ترک سنت کی مذمت احادیث کی روشنی میں

ترک سنت کی مذمت احادیث کی روشنی میں


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں ہر معاملے کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ حضور نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنتِ مبارکہ اس دین کا عملی نمونہ ہے۔ سنت پر عمل کرنا اللہ تعالیٰ کی رضا اور نجات کا ذریعہ ہے، جبکہ ترکِ سنت(یعنی سنت کو چھوڑ دینا)نقصان اور محرومی کا سبب بنتا ہے۔ آج کے دور میں جہاں سنتوں سے غفلت عام ہوچکی ہے، وہاں اس کی اہمیت کو اُجاگر کرنا بے حد ضروری ہے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-

ترجمۂ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔(پ 28، الحشر: 7)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یہ آیتِ مبارکہ ہمیں واضح طور پر حکم دیتی ہے کہ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت اور سنت کی پیروی لازم ہے۔

آیئے ترکِ سنت کے متعلق چند احادیثِ مبارکہ پڑھیے:

(1)سنت سے اعراض کرنے والوں کے لیے وعید:

ترک سنت کرنے والوں کے لیے حدیث میں سخت تنبیہ بیان کی گئی ہے چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔(بخاری،3/421،حدیث:5063)

(2)لعنت کا مستحق:

حدیثِ پاک میں 6 لوگوں پر لعنت کی گئی ہے، ان افراد میں چھٹا وہ ہے جس کے بارے میں فرمایا: وَالتَّارِكُ لِسُنَّتِي یعنی میری سنت کو چھوڑنے والا۔(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان،7/501،حدیث:5719)

(3)گمراہی کا باعث:

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگرتم اپنے نبی کی سنت کو چھوڑوگے تو ضرور گمراہ ہوجاؤ گے۔(مسلم،ص257، حدیث: 1488)

ترکِ سنت کے اسباب:

*دنیا کی محبت اور دین سے غفلت

*دینی علم کی کمی

*نیک صحبت سے دوری

پیارے اسلامی بھائیو! سنتوں سے محبت پیدا کیجئے، اپنے ظاہر و باطن کو سنتوں کے سانچے میں ڈھالئے۔ دعوتِ اسلامی کا دینی ماحول ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ کھانے پینے، سونے جاگنے، چلنے پھرنے حتیٰ کہ زندگی کے ہر پہلو میں سنتوں کو اپنایا جائے۔

سنتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے، جبکہ ترکِ سنت محرومی کا سبب ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سنتوں پر عمل کرنے اور انہیں عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


Share