پریشانیاں دور کریں


پریشانیاں دور کریں


ہمارے پیارے نبی حضرت محمد  مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے  فرمایا:

(مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ )

یعنی جو شخص کسی مسلمان کی دنیا کی کوئی پریشانی دور کرے گا، اللہ پاک قیامت کے دن اس کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور فرمائے گا۔ (مسلم،  ص1110، حدیث: 6853)

پیارے بچّو! اس دنیا میں ہر انسان کو کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی مشکل، پریشانی یا مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کوئی بیمار ہو جاتا ہے، کسی پر قرض آ جاتا ہے، کسی کا کوئی عزیز وفات پا جاتا ہے، کوئی غربت اور تنگ دستی کا شکار ہو جاتا ہے تو کوئی کسی اور مشکل میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ایسے وقت میں اگر کوئی ہماری مدد کرے، ہمیں تسلی دےیا ہماری مشکل آسان کرنے کی کوشش کرے تو ہمارا دل خوش ہو جاتا ہے اور اس کے لیے بہت ساری نیک تمنائیں ہوتی ہیں۔

ہمارا پیارا دینِ اسلام ہمیں صرف اپنی فکر کرنے کا نہیں بلکہ دوسروں کے دکھ درد بانٹنے کا بھی درس دیتا ہے۔شروع میں لکھی حدیث پاک میں   یہی پیغام دیا گیا ہے ۔

پیارے بچّو! اگرچہ آپ ابھی چھوٹے ہیں لیکن پھر بھی بہت سے ایسے کام کر سکتے ہیں جن سے دوسروں کو راحت اور سکون ملے۔ مثلاً بیماروں کے لیے دعا کرنا،غم زدہ لوگوں کی دلجوئی کرنا، بوڑھوں کی مدد کرنا، راستہ بھولے ہوئے شخص کی راہنمائی کرنا، کسی ضرورت مند کی خبر اپنے والدین تک پہنچانا اور ہر ایک کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا۔ یہ سب کام اللہ پاک کو پسند ہیں۔

ہمارے پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   ساری دنیا کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   لوگوں  کی ضرورتیں پوری فرماتے  اور  تکالیف و  پریشانیاں  دور کرتے ۔ چنانچہ

صحابیِ رسول حضرت جابر رضی اللہ عنہ  کے والد شہید ہو گئے تھے اور ان پر قرض باقی تھا۔ (اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ پریشان تھے۔)  وہ بارگاہِ نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  میں حاضر ہوئے اور پریشانی عرض کی تو  نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم    ان کے کھجور کے ڈھیر کے  پاس تشریف لے گئے  پھر قرض خواہوں کو بلانے کا حکم دیا اور سارا قرض  ادا کر دیا   اور کافی کھجوریں بھی باقی بچ گئیں۔ (دیکھیے:بخاری، 2/247، حدیث: 2781)

اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  اپنے صحابہ کی مالی مشکلات اور پریشانیوں کے ازالے کے لیے بھی فکر فرمایا کرتے تھے۔

اللہ پاک کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کی پریشانیاں بھی دور فرماتے تھے۔ چنانچہ  

ایک سفر میں چند  لوگوں نے ایک چڑیا کے بچے اٹھا لیے۔ جب چڑیا واپس آئی تو اپنے بچوں کو نہ پا کر بے چین ہو کر پھڑپھڑانے لگی۔ نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے اس کی پریشانی دیکھی اور فرمایا:  اس چڑیا کو اس کے بچوں کی وجہ سے کس نے پریشان کیا ہے؟ اس کے بچے واپس کر دو۔(ابو داؤد، 3/75، حدیث: 2675)

دیکھا آپ نے! ایک چھوٹی سی چڑیا کی پریشانی بھی ہمارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے دیکھی نہ گئی۔

پیارے بچّو! اس واقعے سے معلوم ہوا کہ مسلمان کو جانوروں پر بھی ظلم نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کی ضرورتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔

پیارے بچّو! ہمیں بھی اپنے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی مبارک سیرت سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اگر کوئی بیمار ہو تو اس کے لیے دعا کریں۔ اگر کوئی غمگین ہو تو اسے تسلی دیں۔ اگر کوئی بوڑھا یا کمزور شخص مدد چاہے تو اس کی مدد کریں۔ اگر کسی جانور کو تکلیف پہنچ رہی ہو تو اسے بچانے کی کوشش کریں۔ اگر کسی پر کوئی مشکل آ جائے تو اپنے والدین یا بڑوں کو اطلاع دے کر اس کی مدد کا سامان کریں۔

 یاد رکھئے! دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے والے لوگ اللہ پاک کو بہت پسند ہیں۔

اللہ پاک ہمیں دوسروں کے کام آنے، ان کی پریشانیاں دور کرنے اور اپنے پیارے آقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کی مبارک سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی


Share