جنت میں رسول اللہ کی رفاقت
عَنْ اَبِیْ فِرَاسٍ رَبِیْعَۃَ بْنِ کَعْبٍ اَلْاَسْلَمِیِّ خَادِمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمِنْ اَھْلِ الصُّفَّۃِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: کُنْتُ اَبِیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاٰتِیْہِ بِوَضُوْئِہٖ وَحَاجَتِہٖ فَقَالَ:سَلْنِیْ، فَقُلْتُ: اَسْاَلُکَ مُرَافَقَتَکَ فِیْ الْجَنَّۃِ، فَقَالَ:اَوْ غَیْرَ ذٰلِکَ؟ قُلْتُ ہُوَ ذَاکَ قَالَ: فَاَعِنِّیْ عَلٰی نَفْسِکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُوْدِ۔ ([1])
ترجمہ:حضرت ابو فِراس رَبیعہ بن کَعْب اسلمی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے خادِم اور اہلِ صُفَّہ میں سے تھے، فرماتے ہیں کہ میں رات کو حضور نبیِ کریم، رءوفٌ رَّحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر رہا کرتا تھا اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وضو اور دیگر حاجات کے لیے پانی لایا کرتا تھا، ایک دن آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم (کے جودوکرم کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا اور آپ) نے مجھ سے ارشاد فرمایا: (اے ربیعہ!) مانگ کیا مانگتا ہے؟ میں نے عرض کی:یارسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! میں جنت میں آپ کا ساتھ مانگتا ہوں۔آپ نے فرمایا: اس کے علاوہ اور کچھ؟ میں نے عرض کی:بس یہی۔ تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: تو پھر سجدوں کی کثرت کر کے اپنے معاملے میں میری مدد کرو۔
سَیِّدُنَا ربیعہ بن کعب کامختصرتعارف:
آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوفراس ہے، اسلمی ہیں، اصحاب صفّہ میں سے تھے، قدیم الاسلام صحابی ہیں، حضور نبیِ کریم رءوفٌ رَّحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سفر وحضر کے خاص خادم ہیں،63 ہجری میں آپ رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا۔([2])
رسول اللہ کی کرم نوازی کی وجوہات:
مذکورہ حدیثِ پاک میں ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:مانگو! کیا مانگتے ہو؟ شارحین نے اس کی کئی وجوہات بیان فرمائی ہیں۔ چنانچہ
حضرت علامہ ملا علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حضور نبیِ کریم رءوف رحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےسَیِّدُنَا ربیعہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:مانگو کیا مانگتے ہو؟ یعنی مجھ سے اپنی حاجت بیان کرو۔
علامہ ابنِ حجر ہیتمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:یعنی تم نے جو میری خدمت کی ہے اُس خدمت کے صلے میں، میں تمہیں تحفہ دوں۔ کیونکہ کریموں کی یہ شان ہوتی ہے کہ جو اُن کی خدمت کرتا ہے اُسے اِنعامات سے نوازتے ہیں اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے زیادہ کریم کوئی نہیں۔([3])
رسول اللہ کے اِختیارات کی وُسعت:
پیارے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کا صراحتاً بیان ہے کہ حضور نبیِ کریم رءوف رحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مطلقاً فرمایا کہ”مانگو جو مانگنا ہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ پاک نے آپ کو زمین وآسمان اوردنیا وآخرت کے تمام خزانوں پر ایسا اختیار عطا فرمایا ہے کہ آپ جسے چاہیں جو چاہیں عطا فرمادیں اسی وجہ سے ہمارے ائمہ کرام نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خصوصیات میں اس بات کو شمار فرمایا ہےکہ آپ کو اس بات کا اختیار ہے کہ کسی بھی شخص کو کسی بھی حکم کے ساتھ چاہیں خاص فرمادیں۔چنانچہ حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی گواہی کو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دوشخصوں کی گواہی کے برابر فرمایا۔ علامہ نووی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:شارِع یعنی حضور نبی کریم رءوف رَّحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم عام حکم سے جس کو چاہیں خاص فرمادیں۔ جیسے کہ آپ نے حضرت ابوبُردہ بن نیار رضی اللہ عنہ اور اُن کے علاوہ بعض صحابۂ کرام کے لیے چھ ماہ کے بکرے کی قربانی کو جائز فرمایا۔ علمائے کرام نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خصوصیات میں اس بات کو بھی ذکر کیا ہے کہ اللہ پاک نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو جنت کا مالک کردیا ہے کہ آپ اس میں سے جو چاہیں جسے چاہیں جتنا چاہیں عطا فرمائیں۔([4])
فضل و کرم وکمال کے دریا:
لمعات التنقیح میں ہے:آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مطلقاً (بغیر کسی قید و شرط کے) فرمانا کہ”مجھ سےمانگو۔“اس سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ پاک نے آپ کو اپنے خزانوں میں سے ہر اس چیز کے عطاکرنے کا اختیار دیا ہے جوآپ عطا کرنا چاہیں اور یہ بھی اختیار دیا کہ آپ مانگنے والوں میں سے جس کو چاہیں جس چیز کے ساتھ چاہیں خاص فرمادیں، کیونکہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فضل و کرم اور کمال کے ایسے دریا ہیں جس کا کوئی ساحل نہیں ہے۔([5])
تمام کام رسول اللہ کے دستِ اقدس میں :
شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مطلقاً فرمایا: ”مانگو“ اور کسی طرح کی کوئی قید نہ لگائی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب کام رسول اللہ کے دستِ ہمت و کرامت میں ہیں جو کچھ چاہتے ہیں جس کے لیے چاہتے ہیں اپنے پروردگار کے اِذْن سے عطا فرماتے ہیں۔([6])
جہاں بانی عطا کردیں بھری جنت ہبہ کردیں
نبی مختارِ کل ہیں جس کو جو چاہیں عطا کردیں
مُرَافَقَت کا مطلب:
حکیم الامت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہ علیہ مرافقت کا معنیٰ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:یعنی مجھے آپ جنت میں اپنے ساتھ رکھیں، جیسے بادشاہ شاہی قلعہ میں اپنے خاص خادموں کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔([7])
سَیِّدُنَا ربیعہ پر بارگاہِ رسالت کی عطائیں :
پیارے اسلامی بھائیو! جب رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ربیعہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ مانگو تو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے فقط ایک ہی چیز مانگی اور وہ ہے:”جنت میں رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رفاقت۔“لیکن اس ایک چیز کے ضمن میں حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ کو بارگاہِ رسالت سے بہت سی چیزیں عطا ہوئیں۔ چنانچہ حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: خیال رہے کہ حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ نے اس جگہ حضور تاجدارِ کائنات، فخرِ موجودات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے حسبِ ذیل چیزیں مانگیں: *زندگی میں ایمان پر استقامت *نیکیوں کی توفیق *گناہوں سے کنارہ کشی *مرتے وقت ایمان پر خاتمہ *قبر کے حساب میں کامیابی *حشرمیں اعمال کی قبولیت *پل صراط سے بخیریت گزر *جنت میں ربّ کا فضل و بلندیِ مراتب۔یہ سب چیزیں صحابی نے حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے مانگیں اور حضور نے صحابی کو بخشیں، لہٰذا ہم بھی حضورسے ایمان، مال، اولاد، عزت، جنت، سب کچھ مانگ سکتے ہیں، یہ مانگنا سنتِ صحابہ ہے۔حضور کےلنگر سے یہ سب کچھ قیامت تک بٹتا رہے گا اور ہم بھکاری لیتے رہیں گے۔ صوفیاء فرماتےہیں کہ حضرت ربیعہ (رضی اللہ عنہ) نے حضور سے حضور ہی کو مانگا مگر چونکہ حضور جنت میں ہی ملیں گے، لہٰذا جنت کا بھی ذکر کردیا۔([8])
کثرتِ سجود کے حکم کی حکمتیں :
پیارےاسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کثرت سے سجدے کرنے کا حکم اِرشاد فرمایا۔ شارِحینِ حدیث نے اس کی کئی حکمتیں بیان فرمائی ہیں۔چند حکمتیں پیش ِخدمت ہیں :
سجدوں کی کثرت قُربِ الٰہی کا سبب:
امام نَوَوِی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:(سجدوں کی کثرت قُربِ الٰہی کا سبب ہے۔) اِس کی تائید حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ایک دوسرے فرمان سے بھی ملتی ہے:سجدے کی حالت میں بندہ اپنے ربّ کے سب سے قریب ہوتا ہے۔ ([9])
سجدے میں عجزواِنکسار ہے:
حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: سجدے میں انتہا درجے کی تواضع اور اِنکسار پائی جاتی ہے اور سجدے میں بندہ اللہ پاک کے لیے اپنی عبودیت کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ سجدے میں آدمی اپنے جسم کے سب سے زیادہ قابل احترام حصے یعنی اپنے چہرے کو ایک ادنیٰ سی چیز جسے لوگ اپنے پیروں اور جوتوں تلے روندتے ہیں یعنی مٹی پر سر رکھ کر ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی حقارت اور اپنی ذات کے اَدنیٰ ہونے کا اِظہار کرتا ہے۔([10])
سجدہ نماز کے علاوہ بھی عبادت:
سجدوں کی کثرت کے حکم کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ سجدہ بذاتِ خود ایک عبادت ہے جبکہ قیام اور رکوع نماز میں تو عبادت ہیں لیکن نمازکے علاوہ عبادت نہیں۔([11])
سجدوں کی کثرت کا معنیٰ:
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اِن سجدوں کی ادائیگی اِس طرح ہوگی کہ خدا کی رضا حاصل کرنے کے لیے کثرت سے نماز ادا کی جائے۔([12])
علامہ علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں: سجدوں کی کثرت کرنے سے مراد یہ ہے کہ کثرت سے نمازیں پڑھ کر سجدے کرو، سجدۂ تلاوت کرو اور سجدۂ شکر بجالایا کرو۔([13])
سجدے میں قربِ الٰہی کی زیادتی:
حضرت سیِّدُنا عُقبہ بن مسلم رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بندے کی کوئی خصلت اللہ پاک کو اس سے زیادہ پسند نہیں کہ وہ اللہ سےملاقات کو پسند کرے اوربندہ خدائے ذوالجلال کی بارگاہ میں سجدہ کرنے کے علاوہ کسی گھڑی میں اس کا زیادہ قرب نہیں پاتا۔([14])
سجدے سے متعلق بزرگانِ دین کے اَحوال و اَقوال
پیارےاسلامی بھائیو! سجدہ ایک عظیم عبادت ہے، بزرگانِ دین سجدوں کی کثرت فرمایا کرتے تھے۔ چند بزرگانِ دین کے احوال پیشِ خدمت ہیں :
روزانہ ایک ہزار سجدے:
حضرت سیِّدُنا علی بن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے متعلق منقول ہے کہ آپ ہر روز ایک ہزار سجدے کرتے تھے اور لوگ انہیں”سجَّاد“ یعنی بہت زیادہ سجدے کرنے والا کہتے تھے۔([15])
کسی چیز پر افسوس نہیں ہوتا:
حضرت سَیِّدُنَا مَسروق رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:مجھے اللہ پاک کے لیے سجدہ کرنے کے سوا دنیا کی کسی چیز کے چھوٹنے پر افسوس نہیں ہوتا۔([16])
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ذمہ دار شعبہ فیضانِ حدیث، المدینۃ العلمیہ Islamic Research Center کراچی
Comments