وطن کی رونق مدارس سے ہے

وطن کی رونق مدارس سے ہے



وطن محض زمین کے ایک ٹکڑے کا نام نہیں بلکہ وہ ایک نظریہ، ایک تہذیب، ایک تاریخ، ایک شناخت اور ایک مشترکہ شعور کا عنوان ہے۔ کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے بلند و بالا محلات، وسیع شاہراہوں، جدید اسلحہ خانوں یا مضبوط معیشت میں ہی پوشیدہ نہیں ہوتی بلکہ اس کی حقیقی قوت میں اس قوم کے ایمان، کردار، علم، اخلاق اور فکری استحکام کا بھی اہم حصہ ہوتا ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جو کسی ریاست کو صرف ایک جغرافیہ نہیں بلکہ ایک زندہ اور پائیدار قوم بنا دیتے ہیں۔ اگر یہ بنیادیں کمزور ہوجائیں تو ترقی یافتہ   ریاستیں بھی اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں، اور اگر یہ بنیادیں مضبوط ہوں تو محدود وسائل رکھنے والی قومیں بھی دنیا کی قیادت کا منصب سنبھال لیتی ہیں۔

پاکستان کا نظریاتی تشخص اور مدارس کی ضرورت

پاکستان کا قیام بھی محض ایک سیاسی یا جغرافیائی واقعہ ہی  نہیں تھا بلکہ یہ ایک نظریاتی انقلاب بھی  تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اس خطۂ زمین کا مطالبہ اس لیے نہیں کیا تھا کہ انہیں صرف ایک الگ حکومت مل جائے، بلکہ ان کی خواہش تھی کہ انہیں ایسی ریاست نصیب ہو جہاں اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنا آسان ہو، قرآن و سنت کی تعلیمات کو فروغ ملے، اسلامی تہذیب محفوظ رہے اور آنے والی نسلیں اپنی دینی و ملی شناخت کے ساتھ پروان چڑھ سکیں۔ اسی لیے پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریے پر رکھی گئی، اور اس نظریے کی حفاظت کا                ہَراوَل دَستَے کےفریضہ ان اداروں نے انجام دیا جنہیں ہم ”مدارسِ دینیہ“ کے نام سے جانتے ہیں۔

وطن کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ:

جب ہم یومِ آزادی کے موقع پر وطن کی ترقی، سلامتی اور خوشحالی کی بات کرتے ہیں تو ہمارے سامنے عسکری اور انتظامی ادارے  ، کسان، مزدور، صنعت کار، اساتذہ اور دیگر قومی اداروں کی خدمات ضرور آتی ہیں، لیکن ایک ایسا طبقہ بھی ہے جس نے خاموشی کے ساتھ نسل درنسل اس ملک کے نظریاتی وجود کی حفاظت کی ہے۔ یہ طبقہ مدارسِ اسلامیہ کا ہے۔ اگر پاکستان جسم ہے تو اس کی روح اسلام ہے، اور  مدارس اس روح کی آبیاری کرنے والے مراکز ہیں۔ اسی لیے یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ ”وطن کی رونق مدارس سے ہے۔

اس رونق یعنی مدارس کا دائرہ فکر، اخلاق، تعلیم، دعوت، خدمت، اتحاد، برداشت، کردار سازی، رفاہِ عامہ اور قومی استحکام تک پھیلا ہوا ہے۔ مدارس نے ہر دور میں امت کو علماء، ائمہ، خطباء، مفسرین، محدثین، مفتیانِ کرام، معلمین اور مبلغین عطا کیے، جنہوں نے پورے معاشرے کی فکری و اخلاقی تعمیر کی ذمہ داری سنبھالی۔

برصغیر میں دینی تشخص کے محافظ:

برصغیر کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مدارس کی خدمات بہت نمایاں ہیں۔ جب سیاسی اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا اور غیرمسلموں نے مسلمانوں کی دینی، تعلیمی اور تہذیبی شناخت کو مٹانے کی منظم کوشش کی تو انہی مدارس نے ایمان کی شمع کو بجھنے نہیں دیا۔ غیراسلامی  نظامِ تعلیم مسلمانوں کو اپنی تہذیب سے دور کرنے کی کوشش کر رہا تھا، ایسے میں مدارس نے قرآن و حدیث، فقہ، عربی ادب اور اسلامی علوم کی تدریس جاری رکھ کر مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو محفوظ رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے سنجیدہ محققین اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ اگر مدارس کا وجود نہ ہوتا تو برصغیر کے مسلمانوں کی دینی شناخت    مسخ ہوچکی ہوتی۔

تحریکِ پاکستان میں علماء و مدارس کا کردار:

یہ حقیقت بھی ناقابلِ انکار ہے کہ پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں علماء اور مدارس کے   کثیر  اساتذہ و طلبہ نے مختلف انداز سے حصہ لیا۔ بعض نے سیاسی میدان میں قیادت کی، بعض نے عوام میں شعور بیدار کیا، بعض نے تحریکِ آزادی کی اخلاقی اور دینی بنیادیں مضبوط کیں، اور بعض نے مسلمانوں کو یہ احساس دلایا کہ ایک اسلامی ریاست ان کی دینی ضرورت ہے۔

قیامِ پاکستان کے بعد مدارس کی قومی خدمات:

قیامِ پاکستان کے بعد مدارس کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی۔ اب انہیں صرف دین کی حفاظت نہیں بلکہ اسلامی ریاست کے نظریاتی تشخص کو بھی محفوظ رکھنا تھا۔ چنانچہ مدارس نے ملک کے ہر کونے میں قرآنِ کریم کی تعلیم، حدیثِ نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تدریس، فقہِ اسلامی کی اشاعت، عربی زبان کی ترویج، ائمہ و خطباء کی تیاری، مفتیانِ کرام کی تربیت، دینی لٹریچر کی اشاعت اور عوام کی مذہبی راہنمائی کا عظیم سلسلہ جاری رکھا۔ اگر آج پاکستان کی لاکھوں مساجد میں اذان     گونج رہی ہے اور  نمازیں باجماعت ادا ہو رہی ہیں، جمعہ کے خطبات دیے جا رہے ہیں، رمضان المبارک میں تراویح میں قرآن سنایا جا رہا ہے، نکاح، جنازے، وراثت، زکوٰۃ، حج اور دیگر دینی معاملات میں شرعی رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے تو اس کے پیچھے مدارس ہی کی شبانہ روز محنت کارفرما ہے۔

غریب اور محروم طبقات کا تعلیمی سہارا:

یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ مدارس نے ہمیشہ معاشرے کے محروم طبقات کو تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کیے ہیں۔ ہزاروں ایسے بچے، جو غربت کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کرسکتے، مدارس میں رہائش، خوراک، لباس اور تعلیم کی سہولیات حاصل کرکے معاشرے کے مفید افراد بنتے ہیں۔ اس اعتبار سے مدارس صرف تعلیمی ادارے نہیں بلکہ ایک عظیم سماجی فلاحی نظام بھی ہیں، جو لاکھوں خاندانوں کا سہارا بنے ہوئے ہیں۔ اگر یہ ادارے نہ ہوں تو بے شمار باصلاحیت نوجوان تعلیم سے محروم رہ جائیں۔

عصرِ حاضر میں مدارس کی اہمیت:

عصرِ حاضر میں جب دنیا مادیت، اخلاقی انتشار، خاندانی نظام کی کمزوری، منشیات، فحاشی، انتہا پسندانہ انفرادیت اور روحانی بے چینی جیسے مسائل کا شکار ہے، مدارس انسان کو اس کے رب سے جوڑنے، اخلاق سے آراستہ کرنے اور زندگی کو مقصد عطا کرنے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ وہ یہ پیغام دیتے ہیں کہ ترقی صرف ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ اخلاق سے بھی ہوتی ہے، خوشحالی صرف دولت سے نہیں بلکہ کردار سے بھی حاصل ہوتی ہے، اور آزادی صرف سیاسی خودمختاری کا نام نہیں بلکہ فکری و روحانی آزادی بھی اس کا لازمی حصہ ہے۔

یومِ آزادی اور مدارس کو خراجِ تحسین:

اسی لیے جب ہم یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان کی تعمیر و ترقی کی بات کرتے ہیں تو ہمیں ان اداروں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے جنہوں نے خاموشی سے اس وطن کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی، نئی نسل کے ایمان کی آبیاری کی، قرآن و سنت کی تعلیم کو عام کیا، مساجد کو آباد رکھا، عوام کی دینی راہنمائی کی، اور اسلامی تہذیب کے چراغ کو روشن رکھا۔

مدارس اور فلاحی خدمات:

پاکستان کے بے شمار مدارس ایسے ہیں جو یتیم بچوں کی کفالت، مستحق طلبہ کی تعلیم، غریب خاندانوں کی امداد، رمضان المبارک میں راشن کی تقسیم، قربانی کے گوشت کی تقسیم، اجتماعی افطار، قدرتی آفات کے متاثرین کی امداد اور دیگر رفاہی منصوبوں میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔

سیلاب، زلزلے، وبائی امراض یا دیگر قومی آفات کے مواقع پر مدارس کے اساتذہ اور طلبہ نے ہمیشہ رضاکارانہ خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے متاثرین کی امداد، خوراک کی فراہمی، عارضی رہائش، طبی کیمپوں میں معاونت اور عوام کی اخلاقی و روحانی دلجوئی میں بھرپور حصہ لیا ہے۔ اس طرح مدارس صرف علم کے مراکز نہیں بلکہ خدمتِ انسانیت کے مراکز بھی ہیں۔

مدارس کی دنیا میں دعوتِ اسلامی کے جامعات المدینہ اور مدارس المدینہ کا ایک خاص مقام ہے جنہوں  نے ہمیشہ ایسی نسل کی تربیت پر توجہ دی ہے جو دینی علوم سے آراستہ  ہونے کے ساتھ ساتھ  اپنے وطن سے محبت کرنے والی، قانون کا احترام کرنے والی، معاشرے کے لیے مفید اور خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار ہو۔ ان اداروں میں طلبہ کو ابتدا ہی سے یہ شعور دیا جاتا ہے کہ وطن سے محبت، معاشرے کی بھلائی، امن و امان کا قیام، عوامی حقوق کا احترام اور ملکی قوانین کی پابندی ایک ذمہ دار شہری کی بنیادی صفات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان تعلیمی اداروں سے ہمیشہ تعمیرِ وطن، ترقیِ وطن، قومی وحدت اور معاشرتی استحکام کا مثبت پیغام سامنے آیا ہے۔

 قدرتی آفات میں ان کے طلبہ، اساتذہ اور علماء ہمیشہ خدمتِ خلق کے جذبے کے ساتھ پیش پیش رہے ہیں۔ سیلاب، زلزلہ اور دیگر آفات کے دوران امدادی سرگرمیوں میں شرکت، متاثرین تک راشن، ضروری سامان اور دیگر امدادی اشیاء پہنچانا، بحالی کے مختلف مراحل میں تعاون کرنا اور متاثرہ خاندانوں کی دلجوئی کرنا ان خدمات کا روشن باب ہے۔ اسی طرح تھیلیسیمیا سمیت دیگر مریضوں کے لیے خون کے عطیات کی مہمات میں بھی دعوتِ اسلامی کے وابستگان اور طلبہ و اساتذہ بھرپور انداز میں حصہ لیتے رہے ہیں، جس سے انسانی جانوں کو بچانے کے اسلامی جذبے کی عملی تصویر سامنے آتی ہے۔

اس کے علاوہ شجرکاری، عوامی آگاہی، اخلاقی اصلاح، امن و امان کے فروغ اور دیگر سماجی خدمات میں بھی دعوتِ اسلامی کے جامعات المدینہ اور مدارس المدینہ سے وابستہ طلبہ و اساتذہ اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

مدارس کے بارے میں بعض غلط فہمیوں کا علمی جائزہ:

بدقسمتی سے بعض   نادان لوگوں   میں مدارس کے بارے میں ایسی آراء بھی پائی جاتی ہیں جو محدود مشاہدے، جزوی معلومات یا منفی پروپیگنڈے پر مبنی ہوتی ہیں۔ کسی بھی ادارے یا طبقے کے بارے میں رائے قائم کرتے وقت انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ اس کی مجموعی خدمات کو سامنے رکھا جائے۔

اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جیسے ہر شعبۂ زندگی میں بہتری کی گنجائش موجود ہوتی ہے، اسی طرح مدارس بھی وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنے انتظامی، تعلیمی اور تحقیقی نظام میں مزید ترقی کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ اصلاح باہمی تعاون، خیر خواہی اور مثبت انداز سے ہونی چاہیے، الزام تراشی یا بداعتمادی سے مثبت نتائج ہرگز حاصل نہیں ہوسکتے۔

 روشن پاکستان کی ضمانت:

پاکستان اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، جسے بے شمار قربانیوں، دعاؤں اور جدوجہد کے بعد حاصل کیا گیا۔ یومِ آزادی ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ وطن کی محبت صرف نعروں اور تقریبات کا نام نہیں بلکہ اس نظریے کی حفاظت بھی وطن سے محبت کا لازمی تقاضا ہے جس کی بنیاد پر پاکستان وجود میں آیا۔

آئیے! اس یومِ آزادی پر ہم یہ عہد کریں کہ ہم پاکستان کی ترقی، استحکام اور نظریاتی شناخت کے تحفظ کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں گے، علماء اور مدارس کی علمی و تربیتی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے، قومی وحدت کو فروغ دیں گے، اختلاف کے بجائے اتفاق، نفرت کے بجائے محبت اور انتشار کے بجائے اتحاد کو اپنا شعار بنائیں گے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ایم فل اسکالرعلوم اسلامیہ، ایڈیٹر ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی


Share