اپنےبزرگو ں کو یادرکھئے
ربیعُ الاول اسلامی سال کا تیسرا مہینا ہے۔ اس میں جن صحابَۂ کرام، اَولیائے عظام اور علمائے اسلام کا وِصال یا عُرس ہے، ان میں سے106کا مختصر ذکر ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ ربیعُ الاوّل 1439ھ تا 1447ھ کے شماروں میں کیا جاچکا ہے۔ مزید 13کا تعارف ملاحظہ فرمائیے:
صحابَۂ کرام علیہمُ الرِّضوان:
(1)حضرت ابودجانہ سماک بن خرشہ خزرجی انصاری رضی اللہُ عنہ بدری صحابی اور بہادر و نڈر مجاہد تھے، مواخاتِ مدینہ میں قدیم الاسلام مہاجر صحابی حضرت عتبہ بن غزوان قرشی رضی اللہُ عنہ کے بھائی بنائےگئے، غزوۂ اُحد اور جنگِ یمامہ میں شجاعت کے جوہر دکھائے، تمام غزوات میں شریک رہے، جنگِ یمامہ (ربیع الاول 12ھ) میں شہید ہوئے۔ ([1])
(2)حضرت ابوسہیل عبداللہ بن سہیل قرشی عامری رضی اللہُ عنہ کی پیدائش 13قبل بعثت مکہ مکرمہ میں قریش کے ذہین و معزز سردار حضرت سہیل بن عمرو کے ہاں ہوئی۔ آپ اولین مسلمانوں سے ہیں،حبشہ و مدینہ ہجرت کی، غزوۂ بدر سمیت تمام غزوات میں شریک ہوئے، معرکۂ یمامہ(ربیع الاول) 12ھ میں 38سال کی عمر میں جام شہادت نوش فرمایا۔([2])
علمائے اسلام رحمہمُ اللہ السَّلام:
(3)محدثِ کبیر شیخ عبداللہ بن نُمَیر خارفی ہمدانی رحمۃُ اللہِ علیہ روای حدیث، ثقہ و صدوق، کثیرالروایات اور فنِ حدیث میں نمایاں شخصیت تھے۔آپ کا وصال ربیع الاول 199ھ کو کوفہ میں ہوا۔نمازِ جنازہ ان کے قریبی دوست شیخ محمد بن بشر عبدی نے پڑھائی۔([3])
(4)قاضی حلب شیخ ابومحمد عبداللہ بن محمد جمال مالکی نحریری رحمۃُ اللہِ علیہ کی پیدائش 740ھ میں ہوئی اور12ربیع الاول 807ھ کو قصبہ سرمین (شام) میں وصال ہوا۔ آپ جید عالم دین و فقیہ، قاضی و مدرس، ذہین و فطین، فقیہ، علم حدیث، فقہ، تاریخ اور تصوف کے ماہر، خوش مزاج تھے۔([4])
(5)شیخ عبد الکبیر بن شیخ محمد بن عبد الواحد حسنی کتانی رضی اللہُ عنہ جلیل القدر امام، محدث، مسندالعصر، وسیع المطالعہ، متبع سنت، بہترین کاتب، شیخ طریقت، منکسرالمزاج، الانتصار لآل النبی المختار سمیت کئی کتب و رسائل کے مصنف اور صالح بزرگ تھے۔ بانی طریقہ کتانیہ شیخ محمد بن عبدالکبیر حسنی کتانی آپ کے قابلِ فخر فرزند تھے۔ آپ کا وصال23یا26 ربیع الاول 1333ھ کو ہوا، تدفین زاویہ کتانیہ محلہ قطانین، فاس، مغرب (مراکش) میں کی گئی۔([5])
(6)تلمیذِ محدثِ اعظم پاکستان، خطیبِ پاکستان حضرت مولانا محمد بشیر احمد رضوی رحمۃُ اللہِ علیہ کی پیدائش1346ھ کو آبائی گاؤں 362گ ب جھوک منصب خاں تحصیل جڑانوالہ ضلع فیصل آباد کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی اور وصال 10 ربیع الاول1425ھ کو ہوا۔تدفین مائی شاہ فریدیہ قبرستان ساہیوال سٹی میں کی گئی۔بعد میں مزار کی تعمیر ہوئی۔ آپ فاضل جامعہ رضویہ مظہرالاسلام فیصل آباد، جید عالم دین، بہترین خطیب اور جامع مسجد مہاجرین و مسجد مدینہ کے امام تھے۔([6])
(7)تلمیذ حجۃُ الاسلام و صدرُ الشریعہ، شیخ العلماء حضرت مولانا غلام جیلانی اعظمی گھوسی رحمۃُ اللہِ علیہ اعظم گڑھ میں 1320ھ میں پیدا ہوئے اور 6ربیع الاول 1397ھ کو جائے پیدائش میں فوت ہوئے۔ آپ استاذالعلماء، شیخ الحدیث، ماہر عربی ادب، سلسلہ قادریہ برکاتیہ رضویہ کے مجاز، صدر المدرسین اور محشی کتب درس نظامی تھے۔([7])
(8)علمبردارِ مسلکِ اعلیٰ حضرت مولانا حافظ محمد اسلم رضوی رحمۃُ اللہِ علیہ کی پیدائش 1951ء کو محلہ حسین پورہ،حافظ آباد پنجاب میں ہوئی اور 24ربیع الاول 1434ھ کو وصال فرمایا، مزار جامعہ اسلامیہ رضویہ عیدگاہ مسجد، گرجاکھ ضلع گوجرانوالہ سے متصل ہے۔ آپ حافظِ قرآن، فارغ التحصیل گلستان محدثِ اعظم فیصل آباد، مرید نباض قوم علامہ حاجی ابوداؤد محمد صادق، کئی مساجد کے امام و خطیب اور بانی تھے۔([8])
اولیائے کرام رحمہمُ اللہ السَّلام:
(9)حضرت سیّد محمد مدنی حسنی رحمۃُ اللہِ علیہ کی ولادت 12 رمضان 299ھ کو مدینۂ منورہ میں ہوئی اور یہیں 17ربیع الاول 415ھ کو طویل عمر پاکر فوت ہوئے، تدفین جنت البقیع میں کی گئی، آپ نے اپنے والد حضرت سیّد داؤد امیر رحمۃُ اللہِ علیہ سے 349ھ میں خلافت پائی۔ آپ عالم، فاضل اور متقی تھے۔([9])
(10)حضرت سید گدا رحمٰن ثانی قندھاری رحمۃُ اللہِ علیہ حضرت سید شمس الدین عارف رحمۃُ اللہِ علیہ کے خلیفہ، حضرت سید محبوب شاہ قندھاری رحمۃُ اللہِ علیہ کے فرزند دلبند تھے، آپ ظاہری وباطنی حسن سے مالامال اور طریقت کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے، آپ نے 12ربیع الاول917ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک خیبر بالائی اوسط میں ہے۔([10])
(11)حضرت خواجہ زاہد وخْشی رحمۃُ اللہِ علیہ علّامہ خواجہ یعقوب چَرخی کے نواسے اور خواجہ عبیداللہ احرار رحمۃُ اللہِ علیہ کے مرید و خلیفہ تھے، آپ جامع علم ظاہری و باطنی، مرشد کامل، تصرف عظیم اور استعداد و قابلیت میں اعلیٰ تھے۔آپ کا وصال یکم ربیع الاول 936ھ کو کچک وخشی و َر (Kichik Vakhshivor) صوبۂ سرخندریا، ازبکستان میں ہوااوریہیں مزار ہے۔([11])
(12)عروۃ الوثقیٰ، مجدالدین حضرت خواجہ محمد معصوم سرہندی رحمۃُ اللہِ علیہ کی ولادت 10شوال 1007ھ کو سرہند شریف (مشرقی پنجاب،ہند) میں ہوئی اور یہیں 9ربیع الاول 1079ھ کو وفات پائی، آپ جید عالم دین، شیخ طریقت، والد گرامی حضرت مجددالف ثانی رحمۃُ اللہِ علیہ کے سچے جانشین اور کثیرالفیض بزرگ تھے۔([12])
(13)صاحبزادۂ مخدوم الاولیاء، تاج الاصفیاء حضرت مولانا سید مصطفیٰ اشرف رحمۃُ اللہِ علیہ کی پیدائش ذوالقعدہ 1311ھ کو ہوئی اور 17ربیع الاول 1376ھ کو وصال فرمایا۔ آپ جید عالم دین، شیخ طریقت اور شبیہ غوث اعظم سید علی حسین اشرفی کے صاحبزادے اور خلیفہ تھے، مولانا سید ابوالفتح مجتبیٰ اشرف اور علامہ سید حامد اشرف آپ کے قابل فخر صاحبزادگان ہیں۔([13])
(1)اسد الغابۃ، 2/524، 525-6/102، 103(2)الاستیعاب، 3/57 (3)طبقات ابن سعد،6/364(4)الضوء اللامع لاھل القرن التاسع،5/42، 43 (5)موسوعہ اعلام المغرب، جز8، 2886، 2887(6)ایک علمی گھرانے کا سفر، ص2 تا5 (7)سیرت صدر الشریعہ، ص231، 232(8)پمفلٹ:مختصرسوانح مولانا محمد اسلم رضوی (9)اتحاف الاکابر،ص160-تذکرہ مشائخ قادریہ، ص56 (10)تذکرہ مشائخ قادریہ فاضلیہ، 109، 110(11)حضرات القدس، دفتراول، ص248، 255 (12)تاریخ مشائخ نقشبند،401تا 418(13)مخدوم الاولیاء، ص392، 393وغیرہ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* رکن مرکزی مجلسِ شوریٰ(دعوتِ اسلامی)و نگران مجلس ماہنامہ فیضان مدینہ، کراچی
Comments