مولانا ابو رجب محمدآصف عطاری مدنی رحمۃ اللہ علیہ
مولانا ابو رجب محمدآصف عطاری مدنی رحمۃ اللہ علیہ ایک اچھے محرّر، مؤلّف، مصنّف ، شفقت کرنے والے ذمّہ دار اور دعوتِ اسلامی اور بانیِ دعوتِ اسلامی، امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ سے بہت محبّت کرنے والے ایک مخلص اور قابلِ اعتماد عالمِ دین تھے۔ تقریباً 6 سال طویل علالت کے بعد 16 اپریل 2026ء مطابق 27شوّال شریف 1447ھ کو کراچی میں انتقال فرماگئے۔ ستمبر 2005 میں جب میں نے المدینۃ العلمیہ (اسلامک ریسرچ سینٹر) میں باقاعدہ علمی کام کا آغاز کیا تو اس وقت المدینۃ العلمیہ کے ناظم اعلیٰ مولانا ابو رجب رحمۃ اللہ علیہ تھے، آپ کے ماتحت کام کرنے کا تقریباً 19 سال تک ایک علمی و تربیتی سفر کا سلسلہ رہا، آپ سے بہت سی باتیں اور کام کے انداز سیکھنے کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً زندگی کے دیگر معاملات بھی سیکھنے کا موقع ملتا رہا ہے، آپ کی شفقتوں اور انفرادی کوشش کی برکت سے مجھے ایک ساتھ 28 ماہ ملک و بیرونِ ملک قافلے میں سفر کرنے کا موقع بھی ملا، الحمد للہِ الکریم۔آئیے! آپ کی زندگی کے چند پہلو ؤں کے بارے میں پڑھتے ہیں:
تحریری خدمات:
آپ کی تحریری خدمات قابلِ تعریف ہیں، المدینۃ العلمیہ میں آنے سے پہلے آپ کو عاشقانِ رسول کے ایک معاصر اشاعتی ادارے کی کتابوں کی کمپوزنگ، فارمیشن، تلاش مواد، پروف ریڈنگ،تحریری معاونت اور کتب و رسائل کی تالیف کا 5 سال کا تجربہ تھا۔
المدینۃ العلمیہ میں آپ نے سن 2004ءسے 2026ء تک (تقریباً 22 سال)کے عرصے میں ترجمہ،تصنیف، تخریج ، تحقیق وغیرہ کے 250 سے زیادہ کتب و رسائل کے پروجیکٹس پر کام کیا اور آپ کی زیرنگرانی مکمل ہونے والے پروجیکٹس کی تعداد بھی 200 سے زائد ہے۔’’ماہنامہ فیضانِ مدینہ‘‘ میں لکھے جانے والے مضامین اس کے علاوہ ہیں۔
جیساکہ آپ نے پڑھا کہ مولانا ابو رجب رحمۃ اللہ علیہ کو دعوتِ اسلامی اور بانیِ دعوت اسلامی سے بے پناہ محبّت اور عقیدت تھی، اور بانیِ دعوتِ اسلامی ، امیرِ اہل سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ بھی آپ سے بہت محبّت فرماتے اور آپ پر بہت اعتِماد کرتے تھے۔ اسی محبّت و عقیدت کے سبب المدینۃ العلمیہ میں آپ کے کام کی ذمّہ داریوں کا ایک حصّہ امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کے علمی کاموں سے متعلّق بھی رہا ہے۔
عقیدت کا انداز:
ایک واقعہ جو میرے ذہن میں ہمیشہ نقش رہے گا، وہ یہ کہ فیضانِ سنّت جلد اوّل کے باب’’آدابِ طعام‘‘ پر کام کے دوران امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی جانب سے جب بھی کوئی کام آتا تھا تو اس میں کوئی علمی نکتہ، عبارات کی درستی اور تخریج کے حوالے سے ایسے باریک نکات ہوتے کہ جنہیں حل کرنا ہمارے لیے بسا اوقات کافی مشکل ہو جاتا تھا۔ ایک مرتبہ مولانا ابو رجب رحمۃ اللہ علیہ نے مجھ سے پوچھا کہ ”امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی جانب سے آنے والا کام کیسا ہوتا ہے؟“ میں نے عرض کی کہ بعض اوقات کام کافی مشکل ہوتا ہے اور اسے حل کرنے اور پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ اس پر مولانا ابو رجب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک جملہ ارشاد فرمایا جو ان کی امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ سے گہری عقیدت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے فرمایا: جب امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی طرف سے ہمیں کوئی کام ملتا ہے، تو اس کام کی برکت سے اللہ پاک ہماری صلاحیتوں میں مزید اضافہ فرما دیتا ہے۔
سبحٰن اللہ! یہ امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی طرف سے آنے والے کام کو ایک نعمت اور اپنی علمی ترقّی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔
شفقت کا انداز:
طلبہ اور ماتحت اسلامی بھائیوں پر شفقت اور سمجھانے کا آپ کا انداز بہت مضبوط اور پُر دلیل ہوتا تھا، گویا فرمانِ آخِری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم:”حکمت مومن کا گمشدہ خزانہ ہے۔‘‘ (ترمذی، 4/314، حدیث: 2696) کو مدِّنظر رکھتے ہوئے اسلامی بھائیوں کو حکمتِ عَملی، دیانت داری اور شفقت کے ساتھ سمجھاتے اور تربیَت کرتے کہ سامنے والا کم ہی آپ کی بات ٹال پاتا اور آپ کی کہی بات پر عمل کرنے کا عزم کر لیتا تھا، اس کی ایک جھلک پڑھئے اور اپنے اندر دوسروں کے لیے نرمی اور شفقت والے انداز کو زندہ رکھئے، چنانچہ
ایک مدنی اسلامی بھائی جو آپ کے شاگرد ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کی ہی کوششوں سے المدینۃ العلمیہ میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، وہ اپنی کچھ ذاتی مصروفیات کے سبب المدینۃ العلمیہ میں آئے دن تاخیر سے آتے اور چھٹیاں بھی کرتے رہتےتھے، پہلے تو انہوں نے کسی کے ذمّے لگایا کہ اسے سمجھاؤ کہ چھٹیاں نہ کرے کہ علمی کارکردگی کے نقصان کے ساتھ ساتھ مالی طور پر بھی آپ کو نقصان ہورہا ہے، پھر خود بھی ان کو سمجھایا اور آپ کا سمجھانا کارگر ثابت ہوا، اس کے بعد ان مدنی اسلامی بھائی نے اپنی چھٹیوں اور تاخیر سے آنے کی عادت پر الحمد للہِ الکریم کنٹرول کر لیا۔
بچّوں پر شفقت اور ملاقات کا انداز:
بچّوں کی علمی و معاشرتی تربیَت کے ساتھ ساتھ ان سے ملاقات کا انداز بھی نرالہ تھا، اکثر دیکھا جاتا کہ آپ کے چھوٹے شہزادے (حافظ کرم عطاری) حفظ کے دوران مدرسۃ المدینہ سے چھٹی کے بعد جب آپ کے پاس آتے تو آپ ان سے گرم جوشی اور خوشی کے انداز میں ملاقات کرتے اور سبحٰن اللہ، ماشآءاللہ کہتے ہوئے ان کا استقبال کرتے اور خیریت وغیرہ معلوم کرتے تھے۔
خیر خواہی کا جذبہ:
آپ طلبہ اور دیگر اسلامی بھائیوں کے ساتھ خیر خواہی کیا کرتے، ان کی آسانیوں اور بھلائیوں کی طرف رہنمائی کرتے اور تنظیمی و اِدارتی مسائل کو حل کرنے میں ہر ممکن تعاون کیا کرتے تھے، جیسا کہ اللہ پاک کے آخِری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ مَنفَعَت نشان ہے: تم میں سے جو کوئی اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو اسے فائدہ پہنچانا چاہیے۔
(مسلِم،ص931، حدیث: 5729)
المدینۃ العلمیہ کے ایک مدنی اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میں ایک بار وقتِ اجارہ (یعنی ڈیوٹی ٹائم) ختم ہونے کے بعد بھی کام میں مصروف رہا، جب کام مکمل کر لیا تو ابو رجب صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ ناظم صاحب کو بتا کر اپنا اضافی وقت (یعنی اوور ٹائم) نوٹ کروا دیجیے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ میں نے جو اضافی وقت کام کیا ہے، مجھے اس محنت کا پورا معاوضہ ملے اور آپ ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ ہر حق دار کو اس کا جائز حق لازمی ملے اور کسی کی محنت ضائع نہ ہو۔
مولانا ابو رجب محمد آصف عطاری مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کا زیادہ صدمہ ہمیں اس لیے بھی ہے کہ آپ جامعۃ المدینہ کے سینئر استاذ ہونے کے ساتھ ساتھ المدینۃ العلمیہ میں ایک سینئر مصنف اور ہمارے ذمّہ دار کی حیثیت سے ہمارے درمیان موجود تھے۔
اللہ پاک ہمیں بھی دوسروں کے ساتھ نرمی اور شفقت سے پیش آنے، اچّھی تربیَت کرنے اور ہر ممکن اور جائز تعاون کرنے والا بنائے اور اللہ پاک مرحوم کی علمی و تنظیمی خدمات قبول فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی قبر پر اپنی کروڑوں رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ اصلاحی کتب، المدینۃ العلمیہ، کراچی
Comments