رسول اللہ ﷺ کا اندازِ ایفائے عہد


رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا اندازِ ایفائے عہد



رسولِ اکرم، نورِ مجسم، شاہِ بنی آدم، رحمۃٌ للعالمین حضرت محمدِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حیاتِ طیبہ کا ہر گوشہ انسانیت کے لیے مشعلِ راہ اور ہر ادا  رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے عظیم و جلیل اوصاف میں سے ایک نمایاں وصف ”ایفائے عہد“ بھی ہے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سچائی، امانت اور ایفائے عہد کا ایسا بلند معیار قائم فرمایا کہ دوست تو دوست، دشمن بھی آپ کی صداقت اور وعدہ نبھانے کے معترف تھے۔ اعلانِ نبوت سے قبل ہی آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ”الصادق“ اور ”الامین“ کے مبارک القابات سے یاد کیا جانے لگا تھا اور بعد از اعلانِ نبوت بھی آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہر حال میں اپنے عہد وپیمان کی پاسداری فرما کر یہ ثابت کیا کہ وعدہ وفائی اخلاقی خوبی کے ساتھ ساتھ ایمانِ کامل اور حسنِ کردار کی روشن علامت ہے۔

عہد اور نبوی تعلیمات:

رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے وعدہ خلافی کو سنگین جرم قرار دیا اور اس کے بھیانک نتائج سے خبردار کیا۔

آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: لَا دِيْنَ لِمَنْ لَّا عَهْدَ لَهٗ یعنی اس کا کوئی دین نہیں جو اپنے وعدے کو پورا نہیں کرتا۔ ([1])

نفاق کی علامات بیان کرتے ہوئے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ: اِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ، وَاِذَا اُؤْتُمِنَ خَانَ ترجمہ:منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔([2])

عہد شکنی کرنے والوں کے بارے میں فرمایا:يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهٖ ترجمہ:قیامت کے دن ہر وعدہ توڑنے والے کے لیے ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا جس سے اسے پہچانا جائے گا۔([3])

آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے وعدہ خلافی کے دنیوی نتائج بھی بیان فرمائے۔چنانچہ فرمایا:مَا نَقَضَ قَوْمٌ الْعَهْدَ قَطُّ اِلَّا كَانَ الْقَتْلُ بَيْنَهُمْ ترجمہ: جو قوم بھی نقضِ عہد کی مرتکب ہو، ان میں خانہ جنگی شروع ہو جاتی ہے۔([4])

تاریخ کا مطالعہ کریں تو اس حدیث کی سچائی واضح نظر آتی ہے۔ جن قوموں نے آپسی معاہدوں کو پاؤں تلے روندا، وہ آپس میں ہی ٹکرائیں اور تباہ ہوئیں۔

ایفائے عہد کے نبوی انداز:

ایفائے عہد کے جو انداز  حضور نبیِ رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک زندگی میں ملتے ہیں ان کی مثال لانا بھی ناممکن ہے۔ آئیے! ذیل میں رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اندازِ ایفائے عہد کی جھلکیاں ملاحظہ کیجیے:

تین دن تک انتظار:

اعلانِ نبوت سے پہلے کا ایک واقعہ ہے جو ایفائے عہد کے سلسلے میں سونے کے حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔

حضرت عبداللہ بن ابی الحمساء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبوت سے پہلے میں نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ایک چیز خریدنے کا معاملہ کیا۔ ادائیگی کی کچھ رقم میرے پاس کم پڑ گئی تو میں نے عرض کیا کہ آپ یہیں ٹھہریں، میں گھر سے بقیہ رقم لے کر آتا ہوں۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے منظور فرما لیا۔ لیکن ادھر میں گھر پہنچا تو معاملہ بھول گیا۔ تین دن گزر گئے۔ پھر اچانک یاد آیا تو دوڑتا ہوا واپس آیا۔ دیکھا تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تین دن سے وہیں انتظار فرما رہے تھے! آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صرف یہ فرمایا:اے نوجوان! تم نے تو مجھ پر بڑی مشقت ڈال دی، میں تین روز سے تمہارے انتظار میں یہیں ہوں۔([5])

اس واقعے میں سوچنے والے کے لیے بہت کچھ ہے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یہ نہیں سوچا کہ وہ آدمی خود بھول گیا، لہٰذا میں بھی چلا جاتا ہوں۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یہ نہیں سوچا کہ معاملہ چھوٹا سا ہے، کوئی بات نہیں۔ بلکہ تین دن تک اسی مقام پر انتظار فرماتے رہے۔ یہ وہ ایفائے عہد ہے جو کسی قانون کی مجبوری سے نہیں، بلکہ اعلیٰ اخلاق کا نتیجہ تھا ۔

قریش کے قاصد کو واپس بھیجا:

حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قریش نے مجھے اپنا قاصد بنا کر مدینہ بھیجا۔ جب میں رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس پہنچا اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی محبت کا چَراغ جل اٹھا۔ میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! مجھے مسلمان کر لیجیے، میں اب قریش کے پاس واپس نہیں جاؤں گا۔

یہ سن کر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:میں نہ عہد شکنی کرتا ہوں اور نہ قاصدوں کو قید کرتا ہوں۔ تم ابھی واپس جاؤ۔([6])

عہد و پیمان کا دائرہ :

رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایفائے عہد کا جو درس دیا وہ صرف مسلمانوں سے کیے گئے وعدوں تک محدود نہیں تھا بلکہ  آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کفار و مشرکین سے  کیے  ہوئے وعدے بھی  پورے  کیے۔

آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو مہمات پر بھیجتے ہوئے انہیں یہ تعلیم دیتے:

اللہ کے نام پر، اللہ کی راہ میں نکلو، جو اللہ کا انکار کرے اس سے جنگ کرو، (مگر) دھوکہ نہ کرو، وعدہ نہ توڑو، ناک کان نہ کاٹو، بچے قتل نہ کرو۔([7])

 غزوۂ بدر اور وعدے کی پاسداری:

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے والد ابو حُسیل رضی اللہ عنہ غزوۂ بدر میں شرکت کے لیے نکلے، مگر راستے میں کفارِ قریش نے ہمیں پکڑ لیا اور پوچھا کہ کیا تم محمد (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کے ساتھ ہو؟ ہم نے کہا: نہیں، ہم تو صرف مدینہ جا رہے ہیں۔ قریش نے ہم سے یہ وعدہ لیا کہ ہم جنگ میں شریک نہیں ہوں گے، اور پھر ہمیں چھوڑ دیا۔ہم رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پورا واقعہ بیان کیا۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:ہم کفار سے کیا ہوا وعدہ پورا کریں گے، اور ان کے خلاف اللہ سے مدد مانگیں گے۔([8])

آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دونوں کو مدینہ واپس بھیج دیا اور انہیں جنگ میں شریک ہونے سے روک دیا۔ غور کیجیے! غزوۂ بدر میں تین سو تیرہ افراد تھے جن کے مقابل ایک ہزار کا لشکر تھا۔ فوجی لحاظ سے ہر تجربہ کار کمانڈر یہی کہتا کہ یہ دو افراد رکھ لو، مگر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس موقع پر بھی وعدہ کو پورا فرمایا۔

صلحِ حدیبیہ اور ایفائے عہد:

6ہجری میں صلحِ حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا جو ایفائے عہد کی تاریخ میں ایک بے مثال اور ناقابلِ فراموش باب ہے۔ مسلمانوں نے عمرے کا ارادہ کیا تھا مگر مشرکینِ مکہ نے انہیں روک لیا، اور ایک معاہدہ طے پایا جس کی شقیں بظاہر مسلمانوں کے لیے نقصان دہ تھیں، مگر رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اللہ تعالیٰ کی حکمت پر بھروسہ کرتے ہوئے انہیں قبول فرمایا۔

معاہدے کی ایک اہم شق یہ تھی کہ اگر مکہ سے کوئی مسلمان ہو کر مدینہ آ جائے تو اسے واپس کر دیا جائے گا، جبکہ مسلمانوں کا کوئی فرد مکہ جائے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔ یہ شق سننے میں بڑی تکلیف دہ لگتی تھی، اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پریشان تھے، حتیٰ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اس پر اپنی بے چینی کا اظہار کیا۔

ابھی معاہدہ لکھا ہی جا رہا تھا کہ اچانک ایک دل سوز منظر سامنے آ گیا۔

حضرت ابوجندل بن سہیل رضی اللہ عنہ، جو قریش کے سردار سہیل بن عمر کے فرزند تھے، زنجیروں میں جکڑے ہوئے، ظلم کی جیتی جاگتی تصویر بنے، لڑکھڑاتے قدموں سے کسی طرح رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس پہنچ گئے۔ وہ مسلمان ہو چکے تھے اور قریش نے انہیں قید کر کے اذیتیں دے رکھی تھیں۔

ابوجندل کے والد سہیل نے فوری طور پر ان کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ ابھی تو معاہدہ مکمل نہیں ہوا، لیکن وہ نہ مانے، بالاخر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے زبانی معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے حضرت ابوجندل کو واپس کر دیا اور فرمایا:اے ابوجندل! صبر کرو اور اللہ سے اجر کی امید رکھو، بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اور ان لوگوں کے لیے جو تمہارے ساتھ ہیں بہت جلد نجات کا راستہ نکال دے گا۔([9])

حضرت ابو بصیر رضی اللہ عنہ کا واقعہ:

صلحِ حدیبیہ کے بعد حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ مکہ سے نکل کر مدینہ پہنچ گئے۔ قریش نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے انہیں واپس کر دیا، حالانکہ وہ مسلمان تھے۔ ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے راستے میں خود کو آزاد کر لیا اور بحرِ احمر کے ساحل کے قریب ایک مقام پر رہنے لگے۔ رفتہ رفتہ وہاں ان مسلمانوں کی ایک جماعت اکٹھی ہو گئی جنہیں مکہ میں ایمان کی وجہ سے اذیتیں دی جا رہی تھیں اور جن پر معاہدے کی پابندی لاگو نہیں تھی کیونکہ معاہدہ صرف انہی کا تھا جو رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ تھے۔

قریش کے قافلے جب اس راستے سے گزرتے تو ان کے ہتھے چڑھ جاتے ،قریش اس صورتحال سے اتنے تنگ آ گئے کہ خود رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس آئے اور درخواست کی کہ معاہدے کی اس شق کو ختم کر دیا جائے اور ان لوگوں کو مدینہ بلا لیا  جائے۔([10])

 نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دشمنوں کا اعتراف:

حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرت کے بارے میں گواہی صرف آپ کے چاہنے والوں نے نہیں دی، بلکہ آپ کے سخت ترین دشمنوں نے بھی اس حقیقت کا کھلے دل سے اعتراف کیا کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کبھی وعدہ نہیں توڑتے۔

جب رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسلام کی دعوت مختلف بادشاہوں کو خطوط کے ذریعے بھیجی تو روم کے بادشاہ ہرقل نے اس موقع پر ابوسفیان کو بلوایا۔ ابوسفیان اس وقت ایمان نہیں لائے تھے اور مکہ کے قریش کے سرکردہ سردار تھے۔ ہرقل نے ان سے کئی سوال کیے اور ان میں سے ایک اہم سوال یہ تھا:کیا وہ (یعنی نبی) وعدوں اور معاہدوں کو توڑتے ہیں؟ ابوسفیان نے جواب دیا:نہیں۔ اس پر ہرقل نے کہا:انبیاء کی شان یہی ہوتی ہے کہ وہ وعدہ خلافی اور معاہدہ شکنی نہیں کرتے۔([11])

ابوسفیان نے بعد میں اعتراف کیا کہ اس موقع پر اگر مجھے جھوٹ بولنے کی شرم نہ ہوتی تو میں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے خلاف کوئی نہ کوئی بات کہہ دیتا، مگر سچ یہی تھا جو میں نے کہا۔

اسی طرح صلحِ حدیبیہ کے اگلے سال جب عمرۃ القضاء کا موقع آیا اور رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مکہ تشریف لائے، تو مکّہ کے ایک سردار مکرز بن حفص نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے کھڑے ہو کر کہا:آپ نہ بچپن میں عہد شکنی کرنے والے جانے گئے اور نہ بڑے ہونے کے بعد، بلکہ آپ تو حسنِ سلوک اور وفاداری کے حوالے سے معروف و مشہور ہیں۔([12])

ایفائے عہد اور معاشرے کی بنیاد:

آج کے دور میں اگر ہم معاشرے کی خرابیوں کا جائزہ لیں تو ان میں سے بہت سی خرابیاں کسی نہ کسی طرح وعدہ خلافی سے جڑی ہوئی ملتی ہیں۔

انسانی معاشرہ اعتماد پر قائم ہے۔ اگر وعدے کا اعتبار نہ رہے تو پھر کوئی کسی پر بھروسہ نہیں کرتا، کاروبار رک جاتے ہیں، تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں، خاندان بکھر جاتے ہیں، اور پوری سماجی ساخت ہل جاتی ہے۔

اس حقیقت کو رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے چودہ سو سال پہلے بیان فرمایا تھا۔ آج کی زبان میں کہیں تو ”Reputation اور Trustکے بغیر کوئی نظام نہیں چلتا۔

آج کا مسلمان اور ایفائے عہد کا بحران:

رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے امتی اور عاشق و محب ہونے کے ناطے آج ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ایفائے عہد آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نمایاں ترین اخلاقِ کریمانہ میں سے ایک ہے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نہ صرف قولاً اس کی تعلیم دی بلکہ اپنی پوری حیاتِ مبارکہ میں اس کا ایسا عملی نمونہ پیش فرمایا جو قیامت تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے وعدہ پورا کرنے کو ایمان، دیانت اور حسنِ اخلاق کی علامت قرار دیا، جبکہ وعدہ خلافی کو نفاق، بدعہدی اور اخلاقی پستی کی نشانی بتایا۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذاتِ اقدس دوستوں اور دشمنوں سب کے نزدیک صدق، امانت اور وفاداری کا اعلیٰ ترین نمونہ سمجھی جاتی تھی۔

لیکن ایک ہم ہیں کہ معمولی سے فائدے، وقتی دباؤ یا ذاتی سہولت کے لیے اپنے وعدوں کو غیر اہم سمجھ لیتے ہیں۔

عصرِ حاضر میں جبکہ وعدہ خلافی، بدعہدی اور اعتماد شکنی مختلف معاشرتی، تجارتی مسائل کی بنیادی وجوہات بن چکی ہیں، سیرتِ نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا یہ پہلو ہمارے لیے خصوصی توجہ کا طالب ہے۔  اگر مسلمان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اسوۂ حسنہ کو اپناتے ہوئے ایفائے عہد کو اپنا شعار بنا لیں تو باہمی اعتماد بحال ہو سکتا ہے، معاشرتی تعلقات مضبوط ہو سکتے ہیں اور ایک مثالی اسلامی معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے وعدوں، معاہدوں اور ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرتِ مبارکہ کو اپنا نمونہ بنائے اور صدق و وفا کے ان اوصاف کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنائے، کیونکہ دنیا و آخرت کی کامیابی اسی میں ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ذمہ دار مرکز خدمۃ الحدیث، حدیث ریسرچ سینٹر کراچی



([1])مسند احمد،4/271،حدیث:12386

([2])مسلم،ص50،حدیث:211

([3])بخاری،4/446،حدیث:7111

([4])مستدرک للحاکم،2/461،حدیث:2623

([5])ابوداؤد،4/388،حدیث:4996

([6])سنن ابو داؤد،3/109،حدیث:2758

([7])مسلم،ص738، حدیث نمبر: 4522

([8])مسلم،ص763،حدیث:4639

([9])مسند احمد،31/218،219

([10])سیرت ابن ہشام،ص434، 435

([11])بخاری،1/10- 11،حدیث:7ملتقطاً

([12])دلائل النبوۃ للبیہقی،4/321


Share