حاجی ابو رجب مرحوم،ناقابل فراموش شخصیت

حاجی ابو رجب مرحوم، ناقابلِ فراموش شخصیت


استاذُ العلماء حضرت مولانا حاجی ابو رجب محمد آصف جاوید عطّاری مدنی رحمۃُ اللہ علیہ عالمِ باعمل، فاضل و مدرسِ جامعۃ المدینہ کراچی، رکنِ مجلس اسلامک ریسرچ سینٹر المدینۃ العلمیہ، چیف ایڈیٹر ماہنامہ فیضانِ مدینہ، مبلغِ مدنی چینل، دو درجن کے قریب کتب و رسائل کے مصنف، باوفا مرید، باصفا صوفی، خوش اخلاق، منکسر المزاج اور فعال شخصیت کے مالک تھے۔آپ کی پیدائش 21 ربیع الاول 1396ھ مطابق 23 مارچ 1976ء کو محلہ شریف پورہ، گوجرہ، ضلع ٹوبہ دار السلام، پنجاب، پاکستان میں احمد دین مرحوم کے ہاں ہوئی، جبکہ 50 سال کی عمر میں 27 شوال 1447ھ مطابق 16 اپریل 2026ء بروز جمعرات کراچی میں وصال فرمایا۔آپ کی نمازِ جنازہ امیرِ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ، پرانی سبزی منڈی کراچی میں شبِ جمعہ ہفتہ وار اجتماع کے بعد پڑھائی۔ نمازِ جنازہ میں جانشین و خلیفہ ٔامیرِ اہلِ سنت حضرت مولانا عبید رضا عطّاری مدنی مُدَّ ظِلُّہُ العالی، اراکینِ مرکزی مجلسِ شوریٰ، دارالافتاء اہلِ سنت کے مفتیانِ کرام، علمائے کرام اور ہزاروں اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔ بعد ازاں تدفین قبرستان سی ایریا، لیاقت آباد کراچی میں عمل میں آئی۔ اگلے دن فیضانِ مدینہ کراچی میں بعد نمازِ عصر شعبہ ’’محبتیں بڑھاؤ“ کے تحت ہر جمعہ کو ہونے والے ایصالِ ثواب اجتماع میں قرآن خوانی، مفتیِ اہلِ سنّت مفتی محمد قاسم عطّاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی کے بیان اور دعائے مغفرت کا اہتمام کیا گیا۔

راقم الحروف کی ان سے پہلی ملاقات کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ مئی 2002ء میں راقم پنجاب سے فارغ التحصیل ہوکر دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں مدنی تربیت گاہ میں حاضر ہوا۔ یہاں سے ایک قافلہ اسماعیل مسجد، مزار والی گلی، سولجر بازار نمبر 1، نزد بابری چوک کراچی جا رہا تھا، مجھے بھی اس قافلے میں شامل کر دیا گیا۔ اس مسجد کے امام و خطیب مولانا حاجی ابو رجب آصف مدنی صاحب تھے۔ نمازِ ظہر یا عصر کے بعد میری ان سے پہلی ملاقات ہوئی۔ میں نے انہیں خوش اخلاق اور ملنسار پایا۔ہم قافلے کے جدول میں مصروف ہوگئے اور وہ مسجد سے متصل اپنے حجرے میں تشریف لے گئے، جہاں کمپیوٹر پر کمپوزنگ میں مصروف ہوگئے۔ معلومات حاصل ہوئیں کہ وہ فیضانِ مدینہ کراچی سے متصل جامعۃ المدینہ میں تدریس فرماتے ہیں اور تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی جاری ہے۔راقم الحروف تقریباً تین ماہ دس دن مدنی تربیت گاہ کے تحت مختلف کورسز اور قافلوں میں مصروف رہنے کے بعد دارالافتاء اہلِ سنت کنزالایمان، بابری چوک کراچی میں فتاویٰ نویسی اور تخصص فی الفقہ میں مشغول ہوگیا۔ شوال 1424ھ مطابق دسمبر 2003ء میں مرحوم رکنِ شوریٰ حضرت مولانا حافظ محمد فاروق عطّاری مدنی رحمۃُ اللہ علیہ نے مجھے دارالافتاء اہلِ سنت نور العرفان، کھارادر کراچی میں فتاویٰ نویسی کے ساتھ جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ میں تدریس کا حکم فرمایا۔ یہاں حاجی ابو رجب مدنی صاحب سے میری دوسری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے میری تقرری پر خوشی کا اظہار کیا۔کچھ دنوں کے بعد مفتی فاروق صاحب نے مجھے کچھ وقت المدینۃ العلمیہ میں بھی بیٹھنے کا فرمایا۔ اس وقت یہ ادارہ گلستانِ جوہر سے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ منتقل ہو چکا تھا اور اس میں چھ علمائے کرام خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ چند ماہ بعد مجھے اس کا نگران بنادیا گیا۔ ان دنوں میری مصروفیات کچھ یوں تھیں کہ صبح جامعۃ المدینہ میں تین پیریڈ پڑھا کر دو گھنٹے المدینۃ العلمیہ میں بیٹھتا، پھر عوامی ٹرانسپورٹ کے ذریعے دارالافتاء اہلِ سنت نور العرفان کھارادر میں مفتی فاروق صاحب کے پاس جاتا، اور بعد نمازِ مغرب ان کے ساتھ موٹر سائیکل پر واپس فیضانِ مدینہ آتا تھا۔غالباً جنوری 2004ء میں امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہکی جانب سے ایک رقعہ موصول ہوا، جس میں حاجی ابو رجب مدنی صاحب کو المدینۃ العلمیہ میں خدمات انجام دینے کا موقع فراہم کرنے کا ارشاد تھا۔ چنانچہ وہ المدینۃ العلمیہ میں تحریری و تحقیقی کام میں مصروف ہوگئے۔

المدینۃ العلمیہ اور حاجی ابو رجب مدنی:

غالباً شعبان 1424ھ مطابق اکتوبر 2003ء میں المدینۃ العلمیہ کی نشاۃِ ثانیہ ہوئی۔ اس کے تحت پانچ شعبہ جات قائم کیے گئے: شعبہ کتبِ اعلیٰ حضرت، شعبہ درسی کتب، شعبہ اصلاحی کتب، شعبہ تراجمِ کتب اور شعبہ تفتیشِ کتب۔یکم شعبان 1426ھ مطابق 6 ستمبر 2005ء میں جامعۃ المدینہ سے فارغ التحصیل ہونے والے بعض علمائے کرام کا انتخاب المدینۃ العلمیہ کے لیے کیا گیا۔ ان کی تربیت حاجی ابو رجب مدنی صاحب کے سپرد کی گئی۔ دو تین ماہ بعد باہمی مشورے سے حاجی ابو رجب مدنی صاحب کو المدینۃ العلمیہ کا ناظم مقرر کر دیا گیا۔وہ صبح آٹھ بجے سے ایک بجے تک جامعۃ المدینہ میں تدریس کرتے اور نمازِ ظہر سے شام تک المدینۃ العلمیہ میں خدمات انجام دیتے۔ انہوں نے نہایت عمدہ انداز میں اس کے انتظامی امور کو سنبھالا۔2005ء میں ان کی تحریر کردہ تین کتب” خوفِ خدا، فکرِ مدینہ اور انفرادی کوشش“ شائع ہوئیں۔ 2005ء کے آخر میں اسی سال جامعۃ المدینہ سے فارغ التحصیل ہونے والے مزید چند علمائے کرام کا تقرر ہوا تو ضرورت اس بات کی محسوس ہوئی کہ ایسے ناظم کا تقرر کیا جائے جو صبح آٹھ بجے سے شام چار بجے تک مکمل وقت دے سکے۔ چنانچہ مولانا مجاہد غازی عطّاری مدنی، اور پھر کچھ عرصے بعد مولانا محمد آصف خان عطّاری مدنی صاحب کا تقرر عمل میں آیا۔ اس کے بعد حاجی ابو رجب مدنی صاحب شعبہ اصلاحی کتب کے نگران اور مجلس المدینۃ العلمیہ کے رکن بن گئے۔ تادمِ وفات وہ اسی ذمہ داری پر فائز رہے اور راقم الحروف کے ممد و معاون رہے۔

جب وہ المدینۃ العلمیہ میں تشریف لائے تو اس وقت وہاں علمائے کرام کی تعداد ایک درجن سے بھی کم تھی، جبکہ آج المدینۃ العلمیہ کی دو شاخیں، فیضانِ مدینہ کراچی اور فیضانِ مدینہ فیصل آباد، خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان دونوں مراکز میں علمائے کرام اور دیگر انتظامی امور سے وابستہ اسلامی بھائیوں کی مجموعی تعداد ایک سو چوالیس (144) ہے۔اس وقت المدینۃ العلمیہ کے صرف پانچ شعبے تھے، جبکہ اب ان کی تعداد پچیس ہوچکی ہے۔ تادمِ تحریر المدینۃ العلمیہ دو ہزار ایک سو پینسٹھ (2165) کتب و رسائل پر کام کرچکا ہے۔ اس کے بڑے منصوبوں میں تخریج شدہ بہارشریعت (6جلدیں)،جدالممتار (7جلدیں)، صرا ط الجنان فی تفسیر القرآن (10جلدیں)، معرفۃ القرآن علی کنز العرفان (6جلدیں)، تعلیماتِ قرآن (7جلدیں)، ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنت (12جلدیں) احیاءالعلوم مترجم (5جلدیں)،حلیۃ الاولیاءمترجم بنام اللہ والوں کی باتیں (10جلدیں)، اسلامی بیانات (21جلدیں)، قوت القلوب مترجم (4جلدیں)، تفسیرالجلالین مع حاشیہ انوارالحرمین (6جلدیں)، ضیاء القاری شرح صحیح بخاری (6جلدیں) اور انوارالمتقین شرح ریاض الصالحین بنام فیضانِ ریاض الصالحین (9جلدیں) وغیرہ شامل ہیں ۔ ان میں سےآخرالذکر تین کے علاوہ تمام منصوبے پایۂ تکمیل تک پہنچ چکے ہیں۔

مدنی مشورے اور حاجی ابو رجب مدنی:

دعوتِ اسلامی میں مشاورت کا ماحول ہے، اور شعبہ جات کے کام کو منظم انداز میں چلانے کے لیے مختلف مجالس قائم کی گئی ہیں۔ شعبہ المدینۃ العلمیہ کا قیام 2001ء میں عمل میں آیا، البتہ مجلس المدینۃ العلمیہ 2005ء میں قائم کی گئی۔ اس کے نگران و اراکین میں راقم الحروف، مرحوم رکنِ شوریٰ حاجی زم زم عطّاری، حاجی محمد امین عطّاری، حاجی محمد عقیل عطّاری مدنی اور حاجی ابو رجب مدنی صاحب شامل تھے۔ بعد میں مجلس کے اراکین میں وقتاً فوقتاً تبدیلیاں ہوتی رہیں، مگر حاجی ابو رجب مدنی صاحب تادمِ وصال اس مجلس کے رکن رہے۔ وقتاً فوقتاً مجلس کے مشورے ہوتے رہتے تھے۔ 2022ء تک راقم الحروف بھی ان مشوروں کا حصہ رہا۔ حاجی ابو رجب مدنی صاحب پابندیِ وقت کے ساتھ ان مشوروں میں شرکت کرتے اور المدینۃ العلمیہ کے تمام علمی منصوبوں کے حوالے سے اپنی آرا پیش کرتے تھے۔

میرا ان کے ساتھ نگران و ماتحت کی نسبت سے زیادہ برادرانہ تعلق تھا۔ مشوروں میں کبھی اختلافِ رائے بھی ہوجاتا، مگر نہ کبھی جھگڑے کی نوبت آئی اور نہ ہی روٹھنے منانے کا مرحلہ پیش آیا۔ وہ اپنی رائے ضرور پیش کرتے تھے، مگر اجتماعی رائے کے مقابلے میں اس پر اصرار نہیں کرتے تھے۔ جب اجتماعی طور پر کوئی بات طے ہوجاتی تو پھر اپنے اختلافِ رائے کا اظہار بھی نہیں کیا کرتے تھے۔ یہ ان کے سمجھدار اور تنظیمی شعور رکھنے والے فرد ہونے کی واضح دلیل تھی۔میرا حسنِ ظن ہے کہ ان کی شخصیت اَنا، خودنمائی اور ضد سے پاک تھی، اسی لیے تعلقات میں ہمیشہ برادرانہ فضا قائم رہی۔ وہ اعتدال، حکمت، مشورہ دینے اور مشورہ قبول کرنے کا مزاج رکھنے والے ایسے عالمِ دین تھے جو اجتماعیت، اتحاد اور تنظیمی ڈسپلن کو ذاتی رائے پر مقدم رکھتے تھے۔

ماہنامہ فیضانِ مدینہ اور حاجی ابو رجب مدنی:

2016ء مطابق 1438ھ میں امیرِ اہلِ سنت کی اجازت سے ماہنامہ فیضانِ مدینہ جاری کرنے کا فیصلہ ہوا۔ امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہاور نگرانِ شوریٰ حضرت مولانا محمد عمران عطّاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی کے ساتھ اس کے مندرجات، عنوانات اور اسلوب کے حوالے سے جو مشورے ہوئے، ان میں حاجی ابو رجب مدنی صاحب پیش پیش رہے۔ بعد ازاں آپ کا تقرر چیف ایڈیٹر کے منصب پر ہوا۔اس کا پہلا شمارہ ربیع الآخر 1438ھ مطابق جنوری 2017ء میں منظرِ عام پر آیا۔ بلاشبہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کے علمائے کرام کی تربیت میں آپ کا بنیادی کردار رہا۔ چنانچہ ایڈیٹر ماہنامہ فیضانِ مدینہ مولانا راشد علی عطّاری مدنی سلمہ الغنی تحریر کرتے ہیں: جب ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ کا آغاز ہوا تو کام کی کثرت اور وقت کی قلت کے باعث ابتدائی شماروں میں کئی مرتبہ رات 12، کبھی 1 اور کبھی 3اور 4 بجے تک بھی کام ہوتا رہا جس میں استاذ محترم بھی مکمل شریک رہتے۔ بہت مرتبہ چھٹی کے ایام میں بھی کام کرتے رہے اور غیرمعمولی کام کرنے والوں کی دلجوئی بھی فرماتے، کبھی کوئی تحفہ دیتے، کبھی کھانا کھلاتے، کبھی کچھ رقم بطورِ تحفہ دے دیتے تھے۔ (ماہنامہ فیضانِ مدینہ،جون2026ء،ص34)

ہر ماہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کے موضوعات کی فہرست کو حتمی شکل دینا، سلسلوں میں رد و بدل اور اضافہ و کمی کرنا، ابتدا میں تمام اور بعد میں متعدد مضامین کی چیکنگ کرنا، نیز دو تین مضامین خود تحریر کرنا آپ کا معمول تھا۔حتیٰ کہ وفات کے مہینے، یعنی اپریل 2026ء میں بھی آپ ایڈیٹر مولانا راشد علی مدنی صاحب سے رابطے میں رہے اور رہنمائی فرماتے رہے، کیونکہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ اشاعت سے تقریباً ڈیڑھ تا دو ماہ قبل فائنل ہوجاتا ہے۔ اسی لیے آپ کے تحریر کردہ مضامین آپ کی وفات کے بعد مئی اور جون 2026ء کے شماروں میں بھی شائع ہوئے۔تادمِ تحریر ماہنامہ فیضانِ مدینہ سات زبانوں: اردو، عربی، ہندی، گجراتی، انگلش، بنگلہ اور سندھی میں جاری ہونے والا کثیر الاشاعت اور منفرد میگزین ہے۔ اس کے خصوصی شماروں، مثلاً سیرت خاتم النبین (صفحات: 386) فیضانِ امامِ اہلِ سنت (صفحات:252)فیضانِ علم وعمل یعنی جامعۃ المدینہ نمبر (صفحات:220) کو بھی حاجی ابو رجب مدنی صاحب ہی نے حتمی شکل دی۔

2021ء میں ماہنامہ خواتین (ویب ایڈیشن) کے آغاز کا فیصلہ ہوا تو اس میں بھی حاجی ابو رجب مدنی صاحب نے تعاون فرمایا اور قیمتی مشوروں سے نوازا۔ اس کا پہلا شمارہ نومبر 2021ء میں منظرِ عام پر آیا۔ الحمد للہ! گزشتہ پانچ سال سے ماہنامہ خواتین بھی باقاعدگی سے دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ ہورہا ہے، جس کے چیف ایڈیٹر مولانا ابو ابصار ابرار اختر قادری ہیں۔

مدنی مذاکرہ اور حاجی ابو رجب مدنی:

امیرِ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہایک یادگارِ اسلاف شخصیت ہیں۔ آپ کی دینی، تعلیمی، معاشرتی اور روحانی خدمات کو چندالفاظ میں بیان کرنے سے قلم قاصرہے،آپ کی خدماتِ دین میں مؤثر اصلاحی بیانات اور علمی و روحانی مدنی مذاکرے بھی نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نہایت محتاط فی الدین شخصیت ہیں۔ آپ کا معمول اور مزاج یہ ہے کہ جب بھی بیان فرمائیں یا مدنی مذاکرہ ہو تو دارالافتاء اہلِ سنت کے کسی متخصص یا مفتی صاحب اور دیگر علمائے کرام کی موجودگی ضرور ہو، تاکہ کسی ممکنہ غلطی سے بچا جاسکے۔راقم الحروف کو 2003ء سے امیرِ اہلِ سنت کے بیانات اور مدنی مذاکروں میں شرکت کی سعادت حاصل ہوتی رہی۔ ابتدا میں، میں مفتی محمد فاروق عطّاری مدنی رحمۃُ اللہ علیہ کے ہمراہ شریک ہوتا تھا۔ مفتی صاحب امیرِ اہلِ سنت کے بیانات اور مدنی مذاکروں کی کیسٹوں کی ایڈیٹنگ کیا کرتے تھے۔ جیسے ہی بیان ختم ہوتا، وہ فوراً کیسٹ کی ایڈیٹنگ میں مصروف ہوجاتے اور تقریباً ڈیڑھ سے دو گھنٹے میں یہ کام مکمل کرلیتے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے مجھے بھی ایڈیٹنگ کا طریقہ سکھا دیا اور پھر یہ ذمہ داری میرے سپرد ہوگئی۔18 محرم 1427ھ مطابق 17 فروری 2006ء کو جب اچانک مفتی محمد فاروق عطّاری مدنی رحمۃُ اللہ علیہ کا انتقال ہوا تو دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ مجلسِ مدنی مذاکرہ کی ذمہ داری 2010ء تک، جبکہ شعبۂ شرعی تفتیش آڈیو (ویڈیو) کی ذمہ داری 2012ء تک میرے ناتواں کندھوں پر رہی۔بہر حال، مدنی مذاکروں میں حاجی ابو رجب مدنی صاحب بھی شریک ہونے لگے۔ وصال سے کچھ عرصہ قبل تک وہ نہایت پابندی کے ساتھ مدنی مذاکروں میں شرکت کرتے رہے۔ ان کی پابندی مثالی تھی۔ طبیعت کی خرابی اور جسمانی کمزوری کے باوجود وہ مدنی مذاکرے میں ضرور حاضر ہوتے۔ گویا اس سے غیر حاضری ان کی ڈکشنری میں تھی ہی نہیں۔

مدنی مذاکروں سے حاجی ابو رجب مدنی صاحب کی وابستگی محض رسمی نہ تھی بلکہ یہ ان کی اپنے مرشدِ گرامی امیراہل سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ سے محبت کی روشن علامت تھی۔ طبیعت کی ناسازی بھی انہیں مدنی مذاکروں میں شرکت سے نہ روک سکی۔ ان کی پابندی اس قدر مثالی تھی کہ گویا مدنی مذاکرے میں شرکت ان کی زندگی کا مستقل معمول اور روحانی غذا بن چکی تھی۔دینی ماحول سے محبت، علمِ دین سے وابستگی اور فیضان ِامیرِ اہلِ سنت حاصل کرنے کا جذبہ نمایاں دکھائی دیتا تھا۔ ان کی یہ حاضری صرف بیٹھنے تک محدود نہ تھی بلکہ خاموش انداز میں دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وفاداری، اجتماعیت سے محبت اور دین کے کاموں سے قلبی لگاؤ کا اظہار بھی تھی۔ وہ اپنے عمل سے یہ سبق دیتے تھے کہ دینی مجالس میں استقامت ہی اصل کامیابی ہے۔ ان کی پابندی کو دیکھ کر دوسرے اسلامی بھائیوں اور طلبہ کو بھی ترغیب ملتی تھی کہ دین کے کاموں میں سستی اور عذر کو جگہ نہ دی جائے۔حاجی ابو رجب رحمۃُ اللہ علیہ کی زندگی کا یہ پہلو اس بات کی روشن گواہی دیتا ہے کہ وہ استقامت اور دینی وابستگی رکھنے والے ایسے باعمل عالمِ دین تھے جنہوں نے اپنی آخری عمر تک دینی ماحول کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا۔اللہ پاک ان کی دینی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، ان کی کامل مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رکن مرکزی مجلسِ شوریٰ(دعوتِ اسلامی)و نگران مجلس ماہنامہ فیضان مدینہ، کراچی


Share

Articles

Comments


Security Code