توحید کا نبوی بیان
اسلام کی بنیاد توحید پر قائم ہے۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایک مانا جائے، اسی کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔(دیکھئے:التعریفات للجرجانی، ص 51)
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی پوری زندگی میں لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور اسے دینِ اسلام کی اصل بنیاد قرار دیا۔ قرآن و حدیث میں توحید کی بڑی اہمیت بیان کی گئی ہے کیونکہ انسان کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ صرف ایک اللہ پر ایمان رکھے۔
توحید کی دعوت اور اس کی اہمیت:
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سب سے پہلے لوگوں کو توحید کی تعلیم دی اور اس کی اہمیت بیان فرمائی ہے،آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: يٰاَيُّهَا النَّاسُ قُوْلُوْا لَااِلٰهَ اِلَّا الله تُفْلِحُوْا ترجمہ: اے لوگوں کہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تم کامیاب ہوجاؤ گے۔(مسند احمد، 5 / 423، حدیث: 16023)
آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ اَنَّهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ، دَخَلَ الْجَنَّةَترجمہ:جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ یقین رکھتا تھا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں تو وہ شخص جنت میں داخل ہوگا۔
(مسلم، ص 42، حدیث: 136)
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے واضح فرمایا کہ انسان کی نجات کا اصل ذریعہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان ہے، لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ صرف زبان سے کہنے کا نام ایمان نہیں بلکہ دل سے اس پر یقین رکھا جائے، ساتھ ہی ساتھ اس کی عبادت کرنا بھی ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ کا بندوں پر حق:
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:فَاِنَّ حَقُّ اللَّهِ عَلٰى عِبَادِهٖ اَنْ يَعْبُدُوهُ، وَلَا يُشْرِكُوا بِهٖ شَيْئًااللہ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔
(بخاری، 2 / 270، حدیث: 2856)
اس حدیثِ مبارکہ میں نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے توحید کی اصل حقیقت کو نہایت آسان انداز میں بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ انسان صرف اسی کی عبادت کرے، اسی سے دعا مانگے، اسی پر بھروسہ کرے اور اپنی تمام عبادات کو خالص اسی کے لیے انجام دے۔
شرک کی مذمت اور اس سے بچنے کی تاکید:
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے شرک سے بھی سختی کے ساتھ منع فرمایا، آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے سوال کیا گیا سب سے بڑا گناہ اللہ کے نزدیک کونسا ہے؟ تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ ترجمہ:یہ کہ تم اللہ کے لیے کسی کو ہم پلہ ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔
(دیکھئے: بخاری، 3 / 166، حدیث: 4477)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید اسلام کی بنیاد ہے اور شرک سب سے خطرناک گناہ ہے۔ انسان جب کسی اور کو اللہ کے برابر سمجھے یا عبادت میں کسی کو شریک کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے عظیم حق کو پامال کرتا ہے۔ اسی لیے قرآن و حدیث میں بار بار شرک سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔
توحید پر قائم رہنے کی فضیلت:
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے توحید پر قائم رہنے کی بڑی فضیلت بھی بیان فرمائی ہے۔ایک آدمی نبیِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول ! واجب کرنے والی دو باتیں کون سی ہیں؟ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ.جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہوتو وہ جنت میں جائے گا، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرا، وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔
اس حدیث میں توحید کو جنت کا راستہ قرار دیا گیا ہے، کیونکہ توحید انسان کے عقیدے کو پاک کرتی ہے اور بندے کا تعلق اپنے رب کے ساتھ مضبوط بناتی ہے۔ جب انسان صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے، اسی کی عبادت کرتا ہے اور ہر حال میں اسی پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضل سے جنت میں داخل فرما دیتا ہے۔
آخر میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ توحید اسلام کی روح اور بنیاد ہے۔ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی تعلیمات کے ذریعے لوگوں کو اللہ کی وحدانیت سمجھائی اور شرک سے بچنے کی تاکید فرمائی۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ خالص توحید پر قائم رہے اور اپنی عبادت کو صرف اسی کے لیے خالص کرے۔ یہی دنیا اور آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔

Comments