اسلام عزّتِ نفس کا محافظ
دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران مولانا محمد عمران عطّاری
تمام تر عزّتوں کا حقیقی اور ذاتی مالک اللہ کریم ہے۔عزّت و حرمت اور عظمت کے نہ ختم ہونے والے خزانے اسی مالک و مولا کے پاس ہیں،خود ارشادفرماتا ہے:
اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ
ترجمۂ کنزُالعِرفان:بیشک تمام عزتوں کا مالک اللہ ہے۔([1])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
وہی اپنے خزانوں سے جسے چاہتا ہے عزّت عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے خود ارشاد فرماتا ہے:
وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُؕ-
ترجمۂ کنزُالعِرفان: توجسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔([2])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
غلاموں کو بادشاہی کا تاج وہی پہناتا ہے، غریب نادار اور بے کس و بے بس کو عزّت و عظمت کے زیور سے وہی آراستہ کرتا ہے۔اسلام سے پہلے لوگوں نے عزت کے الگ الگ معیار بنا رکھے تھے۔مال و دولت، حسن و جمال،ہنر وکمال،عہدہ و منصب،حسب و نسب وغیرہ عزّت کا معیار ہوا کرتے تھے۔کچھ لوگوں کا عزت حاصل کرنے کا طریقہ یوں بیان کیا گیا ہے:
الَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَؕ-اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ(۱۳۹)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں۔ کیا یہ ان کے پاس عزت ڈھونڈتے ہیں ؟ تو تمام عزتوں کا مالک اللہ ہے۔ ([3])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
جو عزّت کا طلب گار ہو !
کفار کا طریقہ یہ تھا کہ وہ بتوں سے عزت طلب کیا کرتے تھے اور منافقین کافروں کے پاس عزت ڈھونڈتے تھےجبکہ اللہ کریم عزّت پانے کا طریقہ خود ارشاد فرماتا ہے:
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعًاؕ-
ترجمۂ کنزُالعِرفان:جو عزت کا طلب گار ہو توساری عزت اللہ ہی کے پاس ہے۔ ([4])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیت میں اللہ پاک نے واضح فرما دیا کہ دنیا اور آخرت میں صرف وہی عزت کا مالک ہے، جسے چاہے عزت دے، لہٰذا جو عزت کا طلب گار ہو وہ اللہ تعالیٰ سے عزت طلب کرے کیو نکہ ہر چیز اس کے مالک ہی سے طلب کی جاتی ہے اور یہ بات قطعی ہے کہ حقیقی عزت طلب کرنے کا ذریعہ ایمان اور اعمالِ صالحہ ہیں۔([5])
عزّت صرف اُسے ملے گی:
عزّتو ں کے حقیقی مالک نے اسلام کو ایسی عزّت عطا فرمائی ہے کہ جو اس کے دامن سے وابستہ ہو جاتا ہے اس کی جان و مال عزّت و حرمت والے ہو جاتے ہیں بلکہ اس کی عزّت کو ایسا تحفظ عطا ہو جاتاہے کہ اب اس میں ہاتھ ڈالنے والا دنیا میں سزا اور آخرت میں عذاب کا حقدار بن جاتا ہے۔ اللہ پاک نے ہر مسلمان کو عزَّت سے نوازا ہے، کوئی غریب ہے یا امیر، گورا ہے یا کالا، ہر وہ انسان جس کے دِل میں ایمان کا نور ہے، جس کے سر پر اسلام کا تاج جگمگا رہا ہے اس کے سر پر اللہ کریم نے عزّت کا عمامہ بھی سجا دیا ہے جیسا کہ اللہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠(۸)
ترجَمہ کنزُ الایمان: اور عزّت تو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لیے ہےمگر منافقوں کو خبر نہیں۔([6])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیتِ کریمہ میں صاف صاف فرما دیا کہ عزَّت اللہ رَبُّ العزَّت کی ہے، اس کی عطا سے اس کے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم عزّتوں والے ہیں اور محبوبِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے میں آپ کا ہر غُلام عزّت والا ہے۔ بلکہ کائنات میں عزت کا پیمانہ ہی ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذات ِ مبارکہ ہے جو آپ سے جتنا قریب ہے وہ اتنا ہی زیادہ معزز ہے چنانچہ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ قریب تھے تو اُمت میں سب سے معزز بھی وہی ہیں اور ابوجہل سب سے زیادہ دور تھا اس لئے کفار میں سب سے خبیث ترین بھی وہی قرار پایا۔تفسیر صراطُ الجنان میں اسی آیت کے تحت ہے: (1)ہر مؤمن عزَّت والا ہے، کسی مسلِم قوم کو ذلیل جاننا یا اسے کمین کہنا حرام ہے (2)مؤمن کی عزَّت ایمان اور نیک اعمال سے ہے، روپیہ پیسہ سے نہیں (3)مؤمن کی عزَّت دائمی ہے، فانی نہیں، اسی لیے مؤمن کی لاش اور قبر کی بھی عزّت کی جاتی ہے (4)جو مؤمن کو ذلیل سمجھے، وہ اللہ پاک کے نزدیک ذلیل ہے، بندہ غریب ہو، مسکین ہو مگر ہو مسلمان تو وہ عزّت والا ہے جبکہ کوئی کتنا ہی امیر ہو، مالدار ہو مگر ہو کافِر تو عزّت والا نہیں بلکہ جانوروں سے بھی بدتَر ہے۔([7])اسلام اپنے ماننے والوں کو صرف عزت عطا ہی نہیں فرماتا بلکہ عطا کی ہوئی عزت کی حفاظت بھی فرماتا ہے۔جب کوئی آدمی اسلام کے دامن سے وابستہ ہو گیا تو اب اس کی ہر چیز محترم ہو گئی۔جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو سلام کرتا ہے تو وہ گویا اعلان کرتا ہے کہ میں آپ کو امن دیتا ہوں، آپ کی جان، مال، عزت آبرو میری طرف سے محفوظ ہیں۔ ان میں سے کسی چیز کو نقصان پہنچانا یا اس میں مداخلت کرنا مجھ پر حرام ہے جیسا کہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں: سلام کرنے میں یہ نیت ہو کہ اس کی عزت و آبرو اور مال سب کچھ اس کی حفاظت میں ہے، ان چیزوں سے تعرض کرنا حرام ہے۔([8])بے شمار احادیثِ مبارکہ میں بھی مسلمان کا عزت دار ہونا بیان کیا گیا ہے،جیسا کہ
فرشتو ں سے زیادہ عزّت والا:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: مومن اللہ پاک کے نزدیک فرشتوں سے زیادہ عزت رکھتا ہے۔([9]) اس کی وجہ یہ ہے کہ فرشتے اللہ پاک کی بندگی پرمجبور ہیں کیونکہ ان کی فطرت ہی یہ ہے،ان میں عقل توہے لیکن شہوت نہیں اور جانوروں میں شہوت ہے لیکن عقل نہیں جبکہ آدمی میں شہوت و عقل دونوں ہیں تو جس نے عقل کو شہوت پر غالب کیا وہ فرشتوں سے افضل ہے اور جس نے شہوت کو عقل پر غالب کیا وہ جانوروں سے بدتر ہے۔([10])
مسلمان کی عزّت:
جو کوئی اسلام کے دامن میں آ گیا وہ عزّت پا گیا،عزّت بھی کیسی عظمت و شان والی کہ ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کعبہ شریف کو مخاطب کر کے فرمایا: اے کعبہ تُو کیسا پاکیزہ ہے! تیری خوشبو کیسی پاکیزہ ہے! تُو کیسا عظیم ہے! تیری عزَّت بھی کتنی بلند ہے! اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی جان ہے، بےشک ایک مؤمن کی عزَّت اللہ پاک کے ہاں تیری عزَّت سے زیادہ ہے۔([11])
مسلمان کی عزّت دوسرے مسلمان پر حرام ہے:
اللہ پاک کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہٗ وَمَالُہٗ وَعِرْضُہٗ یعنی ہر مسلمان کا خون،مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔([12]) حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ اِس حدیثِ پاک کی شرح میں لکھتے ہیں:کوئی مسلمان کسی مسلمان کا مال بغیر اس کی اجازت نہ لے، کسی کی آبروریزی (یعنی بےعزّتی) نہ کرے، کسی مسلمان کو ناحق اور ظُلمًا قتل نہ کرے، کہ یہ سب سخت جُرْم ہیں۔([13])مفتی صاحب ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: مسلمان کو نہ تو دل میں حقیر جانو ! نہ اُسے حقارت کے الفاظ سے پکارو ! نہ ہی بُرے لَقَب سے یاد کرو ! نہ اس کا مذاق بناؤ !آج ہم میں یہ عیب بہت ہے، پیشوں، نسبوں، یا غربت و اِفلاس کی وجہ سے مسلمان بھائی کو حقیر جانتے ہیں کہ وہ پنجابی ہے، وہ بنگالی ہے، وہ سندھی ہے، وہ سرحدی ہے، اسلام نے یہ سارے فرق مٹا دیئے۔ شہد کی مکھی مختلف پھولوں کے رس چوس لیتی ہے تو ان کا نام شہد ہوجاتا ہے۔ یوں ہی جب حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا دامن پکڑ لیا تو سب مسلمان ایک ہوگئے، حبشی ہو یا رُومی! ([14])
سود سے بڑا گُنَاہ:
نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان سے دریافت فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پاک کے نزدیک سود سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان نے عرض کیا: اللہ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم یعنی اللہ پاک اور اس کا رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بہتر جانتے ہیں۔ تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ پاک کے نزدیک سود سے بڑھ کر گناہ مسلمان کی عزت کو حلال سمجھنا ہے۔([15])
مسلمان کو بےعزّت کرنا حرام ہے:
حَجَّۃُ الوَدَاع کے موقع پر اللہ پاک کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صحابۂ کرام کو ایک خطبہ ارشاد فرمایا، اس خطبے میں آپ نے صحابۂ کرام کو مخاطب کر کے فرمایا: اَیُّ شَہْرٍ ہٰذَا؟یہ کون سا مہینا ہے؟ ہم نے عرض کی :اَللَّهُ وَرَسُولُهُ اَعْلَمُ، اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ پھر آپ کچھ دیر خاموش رہے تو ہمیں گمان ہوا کہ شاید آپ اس مہینے کا کوئی دوسرا نام رکھ دیں گے۔ پھر فرمایا : اَلَيْسَ ذُوالحِجَّةِ؟کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟ہم نے عرض کی :جی ہاں۔ پھر فرمایا : فَاَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے عرض کی : اَللَّهُ وَرَسُولُهُ اَعْلَمُ، اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ کچھ دیر خاموش رہے، ہمیں پھر یہی گمان ہوا کہ شاید آپ اس شہر کا کوئی اورنام رکھ دیں گے۔ پھر ارشاد فرمایا: کیا یہ شہرِ حرام نہیں؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں۔پھر فرمایا :یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کی : اللَّهُ وَرَسُولُهُ اَعْلَمُ، اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ کچھ دیر خاموش رہے، ہمیں پھر وہی گمان ہوا کہ شاید آپ اس دن کا کوئی دوسرا نام رکھ دیں گے۔ پھر فرمایا: کیا یہ یومِ نحر یعنی قربانی کا دن نہیں؟ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ پھر فرمایا: فَاِنَّ دِمَاءَكُمْ وَاَمْوَالَكُمْ، وَاَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هٰذَا فِي بَلَدِكُمْ هٰذَا، فِي شَهْرِكُمْ هٰذَا یعنی بےشک تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسےتمہاراآج کا دن، تمہارے اس شہر اور تمہارے اس مہینے میں حرام ہے۔ ([16]) حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: حدودِ حرم میں جیسے نیکی ایک کی ایک لاکھ بن جاتی ہے، ویسے ہی گُنَاہ بھی ایک کا لاکھ ہے، اس لیے حُضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جیسے یہاں کا گُنَاہ دوسرے مقامات کے گُنَاہ سے سخت تَر ہے، ایسے ہی مسلمان کے خون، مال، آبرُو ظلماً برباد کرنا سخت تَر ہے۔([17]) تمام آیات و احادیث کے مطالعے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اسلام نے انسان کو وہ عزت عطا کی ہے کہ جس کی مثال دنیا کے کسی اور نظام میں نہیں ملتی۔ اسلام رنگ، نسل، قومیت اور مال و دولت کے فرق کو مٹا کر تقویٰ اور ایمان کو عزت کا معیار قرار دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نہ صرف انسان کو عزت دیتا ہے بلکہ اس کی جان، مال اور آبرو کی حفاظت کو بھی لازم قرار دیتا ہے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک دوسرے کی عزت و حرمت کا خیال رکھیں تاکہ معاشرے میں محبت، امن اور اخوت کو فروغ مل سکے۔

Comments