رسولِ رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو خوش کرنے والے اعمال
حضور جانِ کائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہمارے لیے اللہ پاک کی سب سے بڑی نعمت ہیں، اللہ پاک کی توفیق سے نیک اعمال کرتے ہوئے حضور کے مبارک دل کو خوشی پہنچانا اور حضور کی رضا حاصل کرنا دنیا و آخِرت میں کامیابی کے ساتھ ساتھ جنّت میں جانے کا ذریعہ بھی ہے جبکہ اس کے برعکس حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قلبِ مبارک کو تکلیٖف پہنچانا دنیا و آخِرت کی بربادی اور جہنّم میں داخلے کا سبب ہے۔آئیے! چند احادیثِ مبارکہ پڑھتے ہیں جن میں ان اعمال کا ذکر ہے جن سے قلبِ حضورِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو خوشی حاصل ہوئی یا حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نیک اعمال پر خوشی کا اظہار فرمایا۔
کسی کی ضرورت پوری کرنے پر خوشی:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو میرے کسی اُمّتی کی حاجت پوری کرے اور اس سے اس شخص کی خوشی چاہتا ہو تو اس نے مجھے خوش کیا اور جس نے مجھے خوش کیا اس نے اللہ پاک کو خوش کیا اور جس نے اللہ پاک کو خوش کیا تو اللہ پاک اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ ([1])
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ نے اس حدیثِ پاک کی بہت ہی ایمان افروز تشریح بیان فرمائی ہے، فرماتے ہیں: خدائے پاک کی رِضا (و خوشی) صرف حضور (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی رِضا (و خوشی ) میں ہے، بڑی سے بڑی نیکی جس سے حضور راضی نہ ہوں اُس سے خدائے پاک ہرگز راضی نہ ہوگا۔([2])
ایک روایت میں یوں بھی آیا کہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو شخص میرے بعد کسی مسلمان کو خوشی پہنچائے تو اس نے مجھے میرے مزار میں خوشی پہنچائی اور جو مجھے میرے مزار میں خوشی پہنچائے گا اللہ پاک قِیامت کے دن اسے خوشی عطا فرمائے گا۔([3])
اُمّت کی نیکیوں کی خبر ملنے پر خوشی:
حضرت عبدُاللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے آخِری رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: میری حیات(یعنی زندگی) تمہارے لیے بہتر ہے کہ تم گفتگو کرتے ہو اور تمہارے لیے گفتگو کی جاتی ہے، اور جب میرا وصال (یعنی انتقال)ہوجائے گا تو یہ بھی تمہارے لیے بہتر ہے کہ تمہارے اعمال مجھ پر پیش ہوں گے، اگر میں بھلائی دیکھوں گا تو میں اللہ پاک کی حمد و ثنا (یعنی پاکی اور تعریف) بیان کروں گا، اگر بُرائی دیکھوں گا تو میں تمہارے لیے اللہ پاک سے مغفرت طلب کروں گا۔([4])
حدیث شریف کے الفاظ ’’ تم گفتگو کرتے ہو اور تمہارے لیے گفتگو کی جاتی ہے ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ تم مجھ سے وہ باتیں بیان کرو جو تمہیں مشکل معلوم ہوں اور میں تمہیں وہ باتیں بتاؤں جو تمہاری اُلجھن دُور کر دیں اور تمہیں درجۂ کمال تک پہنچا دیں۔([5])
اے عاشقانِ رسول! نیکی دیکھ کر اللہ پاک کی حمد و ثنا اور تعریف بیان کرنا حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے خوش ہونے کی دلیل ہے، جیسا کہ حضرت علّامہ سمہودی رحمۃُ اللہ علیہ بھی مسند بزار کی روایت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: بے شک ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنی اُمّت کے نیک اعمال دیکھ کر خوش ہوتے اور بُرے اعمال دیکھ کر غمگین ہوتے ہیں۔([6])
ایک روایت میں ہےکہ غمزدوں کے غم دور کرنے والے خوش اَخلاق آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا: پیر اور جمعرات کو اللہ پاک کے حضور اعمال پیش ہوتے ہیں اور انبیائے کرام علیہمُ السّلام اور ماں باپ کے سامنے ہر جمعہ کو۔ وہ نیکیوں پر خوش ہوتے ہیں اور ان کے چہروں کی صفائی و تابش(یعنی چمک دمک) بڑھ جاتی ہے ، تو اللہ پاک سے ڈرو اور اپنے وفات پانے والوں کو اپنے گُناہوں سے رَنج (یعنی دکھ، تکلیف) نہ پہنچاؤ۔([7])
صدقہ و خیرات پر خوشی:
صحابیِ رسول حضرت جَریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم صبح سویرے حضور نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس حاضر تھے کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں قبیلہ مُضِر کے لوگ آئے جو لباس کی کمی کے باعث کمبل لپیٹے ہوئے تھے اور تلواریں گلے میں ڈالے ہوئے تھے،ان کا فاقہ (یعنی تنگدستی) دیکھ کر حضورِ انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارک چہرہ کا رنگ تبدیل ہوگیا، آپ اندرتشریف لے گئے پھر باہر تشریف لائے، حضرت بلال کو حکم دیا، انہوں نے اَذان و تکبیر (یعنی اقامت) کہی پھر حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نماز پڑھی اور خطبہ دیا اور اس میں یہ آیاتِ مبارکہ تلاوت فرمائیں:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءًۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا(۱)
ترجَمۂ کنزالایمان: اے لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سےمرد و عورت پھیلا دیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے۔([8])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ(۱۸)
ترجَمۂ کنزالایمان: اللہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ کل کے لیے کیا آ گے بھیجا اور اللہ سے ڈروبے شک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔([9])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
پھر ارشاد فرمایا: انسان اپنے دینار درہم اپنے کپڑے گندم وجَو کے صاع میں سے خیرات کرے حتی کہ فرمایا: کھجور کی پھانک یا ٹکڑا ہی سہی۔ راوی فرماتے ہیں کہ ایک انصاری تھیلی لائےجس کے وزن سے ان کا ہاتھ تھکا جاتا تھا بلکہ تھک ہی گیا پھر لوگوں کا تانتا بندھ گیا حتی کہ میں نے کھانے اورکپڑے کے ڈھیر دیکھے، پس میں نے حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا چہرۂ انور دیکھا کہ خوشی سے چمک رہا ہے گویا سونے کی ڈلی ہے۔([10])
شرح: (نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے چہرے پر یہ چمک)فقرا کی حاجت روائی اور صحابہ کی خیرات پر خوشی کی وجہ سے(تھی۔ اوریہ بھی) معلوم ہوا کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنی اُمّت کی نیکیوں پر خوش ہوتے ہیں اور جو اﷲ اور رسول کو راضی کرنا چاہے وہ فقیروں کی حاجت پوری کرے۔([11])
اے عاشقانِ رسول! رضائے الٰہی کوپیشِ نظر رکھتے ہوئے اور اُخروی فائدے کے حُصول کے لیے اگر کوئی شخص اپنے پیر و مرشد یا اپنے ماں باپ یا اپنے استاذ وغیرہ کو خوشی پہنچانے کے لیے کوئی کام کرے تو یہ اخلاص کے منافی نہیں ہے اور یہ ایسا عمل ہے جس سے ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بھی خوشی حاصل ہوتی ہے۔
اللہ پاک ہمیں اپنے آقا و مولیٰ، مکّی مدنی مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو خوش کرنے والے اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ اصلاحی کتب، المدینۃ العلمیہ، کراچی
Comments