بیٹیوں کو سنت مصطفےٰ ﷺ کی تربیت دیں


بیٹیوں کو سنّتِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تربیت دیں


اللہ تعالیٰ نے انسان کی راہنمائی کے لیے اپنے محبوب رسول حضرت محمدِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو مبعوث فرمایا اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک زندگی کو قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا۔ ایک مسلمان کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ اپنے عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق اور معاشرت میں سنتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اپنائے۔ والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد، خصوصاً مائیں بیٹیوں کی ایسی تربیت کریں کہ ان کے دلوں میں سنتِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبت پیدا ہو، سنتوں کو سیکھنے کا شوق پیدا ہو اور سنتوں پر عمل ان کی زندگی کا حصہ بن جائے۔

آج کے دور میں والدین اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم، جدید مہارتوں اور دنیاوی آداب سکھانے کے لیے تو بہت فکر مند نظر آتے ہیں، لیکن یہ فکر نسبتاً کم دکھائی دیتی ہے کہ ہماری بیٹی اسلامی تعلیمات و سنتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کتنا جانتی ہے؟ اسے کتنی سنتیں یاد ہیں؟ وہ روزمرہ زندگی میں کتنی سنتوں پر عمل کرتی ہے؟ حالانکہ اصل کامیابی سنتِ نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیروی میں ہے۔ جس گھر میں سنتوں پر عمل اور ان  کا چرچا ہوتا ہے، وہاں خیر و برکت بھی نازل ہوتی ہے اور دینی ماحول بھی پروان چڑھتا ہے۔

بیٹیوں کی سنتوں کے مطابق تربیت کا آغاز بچپن ہی سے ہونا چاہیے۔ سب سے پہلے والدین خود سنتوں پر عمل کرنے والے ہوں کیونکہ بچے والدین کے کردار کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ اگر ماں گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرتی ہے، کھانے سے پہلے اور بعد کی دعائیں پڑھتی ہے، پردے کی پابند ہے، نرم لہجے میں گفتگو کرتی ہے، بڑوں کا ادب اور چھوٹوں پر شفقت کرتی ہے تو بیٹی کے دل میں بھی انہی عادات کی محبت پیدا ہوگی۔

بیٹیوں کے دل و دماغ میں سنتوں کی عظمت اور اہمیت بھی بٹھانی چاہیے۔ انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ سنتیں محض رسم و رواج یا چند ظاہری اعمال کا نام نہیں بلکہ یہ ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک زندگی کے وہ طریقے ہیں جن پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبت نصیب ہوتی ہے۔ جب بچیوں کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہوگا کہ میں اپنے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیاری سنت پر عمل کر رہی ہوں، تو ان کے لیے سنتوں پر عمل آسان اور خوشگوار ہوجائے گا۔

بیٹیوں میں سنت سیکھنے کا ذوق پیدا کرنے کے لیے گھر میں باقاعدہ سنتوں کا تذکرہ ہونا چاہیے۔ روزانہ یا ہفتہ وار چند سنتیں سیکھنے کا معمول بنایا جاسکتا ہےاور روز پیش آنے والے معاملات میں ان کی یاد دہانی کرائی جا سکتی ہے۔ مثلاً کھانے پینے کی سنتیں، لباس کی سنتیں، سونے جاگنے کی سنتیں، سلام کی سنتیں، والدین کے حقوق، رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور دیگر روزمرہ سنتوں کے بارے میں گفتگو کی جائے۔ اگر بیٹی کوئی نئی سنت سیکھ کر اس پر عمل کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کی جائے اور اسے انعام یا تحسین کے ذریعے مزید شوق دلایا جائے۔

سنتوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے مطالعے کی عادت پیدا کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ بیٹیوں کو بچپن ہی سے دینی کتب پڑھنے کی ترغیب دی جائے بالخصوص مکتبۃ المدینہ کی وہ کتابیں جن میں سنتوں، اسلامی آداب، سیرتِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور اسلامی اخلاقیات کو آسان انداز میں بیان کیا گیا ہے،مثلاً سیرتِ مصطفےٰ، 550 سنتیں اور آداب، جنتی زیور ، آدابِ دین اوراسلامی زندگی وغیرہ کتب کا مطالعہ   کروایا جائے۔

مائیں خود بھی ان کتابوں کا مطالعہ کریں اور گھر میں مطالعے کا ماحول قائم کریں۔ بچیاں جب اپنی ماؤں کو دینی کتابیں پڑھتے دیکھیں گی تو ان کے دل میں بھی کتاب دوستی اور علمِ دین کی محبت پیدا ہوگی۔

اسی طرح مدنی چینل پر نشر ہونے والے اصلاحی پروگراموں، بالخصوص ”مدنی مذاکرہ“ سے ان کا تعلق قائم کرنا تربیت کے لیے بے حدمفید ہے۔اس سلسلے میں مختلف دینی، اخلاقی، معاشرتی اور تربیتی موضوعات کو نہایت آسان اور دلنشین انداز میں پیش کیا جاتا ہے، جس سے بچوں اور بڑوں دونوں کو سنتیں، آدابِ زندگی اور اسلامی تعلیمات کے بارے میں قیمتی راہنمائی ملتی ہے۔ اگر گھر والے مل کر مدنی مذاکرہ دیکھیں اور پھراس میں بیان ہونے والی باتوں پر آپس میں گفتگو بھی کریں، تو یہ بچوں کی ذہن سازی کا ایک بہترین اور مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

یہ اقدامات بیٹیوں کی دینی تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ گھر میں فضول اور غیر ضروری پروگرامزکے بجائے ایسے پروگرامز دیکھنے کی عادت ڈالیں جن سے دینی معلومات، اخلاقی تربیت اور سنتوں کی محبت حاصل ہو۔

بیٹیوں کے دل میں محبتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بڑھانے کے لیے انہیں سیرتِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے واقعات سنائے جائیں، درودِ پاک پڑھنے کی عادت ڈالی جائے، نعتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سننے اور پڑھنے کی ترغیب دی جائے اور یہ سمجھایا جائے کہ سنتوں پر عمل دراصل رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے محبت کا عملی اظہار ہے۔ جو جتنا زیادہ سنتوں پر عمل کرتا ہے وہ اتنا ہی رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قریب ہوسکتا ہے۔

اسی طرح گھر میں سنتوں کا عملی ماحول بنایا جائے۔ مثلاً گھر میں آتے جاتے سلام ، مسنون دعاؤں کا اہتمام، نماز کی اہمیت، باپردہ رہنے کی ترغیب، سادگی اختیار کرنا، بڑوں کا احترام، چھوٹوں پرشفقت، صفائی ستھرائی، وقت کی پابندی، سچائی اور امانت داری جیسے اوصاف کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ اس طرح سنتیں صرف کتابوں تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ عملی زندگی میں بھی نظر آئیں گی۔

یاد رکھیں! بیٹیوں کی بہترین تربیت یہ نہیں کہ انہیں صرف دنیا میں کامیاب بنا دیا جائے بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ ان کے دل میں اللہ تعالیٰ، رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبت پیدا ہوجائے۔ اگر بیٹی سنتوں سے محبت کرنے والی، سنتیں سیکھنے والی اور سنتوں پر عمل کرنے والی بن جائے تو وہ اپنے لیے، اپنے والدین کے لیے اور پوری امت کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

لہٰذا ماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو سنتوں کی تعلیم دیں، سنتوں پر عمل کی ترغیب دیں، سنتوں کی عظمت ان کے دلوں میں بٹھائیں، دینی مطالعے کی عادت پیدا کریں، مدنی چینل اور مدنی مذاکرہ دیکھنے کی ترغیب دیں، مکتبۃ المدینہ کی کتب سے وابستہ کریں اور انہیں ایسے دینی ماحول میں پروان چڑھائیں جہاں سنتِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے محبت اور اس پر عمل زندگی کا مقصد بن جائے۔ یہی تربیت دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی کی ضامن ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* نگران عالمی مجلس مشاورت (دعوتِ اسلامی) اسلامی بہن


Share