت کے لیے اپنےسب سے آخری نبی محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر نازل فرمایا ہے۔ دَورِ صحابہ سے آج تک مختلف انداز سے قرآنِ مجید کے الفاظ اور معانی و مطالب کی حفاظت اور خدمت کے لیے عُلما نے بہت سی کاوشیں فرمائی۔ امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ نے بھی قرآنِ مجید کے الفاظ و معانی کی مختلف طریقوں سے خدمت کرنے کا شرف پایا۔ جن میں سرفہرست اُردو زبان میں قرآن مجید کا شاندار اور منفرد ترجمہ بنام”کَنْزُ الْایمَان فِیْ تَرْجَمَۃِ الْقُرْآنِ“ ([30])ہے،جو بِلامبالغہ اُردو زبان میں کیے گئے تراجم میں سب سے اعلیٰ،عُمدہ اور مشہور ترجمہ ہے۔مختلف اَدوار اور مختلف مراحل میں قرآنِ مجید کس طرح موجودہ کتابی شکل میں جمع ہُوا،اس کی تفصیلا ت پر مشتمل اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ نے ”جَمْعُ الْقُرْآنِ وَبِمَ عَزْوُہُ لِعُثْمَان“ ([31]) کے نام سے ایک رسالہ تحریر کیا۔ قرآنِ مجید کےکلامِ الٰہی ہونے سے متعلّق کلامِ نفسی اور کلامِ لفظی کی معرکۃُ الآراء بحث ذکرکرتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان نے عربی میں ایک رسالہ ”اَنْوَارُ الْمَنَّان فِيْ تَوْحِیْدِ الْقُرْآن“تحریر فرمایا اور اس موضوع پر تحقیق کا حق ادا فرما دیا۔
قرآن، حدیث اوراِجماعِ اُمّت سے ثابت شُدہ عقائدِ اسلامیہ کے تحفظ و دِفاع کے حوالے سے سُطورِ بالا میں امامِ اہل سنّت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ کی چند کتابوں کا مختصرتعارف پیش کیا گیا ہے۔اگر رضویات(یعنی اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کی قلمی نگارشات، تصنیفات، تالیفات،رسائل اور فتاوٰی) کا بنظر ِ غائر مطالعہ کیا جائے تو عقیدۂ اِسلامیہ اورنظریاتِ اَہل سنّت کے بیان و تشریح پر علم و تحقیق کا ایک جہان آباد ہے۔
عقائد میں بیاں جو کچھ کیا ہے اعلیٰ حضرت نے
وہ حق کی ترجمانی ہے، خُلاصہ اَہلسنّت کا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی
[1] : دیکھیے:فتاوٰی رضویہ،15/311-450
[2] : فتاوٰی رضویہ،15/452
[3] : دیکھیے:فتاوٰی رضویہ،15/451-463
[4] : دیکھیے:فتاوٰی رضویہ،29/119-200
[5] : دیکھیے:فتاوٰی رضویہ،30/307-358
[6] : فتاوٰی رضویہ،30/310
[7] : دیکھیے:فتاوٰی رضویہ،30/129-264
[8] : فتاوٰی رضویہ،30/131
[9] : بہارِ شریعت،1/63ملخصاً
[10]: دیکھیے:فتاوٰی رضویہ،14/331-355
[11]: دیکھیے:فتاوٰی رضویہ،15/571-594
[12]: دیکھیے:فتاوٰی رضویہ،15/595-610
[13]: دیکھیے: فتاوٰی رضویہ،15/611-628
[14]: دیکھیے: فتاوٰی رضویہ،15/629-741
[15]: پ22،الاحزاب:40
[16]: فتاوی رضویہ،15/630،رضافاؤنڈیشن لاہور
[17]: دیکھیے: فتاوٰی رضویہ،28/491-684
[18]: دیکھیے: فتاوٰی رضویہ،28/469-489
[19]: دیکھیے: فتاوٰی رضویہ،28/433-458
[20]: دیکھیے: فتاوٰی رضویہ،26/439-452
[21]: دیکھیے: فتاوٰی رضویہ،5/478۔ یہ چاروں رسائل دستیاب نہیں لیکن یہ تو ثابت ہوا کہ فضائلِ امیرمُعاویہ رضی اللہ عنہ کے مسئلے کو اعلیٰ حضرت نے کتنا اہم سمجھااور چار رسائل تحریر فرماکر دُشمنانِ مُعاویہ کے دانت کھٹے فرمادیئے۔
[22]: دیکھیے: فتاوٰی رضویہ،23/201-256
[23]: فتاوٰی رضویہ،29/587
[24]: دیکھیے: فتاوٰی رضویہ،28/367-402
[25]: دیکھیے: فتاوٰی رضویہ،28/403-430
[26]: دیکھیے: فتاوٰی رضویہ،21/301-337
[27]: دیکھیے: فتاوٰی رضویہ،21/339-395
[28]: دیکھیے: فتاوٰی رضویہ،20-269-279
[29]: دیکھیے: فتاوٰی رضویہ،21/461-495
[30]: دیکھیے: فتاوٰی رضویہ،26/439-452
[31]: دیکھیے: فتاوٰی رضویہ،26/439-452
Comments