جنوبی افریقہ اور لیسو تھو  کا سفر


جنوبی افریقہ اور لیسوتھو کا سفر



اَلحمدُ لِلّٰہ! دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں کے سلسلے میں اس سال بر اعظم افریقہ کے دو ممالک جنوبی افریقہ اور لیسوتھو کے چند روزہ سفر کی سعادت حاصل ہوئی۔

 25 مارچ 2026ء بروز بدھ جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ پہنچے جہاں عیدالفطر کا چوتھا دن تھا۔ رات کے وقت فیضانِ مدینہ جوہانسبرگ میں اسلامی بھائیوں کے ساتھ عید کے حوالے سے ملاقات، محفلِ نعت اور مختصر بیان کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد عاشقانِ رسول کے ساتھ لنگر تناول کرنے کا شرف بھی نصیب ہوا۔یاد رہے جوہانسبرگ جنوبی افریقہ کا سب سے بڑا اور معاشی اعتبار سے اہم ترین شہر ہے۔ مختلف زبانوں، ثقافتوں اور قوموں کے لوگ یہاں آباد ہیں، جبکہ مسلمانوں کی بھی ایک اچھی تعداد موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں دینی سرگرمیاں بھی بھرپور انداز میں جاری ہیں اور اَلحمدُ لِلّٰہ! دعوتِ اسلامی کا فیضانِ مدینہ عاشقانِ رسول کے لیے ایک اہم روحانی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔

اگلے دن جمعرات کو جوہانسبرگ سے پریٹوریا (Pretoria) پہنچے، جوہانسبرگ سے پریٹوریا کا فاصلہ تقریباً ساٹھ کلومیٹر ہے۔ یہ شہر جنوبی افریقہ کا انتظامی دارالحکومت کہلاتا ہے اور علمی و دینی سرگرمیوں کے اعتبار سے بھی اہم مقام رکھتا ہے۔  پریٹوریا میں واقع جامع مسجد  فیضانِ جیلان میں حضرت علامہ مولانا مفتی عبدالنبی حمیدی رحمۃ اللہ علیہ کے ایصالِ ثواب کے سلسلے میں ایک سنتوں بھرا اجتماع منعقد کیا گیا تھا۔اَلحمدُ لِلّٰہ! اس موقع پرمجھے بیان کرنے کی سعادت حاصل ہوئی اور ایک انتہائی خوش آئند خبر سننے کو ملی کہ حضرت مفتی عبدالنبی حمیدی رحمۃ اللہ علیہکی گرانقدر تفسیرِ قرآن”مفتاحُ الاحسان“ کی اشاعت کا اعلان اور رونمائی کی جا رہی ہے۔ آپ اس وقت دنیا سے پردہ فرما چکے ہیں مگر اللہ پاک نے مفتی صاحب کو یہ سعادت بخشی کہ آپ کی علمی کاوش ایک عظیم صدقۂ جاریہ بن کر امتِ مسلمہ تک پہنچ رہی ہے۔

مفتی عبدالنبی حمیدی رحمۃُاللہ علیہ کی علمی خدمات صرف اسی تفسیر تک محدود نہیں بلکہ آپ نے امامِ اہلِ سنت، امام احمد رضا خان رحمۃُاللہ علیہ کے شہرۂ آفاق ترجمۂ قرآن” کنزالایمان “ کا انگریزی ترجمہ بھی کیا، جو مکتبۃ المدینہ سے شائع ہو چکا ہے۔ اسی طرح انگلش میں جوازِمیلادالنبی(صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)، مسجد میں ذکر بالجہرکے جوازکی صورت،مسئلہ تین طلاق، شانِ امیرِمعاویہ وغیرہ موضوعات پر کتب ورسائل اورتفصیلی فتاویٰ بھی تحریرفرمائے،نیز نو مسلم افراد کی دینی راہنمائی کے لیے ”ویل کم ٹو اسلام“نامی کتاب تصنیف فرمائی۔

اگلے دن جمعہ تھا تو فیضانِ مدینہ جوہانسبرگ میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے حاضری ہوئی اور اَلحمدُ لِلّٰہ! پہلے بیان کرنے اور پھر نماز پڑھانے کی سعادت حاصل ہوئی۔ نماز کے بعد خیرخواہی اور پھر ایک طویل سفر کے لیے روانگی تھی اور ہمارا یہ سفر فری اسٹیٹ کا تھا جوجنوبی افریقہ کاایک اہم صوبہ ہے، لیڈی برانڈ (Ladybrand) اسی صوبے کا ایک خوبصورت سرحدی شہر ہے۔

لیڈی برانڈ میں واقع دعوتِ اسلامی کے عظیم الشان فیضانِ مدینہ اور جامعۃ المدینہ کا وزٹ اس سفر کے یادگار ترین لمحات میں سے ایک تھا۔ دنیا کے ایک نسبتاً دور دراز علاقے میں اتنا منظم، خوبصورت اور فعال دینی مرکز دیکھ کر دل خوشی سے جھوم اٹھا۔

جامعۃ المدینہ کی عمارت، طلبہ کا ماحول اور دینی سرگرمیاں اس حقیقت کی گواہی دے رہی تھیں کہ دعوتِ اسلامی جہاں بھی پہنچتی ہے وہاں علمِ دین کی شمع روشن کر دیتی ہے۔ واقعی ایمان تازہ ہو گیا کہ دنیا کے اس کونے میں بھی دعوتِ اسلامی نے علمِ دین کا اتنا خوبصورت مرکز قائم کر رکھا ہے۔

اس کے بعد اگلے دن ہفتے کو ہم افریقہ کے ایک دوسرے ملک ”لیسوتھو“ کے دار الحکومت ماسیرو (Maseru) پہنچے اور وہاں جامع مسجد الرؤف میں حاضری ہوئی۔ یہ ایک وسیع اور خوبصورت مسجد ہے۔ مسجد کے امام صاحب بھی دعوتِ اسلامی سے وابستہ اور ذمہ دار ہیں۔ مسجد کے ساتھ ہی جامعۃ المدینہ للبنات بھی قائم ہے جہاں بچیوں اور خواتین کی دینی تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری ہے۔

اَلحمدُ لِلّٰہ! یہاں ایک شاندار اجتماع منعقد ہوا جس میں کثیر تعداد میں اسلامی بھائیوں نے شرکت کی جبکہ اسلامی بہنوں نے بھی پردے کے اہتمام کے ساتھ اجتماع میں شرکت کی۔ بیان کے بعد لنگر کا اہتمام تھا اور پھر رات گئے تک ملاقاتوں، سوال و جواب اور دینی مشاورت کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا کہ ایک چھوٹے سے افریقی ملک میں بھی دعوتِ اسلامی کا پیغام محبتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ لوگوں کے دلوں تک پہنچ رہا ہے۔اسی رات دوبارہ جنوبی افریقہ واپسی ہوئی اور لیڈی برانڈ میں قیام کیا۔

اگلے روز اتوار کو یہاں سے جوہانسبرگ واپسی کا سفر شروع ہوا۔ راستے میں جنوبی افریقہ کے شہر”ویلکم (Welkom)“ میں قیام کا موقع ملا۔ یہاں دعوتِ اسلامی نے فیضانِ مدینہ کے لیے جگہ حاصل کر رکھی ہے جو مستقبل میں دینی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز بنے گی، اِن شآءَ اللہ۔نمازِ عصر کے بعد یہاں ایک سنتوں بھرا اجتماع منعقد ہوا جس میں بیان کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ مقامی اسلامی بھائیوں کا جوش و جذبہ اور دین سے محبت قابلِ رشک تھی۔اس کے بعد جوہانسبرگ واپسی ہوئی۔

30 مارچ تا 1 اپریل2026 سفر کے دوران جنوبی افریقہ کے ذمہ داران کے ساتھ مختلف نشستیں اور مشورے بھی ہوتے رہے۔ بالخصوص 16 اور 17 مئی کو منعقد ہونے والے دو روزہ عظیم اجتماع کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ اس اجتماع میں نگرانِ شوریٰ کی متوقع تشریف آوری کے پیشِ نظر تیاریوں کا جائزہ لیا گیا، مختلف شعبہ جات کی ذمہ داریوں پر گفتگو ہوئی اور دینی کاموں کے فروغ کے حوالے سے بھی اہم مشورے کیے گئےاور اس کے بعد جوہانسبرگ سے پاکستان واپسی ہوئی۔

اللہ پاک دعوتِ اسلامی کو مزید ترقی عطا فرمائے، اس سے وابستہ تمام عاشقانِ رسول کی کاوشوں کو شرفِ قبولیت بخشے اور ہمیں بھی اخلاص کے ساتھ دینِ متین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رکن شوریٰ و نگران مجلس مدنی چینل


Share