صرف لشکر پر بارش
پیارے بچو! ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے معجزات صرف حیرت انگیز ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے لیے راحت، مدد اور اللہ پاک کی رحمت کے ظہور کا ذریعہ بھی تھے۔ آج ہم ایک ایسے ہی ایمان افروز معجزے کے بارے میں پڑھیں گے جو غزوۂ تبوک کے سفر میں ظاہر ہوا۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے عرض کی گئی کہ ہمیں غزوۂ تبوک کے کسی اہم لمحے کے بارے میں بتائیے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم غزوۂ عُسرت یعنی تبوک کے لیے شدید گرمی میں روانہ ہوئے تھے۔ ایک جگہ پڑاؤ ڈالا تو ہمیں ایسی شدید پیاس کا سامنا کرنا پڑا کہ ایسا لگتا تھا جیسے جان ہی نکل جائے گی۔ اس نازک موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی:یارسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! اللہ پاک نے آپ کی دعاؤں میں بڑی خیر رکھی ہے، ہمارے لیے دعا فرمائیے۔ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:کیا تم یہ چاہتے ہو؟ عرض کی گئی:جی ہاں۔ چنانچہ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے مبارک ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے۔ ابھی آپ نے ہاتھ نیچے بھی نہ کیے تھے کہ بادل نمودار ہوگئے، انہوں نے لشکر پر سایہ کرلیا اور پھر خوب بارش برسی۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے تمام برتن پانی سے بھر لیے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ بارش کا بادل صرف لشکر کے اوپر تھا اور اس سے آگے (پیچھے) نہیں گیا۔(مستدرک للحاکم، 1 / 384،حدیث: 582)
یہ حضور نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ایک عظیم الشان معجزہ ہے کہ صرف لشکرِ اسلام پر بارش ہوئی آگے (پیچھے) نہ بڑھی۔
اس سے معلوم ہوا کہ:
*حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شان و معجزے بیان کرنا صحابہ کے عمل سے ثابت ہے۔
*سخت ترین حالات میں بھی اللہ پاک کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
*مشکل وقت میں اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا کرنا مؤمن کا ہتھیار اور بہترین سہارا ہے۔
*اچھے مشورے کا فائدہ بسا اوقات پورے مجمع اور جماعت کو پہنچتا ہے۔
*بزرگوں سے دعا کروا نی چاہیے۔
*دعائے نبوی بارگاہِ الٰہی میں فوری طور پر قبول ہوتی ہے۔
*اجتماعی مشکلات کے وقت ہمیں باہمی ہمدردی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کی تکلیف سمجھنی چاہیے۔
*دین کی راہ میں آنے والی مشکلوں کے لیے تیار اور ثابت قدم رہنا چاہیے ۔
*پریشانی سے نکلنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔
*اللہ پاک جب چاہے بظاہر ناممکن نظر آنے والے حالات کو آسان بنا دیتا ہے۔
*اسباب اختیار کرنا اور آئندہ پیش آنے والی متوقع ضروریات کا پہلے ہی بندو بست کرنا توکل کے خلاف نہیں۔
*اگرچہ کسی چیز کی وقتی ضرورت پوری ہوجائے مگر پھر بھی اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ آئندہ کے لیے محفوظ رکھنا چاہیے خاص کر اللہ کی نعمتوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی
Comments